BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 January, 2008, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایدھی کی سفری دستاویز واپس

عبد الستار ایدھی
ایدھی دنیا کے مختلف ممالک میں رفاہی کاموں میں حصہ لیتے ہیں
امریکی حکام نے پاکستان کے بین الاقوامی شہریت یافتہ سوشل ورکر عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ اور سفری دستاویزات بدھ کو واپس کر دیے ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے عبدالستار ایدھی نے بتایا کہ بدھ کی صبح وہ امریکی امیگریشن حکام کے سامنے پیش ہوئے ‎اور انہیں ان کا پاسپورٹ واپس کر دیا گیا اور، بقول ان کے انہیں ایک سال کے لیے امریکہ میں مستقل سکونت کا کارڈ ’گرین کارڈ‘ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیشی کے وقت امریکی حکام ان سے عزت اور خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ عبدالستار ایدھی نے کہا کہ پاکستانی حکام اور خاص طور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے اور نیویا رک کے پاکستانی قونصل خانے کی مدد سے ہی امریکی حکام نے انہیں ان کے سفری دستاویزات واپس کیے ہیں جوانہوں نے نو جنوری کو اپنی تحویل میں لیے تھے’ ورنہ یہ لوگ تو مجھے طالبان سمجھ بیٹھے تھے‘۔

عبدالستار ایدھی نے کہا کہ پاکستانی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک پر امریکی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کریں گے۔

 یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن افسران گرین کارڈ یا نان امیگرنٹ ویزا رکھنے والے تمام مسافروں کے داخلے پر ان کے دستاویزات کی پڑتال کرتے ہیں اور مختلف وجوہات پر ان پر اقدام لے سکتے ہیں اور ایسا ڈیفرل قدم کسی بھی صورت میں منفی کاروائی یا ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا عندیہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس اقدام سے مراد امریکہ میں داخل ہونے والے مسافر کی امیگریشن حیثیت اور اس کے داخلے کی اہلیت کا جائزہ لینا ہوتی ہے‘۔
سیریلو لوسیل

عبدالستار ایدھی کے مطابق وہ کچھ دن مزید نیویارک میں قیام کریں گے اور اپنے گرین کارڈ کی درخواست کی اپنے وکیل کی معرفت پیروی کے بعد واپس پاکستان چلے جائيں گے۔

ادھر امریکی’بارڈر پروٹیکشن‘ کے رابطہ افسر سیریلو لوسیل نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بذریعہ ای میل بتایا ہے کہ نجی زندگی میں عدم مداخلت یا پرائیویسی کے قوانین کی وجہ سے وہ اس صورتحال پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ’یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن افسران گرین کارڈ یا نان امیگرنٹ ویزا رکھنے والے تمام مسافروں کے داخلے پر ان کے دستاویزات کی پڑتال کرتے ہیں اور مختلف وجوہات پر ان پر اقدام لے سکتے ہیں اور ایسا ڈیفرل قدم کسی بھی صورت میں منفی کاروائی یا ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا عندیہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس اقدام سے مراد امریکہ میں داخل ہونے والے مسافر کی امیگریشن حیثیت اور اس کے داخلے کی اہلیت کا جائزہ لینا ہوتی ہے‘۔

امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے افسر عوامی رابطہ نے مزید کہا کہ جب جانچ پڑتال ملتوی ہوجاتی ہے تو اس میں سماعت کی تاریخ تک سفری دستاویزات تحویل میں لینا معمول کی کارروائي ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ عبدالستار ایدھی نے کہا تھا کہ نو جنوری کو ان کی لندن سے نیویارک آمد پر امریکی حکام نے انہیں آٹھ گھنٹے تک روکے رکھا تھا اور بقول ان کے عقیدے، لباس اور شیبہ کی بنیاد پر ان سے سوالات کیے تھے اور ان کا پاکستانی پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویز اب اپنی تحویل میں لے کر انہیں بیس جنوری کو پیش ہونے کو کہا تھا-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد