بگٹیوں کی تصاویر مقبول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بلوچوں کے حقوق کے لیے مسلح جدوجہد کی مقبولیت کا اندازہ لگانا ہو تو اسکی ایک جھلک کوئٹہ میں سیاستدانوں کی تصاویر فروخت کرنے والی چند دکانوں پر دیکھی جاسکتی ہے جہاں پر دکانداروں کے بقول آجکل صرف اور صرف نواب اکبر خان بگٹی، بالاچ مری اور براہمداغ بگٹی کی تصاویر بکتی ہیں۔ ایک ڈسٹری بیوٹر نے بتایا کہ صرف گزشتہ دو سال کے دوران ایک محتاط اندازے کے مطابق بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ مری کی تقریباً ایک لاکھ تصاویر فروخت ہوئی ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی اور قبائلی رہنماؤں کی تصاویر کو گاڑیوں، رکشتوں، دکانوں، گھر کے کمروں میں آویزاں یا چسپاں کرنا سیاسی کلچر کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئٹہ میں واقع بعض دکانوں کا چکر لگایا جائے تو وہاں پر بے نظیر بھٹو، جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، پشتون اور بلوچ قوم پرست سیاستدانوں کی چھوٹی بڑی تصاویر، چابی چین اور سٹکر سینکڑوں کی تعداد میں آویزاں نظر آئیں گی۔مگر مارکیٹ میں نواب اکبر خان بگٹی، بالاچ مری اور براہمدغ بگٹی کی تصاویر کی مانگ کی وجہ سے ان دکانوں میں دیگر سیاستدانوں کی تصاویر رکھنے کے لیے جگہ کم ہوکر رہ گئی ہے۔
ان دکانوں میں موجود تصاویر پر نظر دوڑائی جائے تو کہیں پر نواب بگٹی، براہمداغ اور بالاچ مری ساتھ ساتھ بیھٹے ہوئے نظر آئیں گے، کہیں پر وہ تصویریں لگی ہوئی نظر آئیں گی جب لڑائی کے دوران نواب بگٹی ایک پہاڑی سلسلے میں اونٹ پر سوار ہیں۔ غرض نواب بگٹی، بالاچ مری اور براہمداغ کی بچپن سے لیکر آخری وقت تک مختلف سیاسی، سماجی اور قبائلی مواقع پر لی گئیں تصاویر موجود ہیں۔ ایک دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت’مارکیٹ، نواب بگٹی، بالاچ مری اور براہمداغ کی ہے اور گزشتہ دو سالوں کے دوران بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب تصاویر بکی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ انکی تصاویر کی مانگ کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ جس چیز پر بھی انکی تصویر چسپاں کردیں وہ ہاتھوں ہاتھ بک جائے گی۔انہوں نے ٹوپیاں دکھائیں جن پر بالاچ مری اور براہمداغ بگٹی کی تصاویر بنائی گئی تھیں اور بقول ان کے صرف دو ہفتے کے دوران صرف انہوں نے دو ہزار ٹوپیاں بیچی ہیں۔ ایک اور دکاندار نے بتایا کہ زیادہ تر نوجوان طبقہ اور سکول کے بچے نواب بگٹی، بالاچ مری اور براہمداغ کی تصاویر خریدنے آتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکول کے ایسے بچے بھی آتے ہیں جو صبح سکول جاتے وقت اپنا پانچ یا دس روپے کا جیب خرچ ہمارے ساتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ’ یہ وہاں پر مجھ سے خرچ ہوجائیں گے لہذا واپسی پر مجھے نواب بگٹی، بالاچ مری یا براہمداغ کی تصویر دیدیں۔‘ ان کے بقول ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو تصاویر کو دیکھ کر رو پڑتے ہیں اور بعض تو تصویر کو بوسہ دیکر آگے نکل جاتے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر خریدار کہتے ہیں کہ’ انہوں نے ہمارے لیےجان دی ہے، ہمارے بس میں ہو ہم بھی لڑنے جائیں گے، کیونکہ انہوں نے بلوچستان کے لیے اپنی جان قربان کردی ہے۔‘ اسی بکسٹال پر جب مجھے بالاچ مری کی تصویر خریدنے والا ایک نوجوان ملا تو پوچھا کیوں خرید رہے ہو، کہنا لگا ’ پسند ہے۔ میں نے پھر پوچھا کیوں پسند ہے تو اسکو یہ سوال ذراسا نامناسب لگا اور غصے میں یہ کہتے ہوئے چل پڑا ہمارے لیے لڑا ہے، ہمارے لیے جان دی ہے کیوں پسند نہ کروں۔‘
دکاندار کے بقول’ وہ تصاویر زیادہ بکتی ہیں جن میں نواب بگٹی، بالاچ یا براہمداغ پہاڑوں میں مسلح کھڑے ہیں، یا اونٹ پر سوار ہیں یا پھر خیمہ کے سامنے بھیٹے ہوئے ہیں۔‘ ان دکانداروں نے بتایا کہ جب پچھلے سال پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی ہلاکت ہوئی تو پورے ملک میں انکی مقبولیت میں جو اضافہ ہوا اسکے باوجود انہوں نے انکی چند ہی تصاویر فروخت کیں اور اس دوران بھی بگٹی اور بالاچ کی تصویریں بکتی رہیں۔ ان بکسٹالوں پر سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی تصویر بھی موجود ہے۔ایک دکاندار کے بقول’ بلوچستان میں فوجی آپریشن سے قبل انکی ایک آدھ تصویر بک جاتی تھی لیکن اس کے بعد تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں آیا ہے، صرف میں ہی انکی تصویروں کو تکتا رہتا ہوں کہ یہ اسٹاک کب نکلے گا۔‘ ان دکانداروں سے گفتگو کے دوران ایک اور بات سامنے آئی کہ جب تک بلوچستان میں بلوچ مسلح جدوجہد شروع نہیں ہوئی تھی تو بلوچوں کے حقوق کے لیے پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والے قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں کی تصاویرزیادہ تعداد میں بکتی تھیں جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل سرفہرست تھے۔ لیکن اب ان رہنماؤں اور کمانڈروں کی تصویروں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے جو مسلح جدوجہد پر یقین رکھتے ہوئے عملاً لڑ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچ جنگجوؤں کی سی ڈیوں کی مقبولیت03 October, 2008 | پاکستان ’بلوچ روایات ملکی قوانین سے علیحدہ‘16 December, 2008 | پاکستان بلوچستان: زیادہ تر علاقوں میں ہڑتال19 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||