BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 June, 2008, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھوکوں کے لیے ایدھی کامشن

ایدھی کا نیاء عزم
پاکستان کے فلاحی ادارے ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی نے جمعرات سے بھیک مشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ دس لاکھ غریب لوگوں کو روزانہ کھانا فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

کراچی میں بدھ کو عبدالستار ایدھی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں غربت اور مہنگائی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ جو لوگ بھوکے سے مر رہے ہیں اور دو وقت کا کھانا نہیں کھاسکتے وہ ان کے لیے پورے ملک میں بھیک مشن پر جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح وہ کوئٹہ روانہ ہو رہے ہیں جہاں سے وہ بھیک مشن شروع کریں گے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں وہ تمام بڑے شہروں میں جھولی پھیلائیں گے جس کے بعد چھوٹے قصبوں میں جائیں گے اور لوگوں سے بھیک لیں گے۔

مولانا ایدھی کا کہنا تھا کہ وہ دس لاکھ لوگوں کو روزانہ کھانا اور کپڑے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس سلسلے میں وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کریں گے کہ نوے سال کی اس عمر میں اپنے اس مشن کو پورا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کبھی بھی سرمایہ داروں اور زمینداروں سے چندہ لینا پسند نہیں کرتے وہ فقیر آدمی ہیں اور عام لوگوں سے ہی چندہ لیتے ہیں۔

اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کے لیے جاری وکلاء تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا ایدھی نے کہا کہ وکیل کی تحریک سے اس ملک کے غریب کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ججوں کی تنخواہ بڑھائیں، جج چلے جائیں یا آجائیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب مزید غریب ہو رہا ہے، حالیہ بجٹ ایک کھلی تلوار ہے جو سرمایہ داروں کا فائدہ لیکر آئی ہے۔

کراچی میں ہسپتال، لاوارث لوگوں کی کفالت کے سینٹر، سرد خانہ اور سب سے بڑی ایمولینس سروس چلانے والے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پنجاب سب سے زیادہ مدد کرتا ہے جبکہ کراچی سے وہ ناامید ہو چکے ہیں۔

مولانا ایدھی کے مطابق کراچی تقسیم اور فرقوں کا شہر ہے جہاں لٹیروں کا قبضہ ہے، وہ کیا کرسکتے ان میں اتنی طاقت نہیں ہے ’وہ تو ایک جھٹکے میں مجھے گولی مار کر ختم کر دیں گے مجھے شہید نہیں ہونا بھیک کے لیے زندہ رہنا ہے۔ میں کسی کو تکلیف دینے کا عادی نہیں خود ہی تکلیف اٹھاتا ہوں‘۔

ایدھی فاؤنڈیشن کا مرکزی دفتر محکمہ اوقاف کی ملکیت ہے جو تقسیم کے وقت ہندو خالی کر گئے تھے۔ انہیں حکومت کی جانب سے دفتر کے کرائے میں اضافے اور دفتر خالی کرنے کے لیے نوٹس بھیجےگئے ہیں۔

عبدالستار ایدھی کا کہنا تھا کہ محکمۂ اوقاف ہندو کمیونٹی کی جائیداد پر قابض ہے اور اب ان کے دفتر پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ حکومت کو اس کا نوٹس لیا چاہیے ورنہ ان کا پیٹ بھرنے کے لیے انہیں اس کے لیے بھی بھیک مانگنی پڑے گی۔

اسی بارے میں
ایدھی کی سفری دستاویز واپس
31 January, 2008 | پاکستان
ایدھی کی سفری دستاویز واپس
31 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد