نااہلی تنازع اور پاکستانی اخبارات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سبھی اخبارات نے پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ اور شریف برادران کی عدم اہلیت کے عدالتی فیصلے کو اپنی سرخیوں کا موضوع بنایا ہے۔ روزنامہ جنگ نے اپنی سُپر لِیڈ میں نواز شریف کا بیان یہ بیان شائع کیا ہے کہ یہ عدالتی نہیں صدارتی فیصلہ ہے اور یہ کہ زرداری سودے بازی چاہتے تھے۔ روزنامہ ایکسپریس نے بھی پورے صفحے کی سرخی میں گورنر راج کے نفاذ کا اعلان شائع کیا ہے اور ذیلی سرخی میں یہ صدارتی فرمان درج کیا ہے کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ اخبار نے اپنی سُپر لِیڈ میں مسلم لیگ کے احتجاجی مظاہروں کی خبر دی ہے۔ روزنامہ خبریں نے صفحہ اول کی شہ سرخی میں نئے چیف سیکرٹری اور نئے آئی جی کے تقرر کا ذکر بھی کیا ہے۔ جب کہ نوائے وقت نے اپنی سُپر لِیڈ میں نواز شریف کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ عوام زرداری کے مذموم فیصلے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں، نیز یہ کہ صدر زرداری نے ہمیں جسٹس ڈوگر کی ملازمت میں توسیع کے بدلے اہل قرار دینے کی پیشکش کی تھی۔ روزنامہ ’آج کل‘ نے بھی اپنی دوسری سرخی میں نواز شریف کا یہ بیان دہرایا ہے کہ جسٹس ڈوگر کا پیچھا چھوڑنے پر اہل کرانے کی آفر ٹھکرا دی ہے۔ روزنامہ ڈان نے حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے خم ٹھونک کر آمنے سامنے آجانے کے مضمون کو شہ سرخی میں یوں باندھا ہے: روزنامہ ڈیلی ٹائمز اپنے اداریے میں لکھتا ہے: ’لاہور کے گلی محلوں میں سُپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جو نعرے بلند ہو رہے ہیں وہ اُس جنگ کا پہلا پتھر ہیں جو ذرائع ابلاغ پر شروع ہو چُکی ہے۔ وکلا کی تحریک اس پیش رفت پر مسرور و مطمِئن دکھائی دیتی ہے۔ وہ موجودہ سپریم کورٹ کو پہلے ہی ایک بوگس پی سی او عدالت کہہ کر مسترد کر چُکی ہے اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اُن کے عہدے پر بحال کرنے کا مطالبہ کر چُکی ہے‘۔
روزنامہ دی نیوز کا اداریہ کہتا ہے کہ ’صرف ایک برس پہلے عوام نے جمہوریت کا جو چہرہ دیکھا تھا، آج وہ زخموں سے لہو لُہان ہے اور ہمارا سفرِ جمہوریت ایک بار پھر اپنے نقطۂ آغاز کی طرف پھِسل گیا ہے۔ آخر ہم کب تک اپنی غلطیوں کو دہرائے چلے جائیں گے؟‘ روزنامہ ڈان اپنے اداریے میں رقم طراز ہے: ’پاکستان کی گمبھیر عدالتی تاریخ میں مشکوک نوعیت کے ایک اور فیصلے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کے حق میں دلائل دینے والے معدودے چند لوگ تکنیکی نکتوں اور قانونی مُوشگافیوں کا سہارا لے کر اس فیصلے کا اگر کوئی جواز ڈھونڈتے ہیں تو وہ کاملاً گمراہ کُن ہوگا کیونکہ شریف برادران کو نا اہل قرار دینے کی بنیاد ایک ڈکٹیٹر نے فراہم کی تھی اور عقلِ سلیم کی ذرا سی رمق رکھنے والا کوئی شخص بھی یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ پرویز مشرف نے یہ حرکت قانون کی بالادستی قائم رکھنے یا کسی اور اعلیٰ آدرش کی خاطر کی ہوگی‘۔ |
اسی بارے میں نواز اور شہباز کی نشستیں خالی26 February, 2009 | پاکستان نااہلیت کے فیصلے پر صدمہ ہوا: گیلانی26 February, 2009 | پاکستان ’جوڑ توڑ کی ماہر شخصیت‘ 25 February, 2009 | پاکستان ملک گیر ہڑتال کی اپیل، مظاہرے25 February, 2009 | پاکستان پنجاب: اعلٰی افسران کی تبدیلی25 February, 2009 | پاکستان ’زرداری سودے بازی چاہتے تھے‘25 February, 2009 | پاکستان قاف لیگ ایک بار پھر میدان میں25 February, 2009 | پاکستان گورنر راج: ابتدائی طور پر دو ماہ25 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||