BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2008, 18:33 GMT 23:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسدادِدہشتگردی کی خریداری مؤخر

میرئیٹ دھماکہ
حملے کے بعد میریٹ ہوٹل سے شعلے اٹھنے لگے جو دور دور سے دکھائی دیتے تھے
ملک میں خود کش حملوں کو روکنے کے لیے بیرون ممالک سے سکینرز اور دوسرا سامان درآمد کرنے کا معاملہ تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس سامان کی خریداری کے سلسلے میں تیار کی جانے والی سمری وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کے متعلقہ افسران کو بھیجی جا رہی ہیں تاہم اس حوالے سے فنڈز جاری کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔


معلوم ہوا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ قاف کے دور حکومت میں منصوبہ بنایا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر خود کش حملوں کو روکنے کے لیے مختلف نوع کا درکار سامان خریدا جائے گا جس کے لیے جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے۔

سابق نگران حکومت کے دور میں اُس وقت کے وزیر داخلہ لیفٹینٹٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے بھی اس منصوبے پر مذاکرات شروع کیے لیکن کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال ستمبر میں اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے کے بعد حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر یہ آلات درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان آلات کے بارے میں وزارت داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ منصوبے کے مطابق ان سکینرز کو اہم شہروں کے داخلی راستوں پر لگایا جانا تھا جس کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکار بارود سے بھری ہوئی مشکوک گاڑیوں اور افراد کا دور سے ہی پتہ چلانے کے قابل ہو جاتے۔

متعلقہ ادارے چاہتے ہیں
 ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ان آلات کی خریداری میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے متعدد بار یادہانی بھی کروائی ہے
وزارت داخلہ

وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ان آلات کی خریداری میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے متعدد بار یادہانی بھی کروائی ہے۔

وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسس میجمنٹ سیل کے سابق سربراہ جاوید اقبال چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان آلات کی خریداری کے لیے چین کی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور بہت زیادہ پیش رفت ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دورۂ چین کے دوران معاہدے کی ایک یاداشت پر دستخط بھی ہوئے ہیں جس کے مطابق چینی کمپنی اس سامان کی تیاری کے لیے آسان بنیادوں پر قرضہ بھی دے گی۔

واضح رہے کہ امریکہ میں قائم بعض کمپنیوں کے ایک نمائندہ وفد نے رواں مہینے کے دوران مختلف پاکستانی سول اور فوجی اداروں کی عمارتوں اور پبلک مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی مصنوعات کے بارے میں بریفنگ دی ہے۔ ان آلات میں بم دھماکوں کو روکنے اور ان سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

منصوبہ بندی کمشن کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سکینرز اور دیگر آلات کی خریداری کے سلسلے میں ابتدائی مالیاتی تخمینہ تیار کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد سمیت ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں اہم مقامات پر کلوز سرکٹ کمیرے تو لگا دیے گئے ہیں تاہم اس ضمن میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

دھماکے کی اگلی صبح
دن کی روشنی میں تباہی کا منظر: تصاویر
قیامت خیز مناظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
قیامت خیز منظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
اسلام آباد دھماکہجمہوریت اور امن
’جمہوریت تو آگئی لیکن امن نہیں آیا‘
خود کش حملہمیریئٹ نشانے پر
اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ
امریکی فوجیامریکہ ’تنہا‘ رہ گیا
پاکستان پر حملے، پالیسی کی پسپائی
اسی بارے میں
’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘
15 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد