BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2008, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دن کیسے بیت رہے ہیں وہ میں جانتی ہوں‘

صوبیا
سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں پینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جس سے عام لوگوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل اضافے نے لوگوں کو اپنوں سے دور کر دیا ہے۔ دیارِ غیر میں مزدوری کرنے والے لوگ نہ تو خود بہتر زندگی گذارتے ہیں نہ ہی ان کے اہل خانہ کے حالات بدل رہے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں محمد شفیق شامل ہیں۔

سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں پینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے عام لوگوں کی تکالیف بڑھ گئی ہیں۔

محمد شفیق موٹر سائیکل کے مستری ہیں اور روزگار کی تنگی نے انہیں چھ ماہ قبل ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ سعودی عرب میں دن و رات کی مشقت کے انہیں ساڑھ چھ سو ریال مل رہے ہیں جس میں سے وہ نصف رقم اپنے اہل خانہ کو بھیجتے ہیں۔ یہ رقم پاکستان میں پانچ ہزار سے زائد بنتی ہے۔

ان کی بیگم صوبیہ شفیق کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے وہ جو رقم بھیج رہے ہیں وہ کافی نہیں کیونکہ بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی، بچوں کی تعلیم اور کھانا پینا اس رقم سے ممکن نہیں ہے۔

محمد شفیق اسی ہزار روپے کا قرضہ لے کر سعودی عرب گئے تھے اور ان کی اہلیہ پانچ ہزار روپے میں سے ایک ہزار روپے ماہانہ قسط ادا کرتی ہیں۔ اب یہ قرض کس طرح اتریں گے انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

شفیق کی بیگم صوبیہ شہر کے مرکزی علاقے صدر کے سرکاری دفاتر کے بلاک کے عقب میں واقع خدا کی بستی میں ایک کمرے کے مکان میں چار بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہیں۔ ٹین کی بنی ہوئی چھت خراب ہو چکی ہے جو ہر بارش میں ٹپکتی ہے۔ بارش کی رات انہیں جاگ کر گزارنا پڑتی ہے۔

 میرے شوہر یہ سوچ کر سعودی عرب گئے کہ وہاں مزدوری کرنے سے زندگی کے دن پھر جائیں گے مگر وہاں کفیل بہت تنگ کرتا ہے۔ کھانے کو نہیں دیتا اور مارتا ہے۔
صوبیہ شفیق

صوبیہ شفیق کا کہنا ہے کہ وہ ایک وقت کھانا پکاتی ہیں جسے دو وقت کھاتے ہیں۔ ’مہینے میں ایک کلو گھی اور چار کلو آٹا لیتے ہیں۔ عام طور پر دال اور سبزی کا استعمال کرتے ہیں۔ جب بچے تنگ کرتے ہیں تو وہ آدھا کلو گوشت بنا لیتی ہیں جسے تین روز استعمال کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’چالیس بیالیس روپے کلو دودھ ہے، صبح کو ناشتے میں صرف ڈبل روٹی اور چائے استعمال کرتے ہیں۔ نہ انڈے اور نہ مکھن، کچھ برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں بچت ہو ہی نہیں سکتی آدھا مہینہ ہوتا ہے تو پیسے ختم ہوجاتے ہیں اور اس وقت بھی پیسے نہیں آئے۔ قرض خواہوں نے زندگی حرام کر دی ہے‘۔

صوبیہ اور شفیق کے چار میں سے صرف دو بڑے بچے سرکاری سکول میں زیرِتعلیم ہیں جن میں سے ایک چوتھی جماعت اور دوسرا دوسری جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ تیسری بچی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ابھی اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اسے سرکاری اسکول میں بھی داخلہ کرائیں۔ ’سرکاری سکول میں بھی پڑھائی کہاں ہو رہی ہے بس یہ ہے کچھ تمیز آجائے گی۔‘

اس تنگی کی صورتحال میں اگر بچے بیمار ہوجائیں تو اس خاندان کی زندگی مزید مشکل بن جاتی ہے۔ صوبیہ شفیق کے مطابق پرائیوٹ ڈاکٹر پچاس روپے فیس لے رہے ہیں جبکہ دوائی کا خرچہ الگ ہے۔ اگر سرکاری ہسپتال جائیں تو ادھر ادھر کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور دوائی بھی نہیں ملتی۔ شفیق میٹرک پاس ہیں مگر کہتی ہیں کہ بچوں کو چھوڑ کر ملازمت نہیں کرسکتی ہیں جبکہ اور کوئی رشتے دار بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہا۔

’سرکاری سکول میں بھی پڑھائی کہاں ہو رہی ہے بس یہ ہے کچھ تمیز آجائے گی‘

بتیس سالہ صوبیہ شفیق حکومت کے ساتھ سیاسی جماعتوں پر بھی اعتماد نہیں کرتی ہیں۔ وہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے ہی نہیں جاتی ہیں کیونکہ ان کے مطابق ووٹ اس کو ڈالیں جو اپنا ہو یہاں تو سب کھانے کے لیے بیٹھے ہیں، اس لیے نہ جاؤ نہ ووٹ دو۔

وہ بتاتی ہیں کہ شادی کے گیارہ سال میں ان کے شوہر کبھی دور نہیں ہوئے مگر چائنا کی موٹر سائیکل کی آمد کی وجہ سے یہاں پر کام نہیں مل رہا تھا۔ ’وہ یہ سوچ کر سعودی عرب گئے کہ وہاں مزدوری کرنے سے زندگی کے دن پھر جائیں گے مگر وہاں کفیل بہت تنگ کرتا ہے۔ کھانے کو نہیں دیتا اور مارتا ہے۔‘

اب وہ سوچتی ہیں کہ گھر میں چٹنی روٹی بھی مل جائے تو باہر جانے سے بہتر ہے۔ ’دو سال کا ایگریمنٹ ہے اور یہ عرصہ جس طرح انہوں نے بتانا ہے اور جس طرح میں نے بتانا ہے وہ میں ہی جانتی ہوں۔‘

عزیز اور ترینآخر بینکر ہی کیوں
شوکت ترین بھی سٹی بینک سے منسلک رہے
معیشتمستحکم سے منفی
پاکستان کا عالمی معاشی درجہ رو بہ زوال
پٹرولدس فیصد پٹرول
قیمت میں کمی کا فائدہ دس فیصد سے کم کو
نوید قمراقتصادی سروے
’پاکستانی معیشت کے لیے اچھا سال نہیں تھا‘
معیشتسٹیٹ بینک رپورٹ
پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات میں اضافہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد