جمہور، دہشتگردی اور بحرانوں کا سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ دو ہزار آٹھ کا آغاز پاکستان کی سابق وزیرِاعظم اور خطے کی ایک بڑی سیاسی رہنما بینظیر بھٹو کے سوگ سے ہوا۔ بینظیر بھٹو کے قتل سے آٹھ جنوری کے مجوزہ عام انتخابات اٹھارہ فروری تک ملتوی ہوگئے اور جب اٹھارہ فروری کو انتخابات منعقد ہوئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوگی اور اس وقت کے صدر پرویز مشرف اپنے ساتھیوں کو کامیاب کروائیں گے۔ انتخابات کے روز کراچی اور گجرات سمیت مختلف علاقوں میں ڈبے بھرنے کے الزامات تو لگے لیکن پہلی بار پاکستان میں کسی انتخاب کے نتائج کو ہارنے اور جیتنے والوں نے کھلے دل سے تسلیم کرکے نئی روایت ڈالی۔ ماضی کی دو بڑی حریف سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے دیگر جماعتوں سے مل کر مشترکہ حکومت بنائی جو اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوا۔ مسلم لیگ (ن) نے صدر پرویز مشرف کو گرفتار کرکے آئین توڑنے کے الزام میں ان پر بغاوت کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ حالات ایسے پلٹے کہ صدر پرویز مشرف کے خلاف کیسٹ کمپنیوں نے نئےگیت متعارف کروائے۔ ’جا مشرف جا ساڈی فرمائش تے‘ کا ایک گیت بڑا مشہور ہوا۔ لیکن حکومتی اتحاد کے سربراہ آصف علی زرداری نے اس بارے میں احتیاط برتی۔ بعد میں موقع پاتے ہیں پرویز مشرف کو الٹی میٹم دیا کہ مستعفی ہوجائیں ورنہ محاسبے کے لیے تیار ہوجائیں۔ پرویز مشرف کے گرد گھیرا تنگ ہوا اور انہوں نے براہ راست ٹی وی پر خطاب کے دوران مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ وہ پہلے فوجی صدر ہیں جنہیں فوجی سلامی دے کر رخصت کیا گیا۔ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد ان کے ہاتھوں برطرف ججوں کی بحالی کے لیے مسلم لیگ (ن) نے آصف زرداری سے کیے گیے معاہدے کے تحت بحالی کا کہا تو آصف زرداری نے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’سیاسی معاہدے کوئی قرآنی آیات یا حدیث نہیں ہوتے۔‘
ان کے اس بیان پر حکومتی اتحاد ٹوٹ گیا اور مسلم لیگ (ن) نے علیحدگی اختیار کرلی۔ آصف علی زرداری پرویز مشرف کی جگہ بھاری اکثریت سے پاکستان کے صدر بن گئے۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں انہوں نے میاں نواز شریف کو منالیا۔ جب بطور صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تو اس دوران میاں نواز شریف ان کا خطاب سننے خصوصی دعوت پر پارلیمان آئے اور پہلی بار صدارتی خطاب کے وقت حزب مخالف نے ہنگامہ نہ کرکے ایک نئی روایت ڈالی۔ ملک میں پیپلز پارٹی کی بظاہر ایک مضبوط حکومت تو قائم ہوگئی لیکن عالمی معاشی بحران کی وجہ سے جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کا طوفان برپا کیا وہاں بجلی، آٹے اور دیگر اشیاء کے بحران کے اوپر بحران بھی پیدا ہوتے رہے۔ مہنگائی کے مارے عوام اپنی منتخب کردہ حکومت کے خلاف ’یہ جمہوریت جھوٹی ہے، جنتا ساری بھوکی ہے‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ معاشی بحران کی لپیٹ میں پاکستان کی تیزی سے پھیلنے والی میڈیا صنعت بھی آئی اور سال کے آخری چند ماہ میں تین سو سے زائد صحافی اور میڈیا کارکن بے روزگار ہوگئے۔ سال بھر وکلاء کا احتجاج بھی جاری رہا اور جب مشرف کے ہٹ جانے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ججوں کو بحال نہیں کیا تو وکلاء نے ایک نیا نعرہ لگایا کہ ’ کتنی بڑی فنکاری ہے ۔ زرداری ہے زرادی ہے‘۔ وکلاء تحریک کا زور توڑنے کے لیے حکومت نے معزول ججوں کو دوبارہ حلف اٹھانے کی صورت میں پرانی سینارٹی کے ساتھ بحال کرنے کی پیشکش کی تو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے بعض ساتھیوں کے علاوہ اکثر جج بحال ہوگئے۔
سال دو ہزار آٹھ گزشتہ برس کی طرح خود کش حملوں اور پرتشدد واقعات سے بھی بھرا ہوا ہے۔ صوبہ سرحد میں آئے روز حملے تو معمول بنا رہا لیکن راولپنڈی، لاہور اور اسلام آباد بھی محفوظ نہ رہے۔ لاہور میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کا صدر دفتر اڑادیا گیا اور ہائی کورٹ کے باہر کئی پولیس اہلکاروں کو موت کی نیند سلایاگیا۔ راولپنڈی میں دو مختلف واقعات میں آئی ایس آئی کی دو بسوں کو نشانہ بنایا گیا اور ٹاپ فوجی سرجن کو خود کش حملہ آور نے موت کے گھاٹ اتاردیا۔اسلام آباد میں لال مسجد کی برسی کے موقع پر آبپارہ تھانے کے قریب پولیس اہلکاروں کو خون میں نہلایا گیا اور میریٹ ہوٹل کے خوفناک دھماکے نے دارلحکومت میں ایسا خوف برپا کیا کہ آج بھی لوگ ڈرتے ہیں۔ میریٹ دھماکے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لیے حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کو اکٹھا ہونے پر مجبور کیا۔ سات برسوں سے جاری اس جنگ کی پالیسی پر حکومت نے پارلیمینٹ کے بند کمرے میں خفیہ بریفنگ دی اور کئی روز کی بحث کے بعد متفقہ قرار داد منظور کرلی۔ پارلیمان نے حکومت کو سفارش کی کہ غیر مسلح ہونے والے طالبان شدت پسندوں سے بات چیت کی جائے۔ اس قرار داد پر بظاہر تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بھی اطمینان ظاہر کیا لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی پر تو مسلم لیگ (ن) نے حکومت کی حمایت کی لیکن پنجاب حکومت میں شراکت اقتدار پر ان کے درمیان اختلافات بڑھ گئے۔ مسلم لیگ (ن) نے جب پیپلز پارٹی کو پنجاب میں وزارتیں چھوڑنے کا کہا تو سیاسی جوڑ توڑ شروع ہوگیا اور فریقین نے مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی وفاداری تبدیل کروائی اور اس دوران گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب میں چپقلش شروع ہوگئی۔ حکومت کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کے متحد ہونے کا ماحول بننا شروع ہوا تو ممبئی حملوں کا واقعہ ہوا۔ جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیاں چار سال سے جاری مذاکرات معطل ہوگئے اور دوستی کی باتیں دشمنی میں بدل گئیں۔ سال دو ہزار آٹھ اگر دیکھا جائے تو عام آدمی کے لیے گزشتہ برس سے بھی برا ثابت ہوا ہے کیونکہ اس برس اگر کچھ تبدیل ہوا تو وہ حکمرانوں کے چہرے ہی ہیں باقی عوام کے حالات تو بد سے بدتر ہی رہے۔ |
اسی بارے میں ’بچوں کے بارے میں فکر مند ہوں‘12 December, 2008 | پاکستان پاک بھارت ہیکرز پھر سرگرم25 November, 2008 | پاکستان ڈی آئی خان حملہ، الزام لشکر پر22 November, 2008 | پاکستان بالاچ مری کی برسی پر دھماکے20 November, 2008 | پاکستان بنوں، میزائل حملہ، پانچ ہلاک19 November, 2008 | پاکستان پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ مزید کم14 November, 2008 | پاکستان پشاور اور اطرف، لاقانونیت کی لہر13 November, 2008 | پاکستان پختون پختون کو مار رہا ہے: حاجی عدیل12 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||