’بلوچ روایات ملکی قوانین سے علیحدہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں سیاہ کاری اور قتل کے دو مختلف تنازعے حل کرنے کے لیے دو افراد کو جلتے انگاروں پر سے ننگے پاؤں گزارا گیا ہے۔ آگ کے انصاف یا چربیلی کا انتطام بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام محمد بگٹی نے کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ملکی عدالتوں کا نہیں بلوچ روایات کا معاملہ ہے۔ غلام محمد بگٹی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس دو مختلف گروہوں کے تنازعے حل کرنے کے لیے پہنچے مگر دونوں فریقین نے آگ سے گزرنے یا چربیلی کرنے کی گزارش کی۔ ان کی گزارش پر بارہ فٹ لمبا اور سات فوٹ گہرا گڑھا کھودا گیا جس میں بیس من لکڑیاں جلانے کے بعد جلتے انگاروں پر بقول ان کے قرآن کا ورد کیا گیا اور دونوں ملزمان کو انگاروں پر سے ننگے پاؤں گزارا گیا۔ نصیرآباد میں جن افراد کو انگاروں پر سے ننگے پاؤں گزارا گیا ہے ان میں ایک چالیس سالہ محمد وفا دھرپالی شامل ہیں۔ دھرپالی پر قتل کا الزام ہے جبکہ دوسرا شخص محمد عثمان چاکرانی بگٹی ہیں اور ان پر اپنے چچا زاد بھائی رحیمداد کی بیوی زینت کے ساتھ مبینہ طور پر غیر ازدواجی تعلقات کی وجہ سے سیاہ کاری کا الزام ہے۔ بلوچستان کے علاقوں جعفرآباد اور نصیرآباد سمیت ڈیرہ بگٹی میں اُن لوگوں کو آگ کے انگاروں پر سے گزارار جاتا ہے جن کے اوپر کسی جرم کا شبہ ہو۔ آگ کے انصاف کے تقاضوں کےمطابق انگاروں پر سے ننگے پاؤں گزرنے کے بعد ان کے پیر تازہ ذبح کیے گئے بکرے کے خون سے بھرے برتن میں ڈال دیئے جاتےہیں جس کےبعد ان کا معائنہ ایک مقرر کردہ شخص کرتا ہے۔ اگر ملزم کے پیروں میں چھالے پڑ جاتے ہیں تو وہ مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اگر پیروں میں چھالے نہیں پڑے تو وہ الزام سے بری سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان کے لوگوں میں ایک عام شکایت رہی ہے کہ کئی بار بے گناہوں کے پیروں میں بھی انگاروں کی جلن کی وجہ سے چھالے نمایاں ہوجاتے ہیں اور قصور وار ٹھہرائے جاتے ہیں۔ غلام محمد بگٹی بلوچ ریپبلکن پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ہیں۔ انہوں نے دونوں ملزمان کو آگ پر سے گزارنےکے بعد جرگے کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے سیاہ کاری کے ملزم کو الزام سے بری کر دیا جبکہ قتل کے ملزم کو جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی عدالتوں پر انہیں اعتماد ہے مگر عام لوگوں کےمقدمات التواء کا شکار رہتے ہیں جس کی وجہ سے برسوں کی پیشیاں بھگتنے کے بعد لوگ ہمارے پاس آگ کےانصاف کی گزارش کے ساتھ آتے ہیں۔ انہوں نے انگاروں پر سے ملزموں کو ننگے پاؤں گزارنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی قوانین علیحدہ ہیں اور بلوچ روایات الگ ہیں۔ چربیلی ہماری بلوچ روایات کا حصہ ہے۔ ان کے بقول ’ہمارے رہنماء اکبر بگٹی نے بھی چربیلی کے فیصلے کیے تھے تو ہم ان کی پیروی کر رہے ہیں‘۔ بلوچستان کے علاقے نصیرآباد کے گاؤں غلام قادر بگٹی میں چربیلی یا آگ کا انصاف دیکھنے کے لیے فریقین کے سینکڑوں لوگ موجود تھے جن کے روبرو دو ملزمان کو جلتے انگاروں پر سے ننگے پاؤں گزارا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں انگاروں پر چل کر معصومیت ثابت20 October, 2008 | پاکستان ’بلوچستان: خواتین کا قتل جاری‘04 October, 2008 | پاکستان نصیر آباد میں قبر سی خاموشی04 September, 2008 | پاکستان بلوچستان:دو لڑکیوں کی لاشیں برآمد01 September, 2008 | پاکستان ’تحقیقات نہیں صرف نگرانی‘07 September, 2008 | پاکستان ’گند اچھالنے سے بدبو ہی آئے گی‘13 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||