BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 December, 2008, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: زیادہ تر علاقوں میں ہڑتال

ڈیرہ بگٹی (فائل فوٹو)
ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر خان بگٹی کا گھر پولیس، مہمان خانہ فرنٹیئر کور اور سوئی میں واقع بگٹی ہاؤس فوج کے کنٹرول میں ہے
صوبہ بلوچستان میں مسلح جدوجہد میں مصروف براہمداغ بگٹی کی جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی کی اپیل پر صوبے کے زیادہ تر علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جبکہ ڈیرہ بگٹی میں احتجاجی جلوس پر فائرنگ میں دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تقریباً دو سال قبل فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے بلوچ رہنماء نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد ان کے آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی میں پہلی بار کوئی احتجاجی جلوس نکالا گیا ہے۔

بلوچستان ریپبلکن پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر بشیر عظیم نے بی بی سی نے دعویٰ کیا کہ یہ ہڑتال حکومتی اقدام کے خلاف ہو رہی ہے جب دو ہفتے قبل ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز نے نواب اکبر خان بگٹی کی تصاویر اور جھنڈیاں مبینہ طور پراتار دی تھیں۔

ڈاکٹر بشیر عظیم نے دعویٰ کیا کہ ڈیرہ بگٹی میں احتجاجی جلوس پر فرنٹیئر کور کے مسلح نوجوانوں نے فائرنگ کی اور قریب گزرنے والی دو خواتین کو زخمی کردیا گیا۔ان کے بقول جلوس پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا جس میں ان کے ایک کارکن کو زدوکوب کرنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔

تاہم مقامی حکام نے بی بی سی کو واقعہ کی تصدیق کی البتہ کہا کہ فائرنگ میں عورتیں نہیں بلکہ دو مرد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ فرنٹیئر کور کے ترجمان میجر شاہد نے بی بی سی بات کرتے ہوئے اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے بلوچ علاقوں سوئی، خضدار، گوادر، تربت، پنجگور، ڈھاڈر، مستونگ اور دیگر اضلاع میں جمعہ کو مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال رہی جبکہ دارالحکومت کوئٹہ میں جزوی ہڑتال کی گئی ہے۔

ان بلوچ علاقوں میں پر امن ریلیاں نکالی گئی ہیں جن میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے، لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانے، بلوچ کے ساحل اور وسائل پر ان کو مکمل اختیار دینے کے حوالے سے نعرے بازی اور تقاریر کی گئیں۔

یاد رہے کہ تقریباً دو سال قبل ایک فوجی کارروائی میں بلوچ رہنماء نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد پہلی مرتبہ ڈیرہ بگٹی میں احتجاجی جلوس نکالا گیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر خان بگٹی کا گھر پولیس، مہمان خانہ فرنٹیئر کور اور سوئی میں واقع بگٹی ہاؤس فوج کے کنٹرول میں ہے۔

نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد ڈیرہ بگٹی کا بازار بدستور بند ہے اور صرف پاکستان چوک جو ایف سی کے قلعہ سے متصل اوران کے مخالفین کا گڑھ ہے کھلا رہتا ہے۔

اسی بارے میں
بالاچ مری کی برسی پر دھماکے
20 November, 2008 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی: جھڑپ میں دو ہلاک
22 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد