پنجاب میں عدالتی مارشل لاء: شہباز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گورنر راج لگاکر ایک بار پھر صدارتی اور عدالتی مارشل لاء لگایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ان کا کہنا ہے کہ پوری قوم کا یہ فرض ہے کہ وہ اب اٹھ کھڑی ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ قوم اب پاکستان کو بچانے کے لیے لانگ مارچ اور لانگ واک میں حصہ لے۔ ادھر مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کا یہ اجلاس اہم اجلاس رائے ونڈ کے شریف فارم ہاؤس میں ہوا ہے اور مسلم لیگ نون نے دعویْ کیا ہے کہ ان کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کل ایک سو اکیانوے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ شہبازشریف نے ہائی کورٹ بار سے خطاب میں کہا کہ ان کا یہ مطالبہ نہیں ان کے خلاف عدالتی فیصلے کو واپس لیا جائے اور وہ دوبارہ سے وزیر اعلیْ کی حیثیت سے کام کریں بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں دو نومبر والی عدلیہ کو بحال کیا جائے۔
شہباز شریف نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ جس وقت پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کا قتل ہوا تھا اس وقت سلمان تاثیر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی کابینہ کے وزیر تھے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسلم لیگ نون نواز شریف کی قیادت میں وکیلوں کے لانگ مارچ میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔ دریں اثناء رائے ونڈ میں پارلیمانی پارٹی کےاجلاس کے بعد مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر قانون ثناء اللہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں مسلم لیگ قاف کے بتیس اراکین اسمبلی کے علاوہ مسلم لیگ فنکشنل اور ایم ایم اے کے ارکان بھی شرکت کی ہے۔ سابق وزیر قانون کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے پاس اکثریت ہوتی تو وہ گورنر راج لگانے کے بجائے اپنی حکومت بناچکی ہوتی۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں کم از کم ایک سو چھیاسی ارکان کی حمایت رکھنے والی جماعت ہی حکومت بنا سکتی ہے جبکہ مسلم لیگ نون کا دعویْ ہے کہ ان کے حالیہ اجلاس میں اس سے زیادہ اراکین نے شرکت کی ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی کےصوبائی صدر رانا آفتاب احمد خان نے یہ اعلان کیا ہے کہ ایک آزاد رکن پنجاب اسمبلی نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب صوبے پنجاب میں گورنر راج کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ اس ضمن میں مقامی وکیل طارق عزیز ایڈووکیٹ نے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانونے کے تحت درخواست دائر کی ہے اور اس میں یہ موقف اختیار کیاگیا کہ صوبے میں ایسے حالات نہیں تھے جس کی وجہ سے گورنر راج لگایا جاتا۔ درخواست میں یہ اعتزاض اٹھایاگیا ہے کہ گورنر راج کے لیے جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس میں وہ وجوہات بیان نہیں کی گئیں جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ درخواست میں مختلف آئینی دفعات کا حوالے دیتے ہوئے یہ کہا گیا کہ آئین بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ گورنر راج ان بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ خیال رہے کہ درخواست گزار وکیل طارق عزیز شریف خاندان کی کئی مقدمات میں پیروی کرچکے ہیں جبکہ مختلف سماجی اور آئینی معاملات پر درخواست دائر کرنے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ملک گیر ہڑتال کی اپیل، مظاہرے25 February, 2009 | پاکستان نواز شریف اور شہباز شریف نااہل25 February, 2009 | پاکستان گورنر راج، اسمبلی کے باہر ’اجلاس‘26 February, 2009 | پاکستان گورنر راج، روٹی کی قیمت بڑھ گئی26 February, 2009 | پاکستان حکم ماننے سے انکار کر دو: نواز شریف26 February, 2009 | پاکستان نواز اور شہباز کی نشستیں خالی26 February, 2009 | پاکستان ملک گیر دھرنے کی کال پر ریلیاں27 February, 2009 | پاکستان بینظیر کی تصاویر، احتجاجی مظاہرے27 February, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||