نااہلی وگورنر راج: احتجاج، مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کی جانب سے شریف برادران کی نااہلی اور صوبہ پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، مظفرآباد، پشاور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف کو نااہل قرار دینےاور صدر اصف علی زرداری کی طرف سے پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف ملک کے دوسرے شہروں کی طرح اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی وے پر مظاہرین نے پولیس کی گاڑی سمیت متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی جس کے بعد پولیس اور مظاہرن کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی۔ جب حالات پولیس کے قابو سے باہر ہوگئے تو اسلام آباد کی انتظامیہ نے رینجرز کو طلب کرلیا۔ جمعرات کو مسلم لیگ نون کی قیادت کی طرف سے دی جانے والی احتجاجی کال کی وجہ سے دونوں شہروں کے تجارتی مراکز بند رہے۔ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے دونوں شہروں میں مختلف مقامات پر احتجاجی مطاہرے کیے اور اس فیصلے کے خلاف نعرہ بازی کی۔اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری چھٹی کا اعلان نہیں کیا گیا تھا تاہم سرکاری دفاتر اور سکولوں میں طالبعلموں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔
واضح رہے کہ 27 دسمبر سنہ دوہزار سات کو بینظیر بھٹو لیاقت با کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئیں تھیں۔ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس واقعہ کے خلاف متعلقہ تھانے میں درخواست جمع کروائی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہر کی انتظامیہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی۔ راولپنڈی میں مظاہرین نے سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے گھر لال حویلی پر بھی پتھراؤ کیا۔ راولپنڈی میں مختلف مظاہروں کے دوران اگرچہ پولیس کی نفری موجود تھی لیکن اُن کا کردار خاموش تماشائی سے زیادہ نہیں تھا۔ راولپنڈی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن موجودہ صورتحال پر سخت پریشان ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ بعض عناصر ملک میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے اور ایسے فیصلے کروائے جا رہے ہیں جن سے سیاسی جماعتوں کے درمیان مصالحت کے عمل کو نقصان پہنچا ہے۔ راولپنڈی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن بابر جاوید بٹ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان تمام واقعات کے ذمہ دار صدر آصف علی زرداری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سیاسی کارکنوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے جو سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں پر جس جماعت کی اکثریت ہے وہاں پر اُس جماعت کو حکومت کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کو شریف برادران کی سزا معاف کرتے ہوئے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت قائم کی جائے۔
صوبہ سرحد میں احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے مسلم لیگ ن کے صوبائی ایڈیشنل سیکریٹری اور ضلع کرک کے ناظم رحمت سلام خٹک نے کہا کہ شریف برادارن کی نا اہلی اورحکومت کے خاتمے کے بعد احتجاج میں بھر پور حصہ لینے کی خاطر انہوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول ان کے ساتھ گیارہ یونین کونسل ناظمین، اکیس ڈسٹرکٹ کونسلرز جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں مستعفی ہورہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنا استعفی وزیر اعلی سرحد کو بھیج دیا ہے۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کو’شرمناک قراردیتے ہوئے کہا کہ خیبر سے کراچی تک لوگوں کا سراپا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عدالتی فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے۔‘ اسکے علاوہ سرحد بار کونسل نے جمعرات کو ایک اجلاس میں شریف برادران کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف تین روز تک بطور احتجاج عدالتوں میں حاضر نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد وکلاء نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور بعد میں درجنوں وکلاء نے ہائی کورٹ کی عمارت سے رحمان بابا چوک تک جلوس نکالا۔ اس موقع پر مظاہرین چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور حکومت کےخلاف نعرے لگاتے رہے۔
پنجاب: گورنر راج، اسمبلی کے باہر ’اجلاس‘ لاہور میں ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق مسلم لیگ نون کے اراکین کو اسمبلی کی عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ ایوان کے مرکزی دروازے پر تالہ لگا تھا جبکہ پوری اسمبلی کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور جگہ جگہ خاردار تاروں اور کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا اقبال نے کہا کہ اجلاس کل رات ہی طلب کر لیا تھا اور رات کی کارروائی کے بعد اسے آج صبح تک ملتوی کیا گیا تھا، لیکن جب مسلم لیگی اراکین اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو پولیس نے انہیں روک لیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور اراکین کے درمیان ہاتھاپائی ہوئی، اور بقول ان کے پولیس اہلکاروں نے خواتین اراکین اسمبلی سے بدسلوکی کی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ بیس کے قریب اراکین کو حراست میں لیکر پولیس کی گاڑی میں ڈالا گیا لیکن پھر انہیں چھوڑ دیاگیا۔
ملک بھر میں مسلم لیگ نون کے کارکن احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کے مختلف شہروں قصبوں میں چھوٹے بڑے احتجاج مظاہرے شام گئے تک جاری رہے۔ تاجروں نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی۔ لاہور میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ پنجاب اسمبلی کے سامنے ہوا جو رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف کے پرجوش خطاب پر ختم ہوا۔ مظاہرین نے گورنر ہاؤس کی جانب مارچ کی۔گورنر ہاؤس کے سامنے مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے صبح سپیکر پنجاب اسمبلی نے مسلم لیگی اراکین کی موجودگی میں کھلے عام اجلاس کیا اور اسے اسمبلی کی کارروائی قراردیا۔ یہ اجلاس جمعہ کو سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ نوازشریف نے اپنے شیخوپورہ کے جلسہ عام میں کہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت برطرف نہیں ہوئی ہے اور پنجاب کی آئینی حکومت وہی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ا نہوں نے شہباز شریف کو کہا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی میں جائیں اور اس کی کارروائی میں حصہ لیں۔ادھر گورنر پنجاب کے تعینات کردہ نئےافسروں نے چارج سنبھال لیا ہے۔ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی، سڑکوں پر ٹریفک معمول سے بہت کم، اور گلیاں، بازار چھٹی کا سا منظر پیش کر رہے تھے۔ پنجاب اسمبلی اور گورنر ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ پنجاب میں گورنر ہاؤس کے سامنے گزشتہ روز جو پیپلز پارٹی کے جھنڈے بینر اور ہورڈنگ توڑ دیئے گئے تھے وہ دوبارہ لگا دیئے گئے۔ لاہور کی مال روڈ کے ایک حصہ کو پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھا۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاج برسراقتدار مسلم کانفرنس کی قیادت میں ہونے والے مظاہرے میں بعض دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے صدر آصف علی زرداری اور عدالتی فیصلے کے خلاف جبکہ نوازشریف کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین نے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر نواز شریف کے حق میں اور پی سی او ججز کے خلاف نعرے درج تھے۔ حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سیکریڑی جنرل اور قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی عوامی رہنما کو اہل یا نا اہل قرار دے۔ انہوں نے کہا کہ’ آج پاکستان کے سیاسی اور جمہوری نظام کو عدالتی فیصلے کے ذریعے خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔‘ شاہ غلام قادر نے کہا کہ’ایک بار پھر پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک غلط فیصلہ دیا، اس لئے ہم کہتے ہیں پی سی او ججز نا منطور نا منطور نا منطور۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہم سپریم کورٹ کے اس جعلی فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ کہ کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں وہ کسی عوامی رہمنا اور محوب لیڈر کو اہل یا نا اہل قرار دے بلکہ یہ عوام کا اختیار ہے۔ تاہم حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کرنے سے گریز کیا۔ لیکن حزب مخالف کی مسلم کانفرنس کے مظاہرے کے شرکاء کے تنقید کا محور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری تھے۔ مظاہرین نے صدر زرداری کونہ صرف جمہوریت کا قاتل قرار دیا بلکہ یہ الزام بھی لگایا کہ وہ بے نظیر بھٹو اور ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے بھی قاتل ہیں۔ حزب مخالف کی مسلم کانفرنس کے مظاہرے میں شریک افراد نے ایک بینر بھی اٹھا رکھا تھا جس پر یہ تحریر تھی کہ’ آزاد کشمیر حکومت کا قاتل، پنچاب حکومت کا قاتل، عدلیہ کا قاتل، جمہوریت کا قاتل، پاکستانی قوم کا قاتل زرداری قاتل۔‘ مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر بھی جلائے اور انہوں نے زرداری کی تصویر پر پھتر اور جوتے پھینکے اور بعد میں اس ان کی تصویر کو آگ لگادی گئی۔ مظفرآباد کے علاوہ بعض دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی مسلم کانفرنس کے دونوں دھڑوں نے شریف برادران کے نا اہلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ |
اسی بارے میں گورنر راج: ابتدائی طور پر دو ماہ25 February, 2009 | پاکستان قاف لیگ ایک بار پھر میدان میں25 February, 2009 | پاکستان ’زرداری سودے بازی چاہتے تھے‘25 February, 2009 | پاکستان پنجاب: اعلٰی افسران کی تبدیلی25 February, 2009 | پاکستان گورنر راج، اسمبلی کے باہر ’اجلاس‘26 February, 2009 | پاکستان ’نااہلیت کے فیصلے پر صدمہ ہوا‘26 February, 2009 | پاکستان نواز اور شہباز کی نشستیں خالی26 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||