BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 November, 2008, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پورا مہینہ ادھار لے لےکر گزرتا ہے

عابد حسین
اخراجات کم کر دیے پھر بھی گزارہ مشکل سے ہوتا ہے
چالیس سالہ عابد حسین سکھر کی ایک سی ڈی مارکیٹ میں سیلز مین ہیں ۔ چمک دمک والی مارکیٹ کے ایک معمولی ملازم کی تنخواہ چھ سال پہلے تین ہزار سے شروع ہوئی تھی اور اب ساڑھے تین ہزار پر رک گئی ہے ۔

پاکستان میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عابد کی زندگی پر برے اثرات مرتب کیے ہیں ۔عابد کا کہنا ہے کہ سی ڈی شاپ کی تنحواہ سے چار بچوں ایک بیوی اور ماں باپ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔وہ پورا مہینہ ادھار لے کر گزارہ کرتے ہیں ۔

عابد کا کہنا ہےکہ جب سے ملک میں مہنگائی بڑھی ہے تب سے انہوں نےاپنےگھر کے ’فالتو‘ اخراجات بند یا کم کر دیےہیں ۔جب ان سے معلوم کیا کہ ان کی نظر میں وہ فالتو اخراجات کیا ہیں تو عابد نے کہا کہ اگر پہلے وہ ہر تین ماہ بعد اپنے لیے ایک سوٹ سلواتے تھے تو اب وہ چھ ماہ بعد کر دیا ہے ۔گھر سے مارکیٹ تک اگر پہلے سوزوکی یا رکشا میں آتے تھے تو وہ بند کر کے پیدل آنا شروع کیا ہے ۔

عابد نے اپنے اخراجات کے ساتھ ساتھ اہل خانہ کے بعض اخراجات بھی کم کردیے ہیں ۔ان کے مطابق اگر پہلے گھر میں ہفتے میں ایک مرتبہ گوشت پکاتے تھے تو وہ اب مہینے میں ایک مرتبہ کردیا ہے ۔بچوں کو چھٹی کے دن باہر لےجانا بند کردیا ہے ۔عابد کےمطابق اگر آپ بچوں کو پارک لے جائیں تو آپ کی جیب میں کم از کم پانچ سوروپے ہونے چاہیں ۔رکشا کا کرایہ ادا کرنے کے بعد اگر بچوں نے آئس کریم یا کسی اور چیز کےلیے ضد کردی تو آپ کیا کریں گے ؟ اس لیے انہوں نے بچوں کو باہر لے جانا ہی بند کردیا ہے ۔

عابد میرانی گریجوئٹ ہیں اور محکمہ پوسٹ آفس سے فارغ کیے گئے ملازم ہیں۔ عابد کو دو ہزار دو میں پوسٹ آفس میں کلرک کی نوکری ملی تھی مگر تین ماہ بعد انہیں ملازمت سے بقول ان کے بلا کسی وجہ کے فارغ کیا گیا تھا۔

سرکاری نوکری کی آس میں وہ روزانہ محکمہ پوسٹ آفس کے اعلی افسران کو اپنی درخواستیں فیکس کرتے رہتے ہیں ۔عابد کا کہنا ہے کہ کلرک کی تنخواہ بھی کم ہے مگر سرکاری ملازمت کےدوران تنخواہیں بڑھنے کی امید رہتی ہے ۔

عابد کے چار بچے ہیں جن میں سے تین سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں ۔ان کاکہنا ہے خانگی سکولوں کی فیس اور یونیفارم اتنے مہنگے ہوگئے ہیں کہ ان کا حصول ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔

عابد کا کہنا ہے کہ ان کی پریشانی تب بڑھ جاتی ہے جب گھر کا کوئی فرد بیمار پڑ جائے ۔ان کے مطابق بیماری کتنی معمولی ہی کیوں نہ ہو مگر انہیں اپنے عزیزوں یا رشتہ داروں سے ادھار لینا پڑتا ہے ۔جو وہ تنخواہ ملنے پر واپس کرتےہیں مگر ان کے گھر کا پورا بجٹ ڈسٹرب ہوجاتا ہے ۔

ہوش ربا مہنگائی
دس برس:اشیائے صرف کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ
ثناء اللہ بھٹہ کا خط
اس بجٹ سے بس ’مہنگائی آوے ہی آوے‘
نوٹ اور جھنڈامہنگائی کی لہر
پیٹرول کے نرخ میں اضافےسے مہنگائی کی لہر
اسلام آبادایک اور ریکارڈ
اسلام آباد کا ایک پلاٹ 6ارب نو کروڑ میں نیلام
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد