’فوج مداخلت کی پوزیشن میں نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز کے راہنماؤں میاں نواز اور شہباز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے اور پنجاب میں لیگی حکومت کے خاتمے سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی ملک میں محاذ آرائی کی سیاست کا باعث بن رہی ہے۔ لیکن نوے کی دہائی کے بر عکس جب یہ سیاسی دشمنی بار بار کی خفیہ اور ظاہری فوجی مداخلت کا باعث بنتی رہی تھی، سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فوجی اسٹیبلشمنٹ پاکستانی سیاست میں مداخلت کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے اقتدار کے خاتمے کے بعد مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ مختلف اوقات میں ایک ہی جماعت کے وزیر اعظم اور صدر کے درمیان بار بار پیدا ہونے والی محاذ آرائی کو ختم کرنے کے لئے فوج نے مختلف مواقع پر مداخلت کی۔ بعض اوقات ڈھکے چھپے انداز میں اور چند ایک بار منظر عام پر آ کر فوجی جرنیلوں نے کامیاب مصالحت کی اور یہ سلسلہ جنرل پرویز مشرف کی بغاوت تک جاری رہا۔ لیکن ملکی دفاعی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت نہ تو ملکی سیاسی صورتحال اس نہج پر پہنچی ہے کہ جہاں فوجی مداخلت ضروری ہو جائے اور نہ ہی پاکستانی فوج اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ دیگر ادارے اس وقت کسی ایسے ایڈونچر کے لئے تیار ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستانی فوج اس وقت پاکستانی سیاست میں براہ راست مداخلت کرتی ہے جب اس کے مفاد کو سنگین خطرات لاحق ہو۔ ’یہ صورتحال اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب ملک تشدد کی لپیٹ میں ہو اور ملکی مشینری مفلوج ہو جائے۔ ادارے تباہ ہو رہے ہوں اور معیشت کا پہیہ جام ہو جائے۔‘ پروفیسر عسکری نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے لہٰذا فوجی مداخلت کا امکان موجود نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاست پر طویل عرصہ قابض رہنے والی فوجی نوکر شاہی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو محاذ آرائی شروع ہو رہی ہے اس پر بیک وقت پریشان اور خوش ہو گی۔ ’پریشانی کا سبب سیاستدانوں کی نا اہلی اور بچگانہ دشمنیاں ہیں اور خوشی انہیں اس بات پر ہو گی کہ یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو رہی ہے کہ انیس سو ننانوے کی دہائی میں ہونے والی فوجی مداخلتیں بلا جواز نہیں تھیں۔‘ بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ذاتی دوست سمجھے جانے والے دفاعی مبصر برگیڈئیر ریٹائرڈ شوکت قادر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستانی فوج اور اس کے ماتحت دیگر ادارے بعض دیگر مسائل میں اتنی بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ ان کے لئے سیاست میں مداخلت قریب قریب ناممکن ہے۔ ’بھارت دھمکیوں سے باز نہیں آ رہا، شمالی پاکستان میں طالبان اور شدت پسند دیگر گروپوں کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے اور نئی امریکی انتظامیہ خطے کے بارے میں نئی پالیسیاں بنا رہی ہے جس میں پاک فوج کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اس صورت میں پاک فوج سے ملکی سیاست میں مداخلت کا خدشہ بلا جواز ہے۔‘ ان دونوں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر ملکی صورتحال اتنی ہی زیادہ خراب ہو جائے کہ فوج کی مداخلت نا گزیر تصور کی جائے تو بھی فوج اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کا خطرہ مول نہیں لے گی۔ پروفیسر عسکری اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’اس صورت میں فوجی جنتا کے پاس دیگر بہت سے متبادل موجود ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے لئے راستہ ہموار کرنا، دونوں کے لئے قابل قبول حل تجویز کرنا یا پھر حکومت کی سطح پر تبدیلی لا کر احتجاج کو ختم کرنے کی کوشش فوج کے پاس زیادہ خراب صورتحال کو کنٹرول کرنے کے آپشن کے طور پر موجود ہیں۔‘ تاہم برگیڈئیر شوکت قادر کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر تبدیلی لانے کی کوشش بالکل آخری حربہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے پیپلز پارٹی کے خلاف فوجی کارروائی کا تاثر پیدا ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||