انسدادِدہشتگردی کی خریداری مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک میں خود کش حملوں کو روکنے کے لیے بیرون ممالک سے سکینرز اور دوسرا سامان درآمد کرنے کا معاملہ تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس سامان کی خریداری کے سلسلے میں تیار کی جانے والی سمری وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کے متعلقہ افسران کو بھیجی جا رہی ہیں تاہم اس حوالے سے فنڈز جاری کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ قاف کے دور حکومت میں منصوبہ بنایا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر خود کش حملوں کو روکنے کے لیے مختلف نوع کا درکار سامان خریدا جائے گا جس کے لیے جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے۔ سابق نگران حکومت کے دور میں اُس وقت کے وزیر داخلہ لیفٹینٹٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے بھی اس منصوبے پر مذاکرات شروع کیے لیکن کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال ستمبر میں اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے کے بعد حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر یہ آلات درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان آلات کے بارے میں وزارت داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ منصوبے کے مطابق ان سکینرز کو اہم شہروں کے داخلی راستوں پر لگایا جانا تھا جس کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکار بارود سے بھری ہوئی مشکوک گاڑیوں اور افراد کا دور سے ہی پتہ چلانے کے قابل ہو جاتے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ان آلات کی خریداری میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے متعدد بار یادہانی بھی کروائی ہے۔ وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسس میجمنٹ سیل کے سابق سربراہ جاوید اقبال چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان آلات کی خریداری کے لیے چین کی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور بہت زیادہ پیش رفت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دورۂ چین کے دوران معاہدے کی ایک یاداشت پر دستخط بھی ہوئے ہیں جس کے مطابق چینی کمپنی اس سامان کی تیاری کے لیے آسان بنیادوں پر قرضہ بھی دے گی۔ واضح رہے کہ امریکہ میں قائم بعض کمپنیوں کے ایک نمائندہ وفد نے رواں مہینے کے دوران مختلف پاکستانی سول اور فوجی اداروں کی عمارتوں اور پبلک مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی مصنوعات کے بارے میں بریفنگ دی ہے۔ ان آلات میں بم دھماکوں کو روکنے اور ان سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ منصوبہ بندی کمشن کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سکینرز اور دیگر آلات کی خریداری کے سلسلے میں ابتدائی مالیاتی تخمینہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد سمیت ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں اہم مقامات پر کلوز سرکٹ کمیرے تو لگا دیے گئے ہیں تاہم اس ضمن میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ |
اسی بارے میں ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا12 July, 2008 | پاکستان کراچی حملہ: ملزم کو سزائے موت 05 March, 2008 | پاکستان میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان سوات مزید آٹھ پولیس اہلکار رہا18 September, 2008 | پاکستان دہشت گرد کے خلاف جنگ: سرحد کی دہلیز پر10 September, 2008 | پاکستان بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد17 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||