ایدھی کی سفری دستاویز واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بین الاقوامی شہریت یافتہ سوشل ورکر عبدالستار ایدھی کا پاسپورٹ اور سفری دستاویزات جو کہ امریکہ پہنچنے پر ضبط کر لی گئی تھیں بدھ کو واپس کر دی گئی ہیں۔ نیویارک سے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے عبدالستار ایدھی نے کہا ہے کہ پاکستان کی دفترِ خارجہ کی مداخلت کے بعد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ان کی سفری دستاویز واپس کر دی ہیں۔ نو جنوری کو امریکہ کے جے ایف کے ہوائی اڈے پر عبدالستار ایدھی کا پاکستانی پاسپورٹ اور گرین کارڈ ضبط کر لیا گیا تھا اور انہیں بیس جنوری کو حکم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عبدالستار ایدھی نے پاکستان کے دفترِ خارجہ، پاکستانی ذرائع ابلاغ اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی پاکستان جائیں گے اور ایک پریس کانفرنس کے ذریعے پوری قوم کا شکریہ ادا کریں گے۔ عبدالستار ایدھی نے کہا کہ سفری دستاویز ضبط کئے جانے سے وہ اپنے آپ کو معذور محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ستر سال انسانیت کی خدمت کی ہے اور اس واقعے سے انہیں دکھ ہوا ہے۔ عبدالستار ایدھی نے کہا کہ انہوں نے نیا گرین کارڈ حاصل کرنے کی درخواست دے دی ہے اور ان کی انگلیوں کے نشانات ابھی لیے جانے ہیں جس کے بعد وہ پاکستان واپس چلے جائیں گے۔ اس سوال کے جواب میں کہ انہیں گرین کارڈ حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی عبدالستار ایدھی نے کہا کہ امریکہ میں کوئی ادارہ رجسٹر کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فاونڈیشن یہاں پر رجسٹر ہے اور فلاحی اور رفاعی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلقیس ایدھی ریلیف فاونڈیشن کو بھی امریکی میں رجسٹر کرا دیا گیا ہے اور وہ ہی امریکہ میں کام کرے ایدھی کے باقی اداروں کو آھستہ آھستہ بند کر دیا جائک گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی ہر سال انہیں ساٹھ لاکھ ڈالر سے زیادہ کے عطیات دیتے ہیں اور اتنی ہی رقم برطانیہ میں پاکستانی مہیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے انہیں ہر سال اربوں روپے کا چندہ ملتا ہے۔ عبدالستار ایدھی نے کہا کہ انہیں امریکی حکومت کی طرف سے بھی رقم مہیا کرنے کی پیش کش ہوئی تھی جو انہوں نے قبول نہیں کی۔ ’مجھے پاکستانی قوم بہت رقم دیتی ہے جو میرے فلاحی کاموں سے زیادہ ہے۔‘ تاہم امریکہ نے انہیں ایک ہیلی کاپٹر دیا تھا جو گزشتہ دس سال سے پاکستان میں فلاحی کاموں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ عبدالستار ایدھی نے کہا کہ اس کے علاوہ ان کے ادارے کے پاس تین جہاز بھی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے یا امدا مہیا کرنے کی ضرورت پڑتی ہے وہ اس میں شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں گزشتہ سال قطرینہ طوفان کے وقت انہوں نے ایک لاکھ ڈالر کی مدد فراہم کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ بھی وہ امریکہ کی مختلف تنظیموں کو امداد مہیا کرتے رہتے ہیں۔ | اسی بارے میں امریکہ میں سفری دستاویزضبط:ایدھی28 January, 2008 | پاکستان امیگریشن قوانین: نیویارک میں مظاہرہ02 April, 2006 | آس پاس بش کے امیگریشن پروگرام پر اختلاف16 May, 2006 | آس پاس ایدھی لاڑکانہ عدم تحفظ پر بند 06 July, 2005 | پاکستان عبدالستار ایدھی دمشق پہنچ گئے23 July, 2006 | پاکستان عبدالستارایدھی بیروت پہنچ گئے24 July, 2006 | پاکستان کراچی میں ایدھی محصور بے بس24 June, 2007 | پاکستان ایم کیوایم دھمکیاں دے رہی ہے‘ ایدھی20 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||