عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
| | فوجی آپریشن کے تین سال بعد بھی متاثرین اپنے گھروں کو نہیں جاسکتے |
بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں تین سال پہلے شروع کیے گئے فوجی آپریشن سے بےگھر ہونے والے بلوچ آج بھی بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن نہ تو موجودہ حکومت اور نہ ہی غیرسرکاری تنظیمیں ان کی مدد کو پہنچ رہی ہیں۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی نے ان پناہ گزینوں کی مدد کے لیے اپیل کی تھی لیکن صرف دو اراکین نے ان کے فنڈ میں رقم جمع کرائی ہے۔ باقی اراکین بلند دعوے تو کرتے ہیں لیکن خود عملی طور پر ان کی مدد نہیں کر رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آئے ہوئے آٹھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن ان آٹھ ماہ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بےگھر افراد کی امداد کے لیے عملی اقدامات تو دور کی بات ایک بیان تک بھی جاری نہیں کیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بے گھر افراد ان دنوں مختلف مقامات پر سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ جعفرآباد اور نصیر آباد کے مضافات میں پھٹی پرانی جھونپڑیوں میں بدلتے موسموں کی تکلیفیں سہتے یہ لوگ اس انتظار میں ہیں کہ حالات بہتر ہوں اور وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائی۔  | | | متاثرین نے پنجاب اور سندھ میں بھی پناہ لی ہے | ان لوگوں سے میں نے پوچھا کہ آخر وہ واپس اپنے شہر اپنے گھروں کو کیوں نہیں جاتے، تو انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی میں ان کے رشتہ دار ہیں جنہیں شہر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے، دکانیں بند ہیں، ایک پیکٹ سگریٹ پچاس روپے میں اور ماچس کی ڈبیا پانچ روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ گھروں پر چھاپے لگائے جا رہے ہیں اور بے گناہ افراد کو گرفتار کرکے ان پر تشدد کیا جاتا ہے، کسی کو تو جان سے مار دیا جاتا ہے لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ضلع جعفرآباد کے صدر مرید بگٹی نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں فوجی صرف مزاحمت کاروں سے لڑتے تھے، بے گناہ افراد کو یا چرواہوں کو اور مال مویشیوں کو کچھ نہیں کہا جاتا تھا لیکن اب تو بھیڑ بکریوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں دسمبر دو ہزار پانچ میں بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا اور اس آپریشن کے نتیجے میں اسی ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔ ان کی مدد کے لیے بلوچستان اسمبلی نےایک کمیٹی قائم کی تھی۔ لیکن سابق رکن صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی کے مطابق صرف حزب اختلاف کے اراکین نے جعفر آباد، نصیر آباد اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا تھا جبکہ حکومتی اراکین غائب ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ مذاکرات اور مفاہمت کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے ان بے گھر پناہ گزینوں کی مدد کی جاتی، انہیں دوبارہ اپنے گھروں میں آباد اور بحال کیا جائے۔  | | | بلوچستان کے اراکین اسمبلی نے بھی متاثرین کی مدد نہیں کی | جنرل مشرف کے دور میں اقوام متحدہ کے ادارے اور ایدھی سمیت دیگر امدادی تنظیموں نے ان بےگھر افراد کی مدد کرنا چاہی لیکن اس وقت کی وفاقی حکومت نے انہیں منع کر دیا تھا اور صوبائی حکومت اس پر خاموش رہی تھی۔ اب موجودہ بلوچستان اسمبلی کے سپیکر محمد اسلم بھوتانی نے اراکین اسمبلی سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے ترقیاتی فنڈز میں سے دس دس لاکھ روپے سپیکر فنڈ میں جمع کرائیں تاکہ ان بےگھر افراد کی مدد کی جا سکے لیکن بلوچستان کے حقوق کے لیے لمبی چوڑی تقریریں کرنے والے بیشتر اراکین خاموش ہیں صرف سپیکر اور ایک آزاد رکن ظہور بلیدی نے یہ رقم جمع کرائی ہے۔ اس بارے میں اسلم بھوتانی سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ اتنے بڑے ایوان میں صرف دو اراکین ہی اپنے بلوچ بہن بھایوں کی مدد کے لیے سامنے آئے ہیں۔ قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا نے باجوڑ آپریشن کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا ہے اور اس کے لیے بلوچستان اسمبلی سے بھی مدد کے لیے ایک خط لکھا گیا تھا لیکن بلوچستان سے اس اپیل کو کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ مرکزی سطح پر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کے لوگوں کے لیے ایک کوشش کی گئی ہے لیکن بلوچستان کے ان پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کسی نے ہمدردی کے دو الفاظ بھی نہیں کہے اور نہ ہی اس طرف کوئی توجہ دی جا رہی ہے۔ |