’سفارتی جنگ کی تیاریاں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے پس منظر میں بھارت کی پاکستان کے خلاف ممکنہ ’سفارتی جارحیت‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے بھی حمکت عملی تیار کر لی ہے جس سے دنیا بھر میں پاکستانی سفارتکاروں کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔یہ بات دفتر خارجہ کے ایک سینئر افسر نے سوموار کو بی بی سی کو بتائی۔ افسر کا کہنا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے پس منظر میں پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی حکمت عملی کی ’ناکامی‘ کے بعد سفارتی محاذ پر ’جارحیت‘ کا منصوبہ بنایا ہے۔ بعض دیگر سفارتی ذرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد سے دنیا بھر میں پاکستانی سفیروں کو باضابطہ طور پر اس مبینہ بھارتی منصوبے سے آگاہ کیا گیا ہے اور اس کے جواب کے لیے ’گائڈ لائنز‘ یا ہدایات بھی مہیا کر دی گئی ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دسمبر کے آخر میں فوجی تناؤ میں شدت آنے کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک کی مداخلت نے بھارت کو پاکستان کے خلاف ’محدود حملوں‘ یا ’سرجیکل سٹرائیکس‘ سے باز رہنے پر مجبور کر دیا تھا جس کے بعد بھارتی قیادت نے پاکستان پر ایک بار پھر دباؤ بڑھانے کے لیے سفارتی طریقہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوموار کے روز دفتر خارجہ میں غیر ملکی سفراء کے لیے بریفنگ کا اہتمام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بتائی جاتی ہے۔ پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر داخلہ رحمٰن ملک اور سیکرٹری خارجہ نے پاکستان میں مقیم غیر ملکی سفیروں کے لیے ممبئی حملوں کے پس منظر میں ہونے والے واقعات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ ممبئی حملوں کے بعد سے پاکستان میں مقیم سفیروں کو دی جانے والی اس نوعیت کی یہ دوسری بریفنگ ہے۔ اس سے پہلے غیر ملکی سفیروں کی درخواست پر اس وقت وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر نے بھارت سے جنگ کے امکانات کے بارے میں ان سفراء کے سوالات کے جواب دیے تھے۔ سوموار کو غیر ملکی سفیروں کے اعزاز میں ہونے والی بریفنگ میں ممبئی حملوں کے پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود تعلقات کے بارے میں تفصیلات بتائی گئیں۔ پاکستانی حکام نےغیر ملکی سفیروں کو ممبئی حملوں کی تحقیقات اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا اور ان غیر ملکی سفارتکاروں سے درخواست کی کہ وہ خطے میں دیر پا امن کے لیے بھارت پر زور دیں کہ وہ تناؤ پیدا کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتکاروں کو تحریری مواد بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف حکومت پاکستان کی کارروائی اور تحقیقات کی تفصیل درج کی گئی ہے۔ اہم ممالک میں تعینات سفارتکاروں کو پاکستانی اداروں کی جانب سے ممبئی حملوں کے بارے میں پاکستان کے اندر کی گئی اب تک کی تحقیقات کے بارے میں دستاویز ارسال کی گئی ہیں۔ ان سفارتکاروں سے کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بھارتی الزامات کے جواب میں بھارتی تحقیقات میں پائی جانے والی خامیوں اور ان کے نا مکمل ہونے کا نکتہ بھی اٹھائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ اس خدشے کا شکار ہے کہ بھارت ممبئی حملوں کی’ آڑ‘ میں پاکستان کے خلاف دنیا کے اہم دارالخلافوں میں جو مہم شروع کرنے جا رہا ہے اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جن اندیشوں کا شکار ہے ان میں سے ایک بھارت کا اپنے موقف کے حق میں راہ ہموار کرنے کے بعد اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی شامل ہے۔ گو کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ضمن میں بعض پاکستانی تنظیموں کے خلاف پابندیوں کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کر رکھا ہے لیکن یہ رابطہ براہ راست ممبئی حملوں سے منسلک نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں ممبئی: ’کارروائی میں 124گرفتار‘15 January, 2009 | پاکستان ملی بینڈ پاکستان کے دورے پر 16 January, 2009 | پاکستان ’سرحد پر پاکستانی فوج میں اضافہ‘14 January, 2009 | آس پاس ’کارروائی نہیں تو تمام رشتے منقطع‘14 January, 2009 | انڈیا ملی بینڈ، رات چارپائی پر گزاری15 January, 2009 | انڈیا پاکستانی ماہی گیر بھارتی حراست میں 16 January, 2009 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||