BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 July, 2008, 07:29 GMT 12:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ : خودکشیوں میں اضافہ

پاکستان غربت فائل فوٹو
سماجی تحفظ کے ادارے نہ ہونے کی وجہ سے مسائل میں اضافہ
پاکستان میں صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ایک عورت نے اپنے چھ ماہ کے بچے کو غربت کی وجہ سے ایدھی سنٹر کےحوالے کردیا ہے۔

ایدھی سنٹر حیدرآباد کے ترجمان معراج احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنیچر کو ایک پردہ پوش خاتون نے اپنا بچہ ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ وہ غربت کی وجہ سے بچے کی کفالت نہیں کرپارہی ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایدھی والے اچھے طریقے سے بچے کی پرورش کر پائیں گے۔

ایدھی سنٹر نے اپنے اصول کے تحت بچے کی ماں سے نام اور جائز ناجائز جیسے سوالات کرنے سے گریز کیا۔ایدھی سنٹر کے ترجمان کےمطابق حیدرآباد میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خاتون نے غربت کی وجہ سے اپنا بچہ ان کے حوالے کردیا ہے۔اس سے قبل غیر شادی شدہ جوڑوں سے پیدا ہونے والے بچے ایدھی سنٹر میں چھوڑے جاتے رہے ہیں۔

 سندھ میں غربت اور بیروزگاری سے تنگ آ کر سنیچر کے روز مختلف علاقوں میں کم از کم دو افراد نے خودکشی کی ہے

حیدرآباد میں سنیچر کے روز سانگھڑ ضلع کے رہائشی ایک مزدور کے نومولود بچے کو کفن دفن کے لیے ایدھی سینٹر حوالے کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ایک خاتون اپنی بہن کے بچے کو سول ہسپتال سے لائیں۔ان کے پاس نومولود بچے کے کفن ودفن کے انتظامات کےلیے رقم نہیں تھی۔بچے کی ماں ہسپتال میں زیرعلاج ہیں اور والد بیروزگار ہیں۔

سندھ میں غربت اور بیروزگاری سے تنگ آ کر سنیچر کے روز مختلف علاقوں میں کم از کم دو افراد نے خودکشی کی ہے۔

سانگھڑ ضلع کے شہر جہول میں ایک تیس سالہ بیمار نوجوان الہڈتا ماچھی نے علاج کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے خودسوزی کر دی ہے۔ان کے ورثاء کے مطابق وہ گزشتہ پانچ برسوں سے دمے اور جوڑوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے الہڈتا نے اپنےکمرے کا دروازہ بند کیا اور مٹی کا تیل جسم پر چھڑک کر خو کو آگ لگادی۔انہیں سانگھڑ اور حیدرآباد کی ہسپتالوں میں علاج کے لایا گیا مگر وہ بچ نہ سکے۔

 کم آمدنی والے افراد میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بعد خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے غربت نے انہیں خودکشی کے اور قریب کردیا ہے
پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد چانڈیو

سندھ میں سنیچر کے روز خودکشی کرنے والے دوسرے نوجوان کا تعلق سندہ کے وزیراعلٰی سید قائم علی شاہ کے آبائی ضلع خیرپور سے ہے۔خیرپور کے بچل شاہ محلے میں اٹھارہ سالہ نوجوان ولی محمد عرف ولن بھٹو نے مبینہ طور پر بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔

یونیورسٹی آف سندھ جامشورو کے شعبے اقتصادیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کم آمدنی والے افراد میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بعد خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ان کی بنیادی وجہ نفسیات ہے مگر غربت نے انہیں خودکشی کے اور قریب کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ایسے بہت سے غریب لوگ موجود ہیں جو خودکشیاں نہیں کرتے مگر سماجی تحفظ کے ادارے نہ ہونے کی وجہ سے کم آمدنی والے افراد خودکشی کے زیادہ قریب آگئے ہیں۔

سندھ میں بھوک ،غربت اور خودکشیوں کی خبریں ایسے وقت میں آرہی ہیں جب پیپلزپارٹی کی حکومت غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کے لیے روزانہ اخبارات میں بھاری رقم سے اشتہاری مہم کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں
’آج کل گزارہ قرض پر ہے‘
18 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد