’بچوں کے بارے میں فکر مند ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی جیل میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ کے سابقہ شوہر محمد امجد خان نے ڈاکٹر عافیہ کی امریکی وکیل اور دوسرے تمام متعلقہ لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے دو لاپتہ بچوں کو بازیاب کرانے میں ان کی مدد کریں۔ ایم امجد خان نے یہ بات انگریزی روزنامے ڈان کے مدیر کے نام لکھے گئے ایک خط میں کہی ہے جو اخبار کی جمعہ کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اس خط میں انہوں نے اپنے بچوں کی صحت اور زندگی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے اور بنیادی طور پر اسکا ذمہ دار ڈاکٹر عافیہ اور ان کے خاندان کو ٹھہرایا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کے بعد وہ پہلی بار منظر عام پر آئے ہیں۔ اسکا سبب ان کے بقول یہ ہے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی کہی ہوئی کسی بات کو ان کے بچوں کی ماں (عافیہ) کے خلاف استعمال کیا جائے۔ ’اب میں اپنی خاموشی اس لئے توڑ رہا ہوں کہ میں اپنے بچوں کی زندگی کے بارے میں سخت فکر مند ہوں۔‘ خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ کوئی چھ سال قبل اگست دو ہزار دو میں ڈاکٹر عافیہ اور ان کے درمیان طلاق کے بعد یہ معاہدہ ہوا تھا کہ تینوں بچے احمد، مریم اور سلیمان اپنی ماں کے پاس رہیں گے اور ان کے باپ کو ان کی کفالت اور وقتاً فوقتاً ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ لیکن ان کے بقول ڈاکٹر عافیہ نے اس وعدے کو کبھی نہیں نبھایا جس کے بعد انہوں نے بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کے لئے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا۔ خط میں امجد خان نے ڈاکٹر عافیہ پر مخصوص سیاسی عزائم رکھنے کا بھی الزام لگایا ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ ان کی مطلقہ کس قسم کے سیاسی عزائم رکھتی تھیں۔ ’ماضی کے تجربات کی بناء پر مجھے ہمیشہ یہ خطرہ لاحق رہا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ اپنے سیاسی عزائم کے لئے اپنے بچوں کی فلاح و بہبود کو بھی داؤ پر لگاسکتی ہیں اور اب یہ لگتا ہے کہ شاید حقیقت میرے تصور سے بھی زیادہ بدتر ہو۔‘
انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بچوں کے معاملے میں ڈاکٹر عافیہ کی امریکی وکیل اور ان کے خاندان والوں کے بیانات میں تضاد ہے۔ ’(بچوں کی تحویل کے لئے داخل کردہ مقدمے کی سماعت پر) عدالت کے سامنے اگست 2003ء میں ڈاکٹر عافیہ کی ماں عصمت صدیقی نے حلفیہ بیان دیا تھا کہ ایف بی آئی نے ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ اور ان کے بچے ان کی تحویل میں محفوظ ہیں جبکہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کی وکیل ایلین شارپ نے کہا کہ ایف بی آئی نے انہیں اسکے بالکل برعکس اطلاع دی تھی۔‘ امجد خان نے بتایا کہ جب ڈاکٹر عافیہ کی والدہ کے اس بیان کی تصدیق کے لئے انہوں نے اور ان کے رشتے داروں نے ایف بی آئی سے معلومات حاصل کیں تو انہیں بتایا گیا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو تلاش کررہے ہیں اور بچوں کے بارے میں انہیں کچھ نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہیں۔ اپنے خط میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں ’میرے دونوں بڑے بچے امریکی شہری ہیں۔ اگر صدیقی خاندان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت تھا کہ تینوں معصوم بچے امریکہ کی قید میں ہیں تو وہ (ڈاکٹر عافیہ اور ان کے رشتے دار) متعلقہ امریکی اداروں کے خلاف یہ الزام وہاں کی عدالت میں کیوں سامنے نہیں لائے؟‘ امجد خان کے بقول ڈاکٹر عافیہ کے چچا ایس ایچ فاروقی نے اپنے حالیہ اخباری مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عافیہ سے جنوری دو ہزار آٹھ میں اسلام آباد میں ملاقات کی تھی اور عافیہ کا چہرہ پلاسٹک سرجری کر کے بدل دیا گیا تھا اور اسکے پاس ایک فرضی نام سے پاکستانی شناختی کارڈ بھی تھا۔ ’میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ اس وقت میرے بچے کہاں تھے اور عافیہ کو اپنے پاس رکھنے والے کون لوگ تھے اور انہوں نے میرے بچوں کو اپنی تحویل میں کیوں رکھا ہوا تھا؟‘ ان کے بقول ان کے سابقہ سسرال انہیں بار ہا کوششوں کے باوجود ان کے بیٹے احمد سے ملنے نہیں دے رہے جو کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے بازیاب ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی احمد کو اپنی تحویل میں لینے کے لئے عدالت سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے خط میں یہ اپیل بھی کی ہے کہ اگر عافیہ کی امریکی وکیل یا پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے شہری کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات ہیں کہ ان کے تینوں بچوں کے ساتھ 2003ء کے بعد سے اب تک کیا ہوتا رہا ہے اور انہیں کس نے اور کہاں رکھا تو وہ انہیں اس سے آگاہ کر کے ان کی مدد کریں۔ ڈاکٹر عافیہ کے سابق شوہر کے اس خط کے حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ کا مؤقف لینے کے لیے بار ہا کوششوں کے باوجود رابطہ نہیں ہو سکا۔ | اسی بارے میں لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے مظاہرہ29 October, 2008 | پاکستان ’حکومت ڈاکٹر عافیہ کو واپس لائے‘06 October, 2008 | پاکستان ڈاکٹرعافیہ، بیٹا پاکستان کے حوالے15 September, 2008 | پاکستان ڈاکٹرعافیہ، بیٹا خالہ کے حوالے15 September, 2008 | پاکستان عافیہ کے اہلِ خانہ سےامریکی رابطہ14 September, 2008 | پاکستان عافیہ شدید ذہنی دباؤمیں: ڈاکٹر13 September, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید ہیں‘23 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||