مسئلہ بلوچستان پر روڈ میپ تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر بابر اعوان نے کہا کہ بلوچستان کے تمام مسائل کے فوری حل کے لیے پانچ مرحلوں پر مشتمل روڑ میپ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کے پہلے مرحلے میں بلوچستان کے دانشوروں کا اسلام آباد میں تیس یا اکتیس اکتوبر کو جرگہ ہوگا جس میں صدر آصف علی زرداری بھی شرکت کریں گے۔ اتوار کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بینظر بھٹو مصالحتی کمیٹی کے سیکرٹری سینیٹر بابر اعوان نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے بنائی جانے والی مصالحتی کمیٹی کی تیار کردہ سفارشات کی روشنی میں صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان کے تمام مسائل کے ادراک اور ان کے حل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تین نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی ہے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری نے اس سال اپریل میں بلوچستان میں امن کے قیام، شکایات دور کرنے اور صوبے کو قومی دھارے میں لانے لیے ایک مصالحتی کمیٹی قائم کی تھی۔ بابر اعوان نے تین نکات کے بارے میں بتاتے ہوتے کہا کہ مصالحت کے ذریعے بلوچستان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا، تعمیر نو سے گزشتہ نو سال سے جن لوگوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا اور لاکھوں افراد کو بے گھر ہونا پڑا واپس لایا جائے گا جبکہ ری ایلوکیشن کے تحت انیس سو تہتر کے آئین کے مطابق وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بلوچستان کے مسئلے کے حل کی راہ میں درپیش قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا اور صوبائی خود مختاری شامل ہے۔ بابر اعوان کے مطابق تین نکات پر فوری عمل درآمد کے لیے پانچ مرحلوں پر مشتمل روڑ میپ تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت پہلے مرحلے میں بلوچستان کے دانشوروں کا اسلام آباد میں تیس یا اکتیس اکتوبر کو جرگہ ہو گا جس میں صدر آصف علی زرداری بھی شرکت کریں گے۔ دوسرے مرحلے میں بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا آل پارٹی سیاسی جرگہ منقعد کیا جائے گا جس میں سیاسی جماعتوں سے بلوچستان میں قانون کی عملداری اور لوگوں کے حل کے لیے بات کی جائے گی۔ تیسرے مرحلے میں صوبائی پارلیمانی روڑ میپ جبکہ چوتھے مرحلے میں قومی پارلیمانی روڑ میپ کے تحت تمام اراکین اسمبلی بلوچستان کے مسائل کے حل کا راستہ بنائے گئی اور پانچویں مرحلے میں بلوچستان سے متعلق آئینی اور قانونی ترامیم کی جائیں گی۔ بابر اعوان نے بتایا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے صدر آصف زرداری نے انتخابات کے فوراً بعد اپنی سربراہی میں بینظر بھٹو مصالحتی کمیٹی بنائی تھی اور اب تک کمیٹی کے کیے گئے اقدامات کے تحت آٹھ سو تیس لاپتہ افراد اور سیاسی کارکنوں کو رہا کروایا گیا جبکہ ایک ہزار کے قریب سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات واپس لیے ہیں۔ اس کے علاوہ آٹھ نو سال سے قید مینگل، مری اور بگٹی قبائل کے رہنماؤں کو رہا کیا۔اور بلوچستان کے شہروں میں تعینات سکیورٹی فورسز کے سات ہزار اہلکاروں کی جگہ پولیس کو تعینات کیا۔ واضح رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے علاقوں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں مبینہ دہشت گردوں اور فراری کیپموں کے خلاف فوجی کاروائی شروع کی تھی جس کے دوران ہزاروں لوگ بےگھر ہوگئے تھے جبکہ بلوچستان کی قومی پرست جماعتیں صوبائی خومختاری اور وسائل کی منصافانہ تقسیم کے لیے کافی عرصے سے جدو جہد کر رہی ہیں۔ | اسی بارے میں بےگھر بلوچوں کی پریشانیاں جاری18 October, 2008 | پاکستان کوئٹہ: سی ڈی دکانوں پر بم دھماکہ28 September, 2008 | پاکستان ’عورتوں کوزندہ دفن کرنا روایات کی پاسداری‘29 August, 2008 | پاکستان ’بلوچستان میں آپریشن نہیں ہو رہا‘02 August, 2008 | پاکستان بلوچستان سے فوج ہٹانے کا مطالبہ30 May, 2008 | پاکستان حب میں کار بم دھماکہ13 August, 2008 | پاکستان بلوچستان، ڈھائی ہزار گھوسٹ سکول29 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||