BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 February, 2009, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نااہلی تنازع اور پاکستانی اخبارات

پاکستانی اخبارات
شریف برادران کی نااہلی اور پنجاب میں گورنر راج کی خبریں تمام اخبارات میں نمایاں ہیں

پاکستان میں سبھی اخبارات نے پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ اور شریف برادران کی عدم اہلیت کے عدالتی فیصلے کو اپنی سرخیوں کا موضوع بنایا ہے۔

روزنامہ جنگ نے اپنی سُپر لِیڈ میں نواز شریف کا بیان یہ بیان شائع کیا ہے کہ یہ عدالتی نہیں صدارتی فیصلہ ہے اور یہ کہ زرداری سودے بازی چاہتے تھے۔

روزنامہ ایکسپریس نے بھی پورے صفحے کی سرخی میں گورنر راج کے نفاذ کا اعلان شائع کیا ہے اور ذیلی سرخی میں یہ صدارتی فرمان درج کیا ہے کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ اخبار نے اپنی سُپر لِیڈ میں مسلم لیگ کے احتجاجی مظاہروں کی خبر دی ہے۔

روزنامہ خبریں نے صفحہ اول کی شہ سرخی میں نئے چیف سیکرٹری اور نئے آئی جی کے تقرر کا ذکر بھی کیا ہے۔ جب کہ نوائے وقت نے اپنی سُپر لِیڈ میں نواز شریف کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ عوام زرداری کے مذموم فیصلے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں، نیز یہ کہ صدر زرداری نے ہمیں جسٹس ڈوگر کی ملازمت میں توسیع کے بدلے اہل قرار دینے کی پیشکش کی تھی۔

روزنامہ ’آج کل‘ نے بھی اپنی دوسری سرخی میں نواز شریف کا یہ بیان دہرایا ہے کہ جسٹس ڈوگر کا پیچھا چھوڑنے پر اہل کرانے کی آفر ٹھکرا دی ہے۔

روزنامہ ڈان نے حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے خم ٹھونک کر آمنے سامنے آجانے کے مضمون کو شہ سرخی میں یوں باندھا ہے:
Battle Lines Drawn
جبکہ انگریزی روزنامے دی نیوز کی سرخی ہے:
Sharif out Taseer in

روزنامہ ڈیلی ٹائمز اپنے اداریے میں لکھتا ہے: ’لاہور کے گلی محلوں میں سُپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جو نعرے بلند ہو رہے ہیں وہ اُس جنگ کا پہلا پتھر ہیں جو ذرائع ابلاغ پر شروع ہو چُکی ہے۔ وکلا کی تحریک اس پیش رفت پر مسرور و مطمِئن دکھائی دیتی ہے۔ وہ موجودہ سپریم کورٹ کو پہلے ہی ایک بوگس پی سی او عدالت کہہ کر مسترد کر چُکی ہے اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اُن کے عہدے پر بحال کرنے کا مطالبہ کر چُکی ہے‘۔

شریف برادران کی نا اہلی کی بنیاد
 شریف برادران کو نا اہل قرار دینے کی بنیاد ایک ڈکٹیٹر نے فراہم کی تھی اور عقلِ سلیم کی ذرا سی رمق رکھنے والا کوئی شخص بھی یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ پرویز مشرف نے یہ حرکت قانون کی بالادستی قائم رکھنے یا کسی اور اعلیٰ آدرش کی خاطر کی ہوگی
روزنامہ ڈان

روزنامہ دی نیوز کا اداریہ کہتا ہے کہ ’صرف ایک برس پہلے عوام نے جمہوریت کا جو چہرہ دیکھا تھا، آج وہ زخموں سے لہو لُہان ہے اور ہمارا سفرِ جمہوریت ایک بار پھر اپنے نقطۂ آغاز کی طرف پھِسل گیا ہے۔ آخر ہم کب تک اپنی غلطیوں کو دہرائے چلے جائیں گے؟‘

روزنامہ ڈان اپنے اداریے میں رقم طراز ہے: ’پاکستان کی گمبھیر عدالتی تاریخ میں مشکوک نوعیت کے ایک اور فیصلے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کے حق میں دلائل دینے والے معدودے چند لوگ تکنیکی نکتوں اور قانونی مُوشگافیوں کا سہارا لے کر اس فیصلے کا اگر کوئی جواز ڈھونڈتے ہیں تو وہ کاملاً گمراہ کُن ہوگا کیونکہ شریف برادران کو نا اہل قرار دینے کی بنیاد ایک ڈکٹیٹر نے فراہم کی تھی اور عقلِ سلیم کی ذرا سی رمق رکھنے والا کوئی شخص بھی یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ پرویز مشرف نے یہ حرکت قانون کی بالادستی قائم رکھنے یا کسی اور اعلیٰ آدرش کی خاطر کی ہوگی‘۔

منظور وٹو (فائل فوٹو)ایسا کب نہیں ہوا !
شریف نااہلی جیسے واقعات تاریخ میں
سلمان تاثیرگورنر سلمان تاثیر
نااہلیوں کے بعد تخت لاہور کانیافرمانروا
چودھری شجاعت حسینقاف لیگ کے بدلے دن
پنجاب حکومت کی برطرفی اور نئے امکانات
نواز، شہباز’آ بیل مجھے مار‘
فیصلہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے گا
اسی بارے میں
’جوڑ توڑ کی ماہر شخصیت‘
25 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد