حصص بازار میں مندی کا رجحان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی اسٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) پاکستان کا سب سے بڑا حصص بازار ہے جو ساڑھے تین ماہ کے کاروباری انجماد کے بعد پیر کو کھولا گیا تھا اور حسبِ توقع پورے ہفتے بازار میں شدید مندی غالب رہی اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس سولہ سو پوائنٹس سے بھی زیادہ نیچے گِر گیا۔ اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار ابھی مکمل طور پر معمول کے ساتھ نہیں کھولا گیا ہے اور سی ایف ایس یعنی عام زبان میں بدلے کے کاروبار میں کیے گئے گزشتہ سودوں پر انجماد برقرار ہے جسے اگلے ہفتے کاروبار کے آغاز پر کھولے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بازارِ حصص میں گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران کے ایس ای انڈیکس میں 1,673 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس 7,514 پوائنٹس کی سطح تک گِر گیا۔ حال ہی میں وزیرِ اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں ایک عشائیے کے دوران انکشاف کیا تھا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کو سہارا دینے کے لئے آئی ایم ایف نے حکومت کو بیس ارب روپے کا سپورٹ فنڈ دینے کا اشارہ دے دیا ہے۔ مشیرِ داخلہ کی اس یقین دہانی کے بعد بھی کراچی اسٹاک مارکیٹ میں اس بیان کا اثر دیکھنے میں نہیں آیا اور مارکیٹ میں مندی کا رجحان برقرار رہا۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے معاہدے کے بعد کراچی اسٹاک مارکیٹ کو بیس ارب روپے فراہم کرنے کا سرکاری وعدہ کھٹائی میں پڑگیا تھا تاہم اب مشیرِ خزانہ شوکت ترین نے یقین دہانی کرادی ہے لیکن اسٹاک مارکیٹ کے سرکردہ ممبر عقیل کریم ڈیڈھی مشیرِخزانہ کی اس یقین دہانی کو صرف بیان بازی قرار دیتے ہیں۔ عقیل کریم ڈیڈھی کا کہنا ہے کہ مشیرِ خزانہ صرف بیانات دیتے ہیں اور انہیں عملی طور پر نافذالعمل بنانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ ان کے بقول اسٹاک مارکیٹ میں خریداروں کی کمی ہے، اسٹاک مارکیٹ گِر رہی ہے اور سرمایہ کار دیوالیہ ہونے کی جانب جا رہے ہیں جبکہ مشیرِ خزانہ ابھی تک صرف بیان بازی سے ہی کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں اس طرح کی صورتحال پیش آتی ہے تو وہاں کی حکومتیں مارکیٹ میں مالی فقدان کو حل کرنے میں مدد دیتی ہیں لیکن پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں غیرمنتخب فرد کو مشیرِخزانہ بنایا گیا ہے اور وہ اس شعبے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ، ملک کی معیشت کا پیمانہ ہے اور اسے استحکام دینے کے لئے حکومت کو مؤثر اقدامات کرنے چاہیے۔ جہاں اس سال فروری میں کراچی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار پندرہ ہزار پوائنٹس سے بھی زیادہ تھا وہاں اپریل کے مہینے میں مندی نے ایسے ڈیرے ڈالے کہ مارکیٹ گرتی چلی گئی۔ نقصان سب سے زیادہ ان کا ہوا جن کا سرمایہ کم تھا کیونکہ مندی کی صورت میں زیادہ نقصان سہنا چھوٹے سرمایہ کاروں کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جولائی میں چھوٹے سرمایہ کاروں نے صبر کا دامن چھوڑ دیا اور وہ پُرتشدد احتجاج پر اتر آئے۔ مارکیٹ کی خراب ہوتی ہوئی ساکھ کو دیکھتے ہوئے بیرونی سرمایہ کار بھی اربوں ڈالر کا سرمایہ مارکیٹ سے نکالنے لگے اور کہا جاتا ہے کہ جب باری مقامی بڑے سرمایہ کاروں کے دیوالیہ ہونے کی آئی تو ستائیس اگست کو اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کو منجمد کر دیا گیا۔ جس سے بظاہر مارکیٹ مصنوعی طور پر عالمی مالیاتی بحران کے منفی اثرات سے محفوظ رہی لیکن عملاً مارکیٹ مفلوج رہی۔ ایک بڑے بروکریج ہاؤس ’آئی جی آئی سیکیورٹیز‘ کے سربراہ اظہر باٹلہ کہتے ہیں کہ مارکیٹ کو سرمایے کے فقدان کی وجہ سے بند کرنا پڑا تھا۔ اظہر باٹلہ کا کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ نکالنے کی وجہ سےفروخت کا دباؤ بڑھا اور ایسے وقت اگر سپورٹ فنڈ فراہم کیا جاتا ہے تو مارکیٹ میں استحکام آنے کی امید ہے۔ ان کے بقول مارکیٹ میں اگلے کاروباری ہفتے کے دوران بھی مندی کا رجحان جاری رہنے کا امکان ہے۔ |
اسی بارے میں شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ22 May, 2008 | پاکستان پاکستانی معیشت دباؤ میں: رپورٹ31 May, 2008 | پاکستان بجٹ کےموقع پر یوم سیاہ کا اعلان04 June, 2008 | پاکستان سندھ : خودکشیوں میں اضافہ13 July, 2008 | پاکستان ’دن کیسے بیت رہے ہیں وہ میں جانتی ہوں‘17 November, 2008 | پاکستان پورا مہینہ ادھار لے لےکر گزرتا ہے 23 November, 2008 | پاکستان معاہدے پر عمل، مہنگائی کم ترین03 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||