BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 October, 2008, 20:12 GMT 01:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میریٹ دھماکہ، چھوٹے ہوٹل نشانے پر

چھوٹے ہوٹل سکیورٹی رسک تصور کیے جانے لگے ہیں۔
اسلام آباد کو ہوٹلوں میں کھانا کھانے کے لحاظ سے پاکستان کا ایک مہنگا شہر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں مہنگے ریستورانوں کے علاوہ چھپر ہوٹل بھی نظر آتے ہیں جہاں کم آمدن والے طبقے کو سستا کھانا مل جاتا ہے ۔تاہم دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر حکام کے لیے یہ ہوٹل بھی سکیورٹی رسک بن گئے ہیں ۔

خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر حکام کی جانب سے ریڈ زون کے علاقے میں سستے چھپر ہوٹلوں کو اکثر بند کر دیا جاتا ہے۔ جس سے ہوٹلوں کے مالکان تو پریشان ہیں ہی، وہاں کام کرنے والے بیسیوں مزدور بھی بے روز گار ہو گئے ہں۔

جبکہ ان ہوٹلوں میں آنے والوں کا کہنا ہے کہ ہوٹل بند ہونے کی وجہ سے انھیں اکثر بھوکا گھر واپس جانا پڑتا ہے۔

ریڈ زون میں ریڈیو پاکستان کے سامنے واقع ایک ہوٹل کے مالک طالب عباسی نے بتایا کہ وہ تیس سال سے ہوٹل چلا رہے ہیں لیکن ایک ماہ سے حکام کی جانب سے آئے روز ہوٹل بند کرنے کے لیے کہا جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے کاروبار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

ان ہوٹلوں پر طالب علموں اور سرکاری ملازمین کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے۔

واضع رہے کہ اسلام آباد کے دو سیکڑز کو گزشتہ ماہ میریئٹ ہوٹل پر ہوئے خودکش حملے کے بعد انتہائی سخت سکیورٹی کے تحت ریڈ زون قراد دیا گیا تھا۔ ان سیکڑز میں ایوان صدر، قومی اسمبلی اور غیر ملکی سفارت خانوں سمیت دیگر سرکاری اداروں کی عمارتیں واقع ہیں۔

طالب عباسی کے مطابق پولیس کی ہدایت پر قومی اسمبلی کے بند کمرہ اجلاس کے دوران پندرہ روز تک انھوں نے ہوٹل کو بند رکھا ہے ۔ لیکن اس سے پہلے بھی جب بھی کسی اہم شخصیت کو گزرنا ہو یا معمول میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہو تو ’سختی ہم غریب چھپر ہوٹل والوں پر ہوتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ہوٹل پر چار ملازم کام کرتے ہیں لیکن اب کام نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ملازمت سے فارغ کرنا پڑے گا۔

 ’ان کے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں سوچا تھا کہ ان کو اچھی تعیلم دونگا لیکن اب ان کا پیٹ پالنا بھی مشکل لگ رہا ہے
مزدور ذولفقار علی

کچھ ہی فاصلے پر ایک دوسرے کھوکھا ہوٹل میں چائے پینے کے لیے آنے والے خادم حسین نے بتایا کہ وہ ماسڑر کے طالب علم ہیں اور قریب میں واقع سرکاری لائبریری میں مطالعے کے لیے آتے ہیں۔ انھوں نے بتایا لائبریری میں کھانا بہت مہنگا ملتا ہے جس کی وجہ سے وہ یہاں آ کر سستا کھانا کھاتے ہیں لیکن اب یہ ہوٹل بھی آئے روز بند رہتے ہیں جس کی وجہ سے شام کو بھوکا ہی واپس گھر واپس جانا پڑتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہوٹل بند ہونے کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی بند کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پہلے لائبریری میں دو سو کے قریب طالب علم رزانہ آتے تھے اب ان کی تعداد کافی کم ہوگئی ہے۔

ہوٹل کے مالک محمد نسیم نے بتایا کہ وہ پندرہ سال سے ہوٹل چلا رہے ہیں لیکن میریئٹ ہوٹل پر خودکش حملہ کے بعد اس علاقے میں تعمیراتی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہیں جبکہ آئے روز سکیورٹی کے پیش نظر مزدورں کو بھی ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کا کام آدھے سے بھی کم ہو کر رہ گیا ہے۔

کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کام کرنے والے سرکاری ادارے کے ڈائریکٹر کیپٹن ریٹائرڈ فیض احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر انھوں نے ریڈ زون میں غیر قانونی طور پر قائم چار چھپر ہوٹلوں کو مسمار کیا ہے۔ اس کے علاوہ جائز طور پر قائم دیگر سترہ کو جلد ہی دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان ہوٹلوں میں سرکاری اداروں کے ملازمین اور مزدور کھانے کے لیے آتے ہیں لیکن سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر ان ہوٹلوں کو یہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنا لازمی ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں چھپر ہوٹلوں پر کام کرنے والے مزدوری کی تلاش میں بیٹھے نظر آتےہیں۔

ان میں سے شمریز عباسی نے بتایا کہ وہ ریڈ زون میں واقع ایک ہوٹل میں کام کرتے تھے لیکن گزشتہ ایک ماہ سے وہاں کام ہی نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ویسے بھی بے روز گاری اتنی ہے کہ کسی اور جگہ کام بھی نہیں ملتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’صبح کے اوقات میں تین سو کے قریب میرے جیسے مزدوری کی تلاش میں بیٹھے ہو تے ہیں لیکن زیادہ تر مایوس واپس لوٹتے ہیں۔‘

ایک دوسرے مزدور ذوالفقار علی نے بتایا کہ دو پندرہ سال سے تندور پر روٹی لگانے کا کام کر رہے ہیں لیکن بیس پچیس روز سے کوئی کام نہیں مل رہا ہے۔

پہلے ریڈ زون میں واقع تیس چالیس ہوٹلوں میں سے کسی نہ کسی میں کام مل جاتا تھا لیکن اب وہاں کئی کئی روز سکیورٹی حکام کی طرف سے جانے کی اجازت نہیں ملتی ہے۔

انھوں نے آبدید لہجے میں بتایا کہ ’ان کے چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں سوچا تھا کہ ان کو اچھی تعیلم دونگا لیکن اب ان کا پیٹ پالنا بھی مشکل لگ رہا ہے۔‘

دھماکے کی اگلی صبح
دن کی روشنی میں تباہی کا منظر: تصاویر
قیامت خیز مناظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
قیامت خیز منظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
اسلام آباد دھماکہجمہوریت اور امن
’جمہوریت تو آگئی لیکن امن نہیں آیا‘
خود کش حملہمیریئٹ نشانے پر
اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ
امریکی فوجیامریکہ ’تنہا‘ رہ گیا
پاکستان پر حملے، پالیسی کی پسپائی
اسی بارے میں
’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘
15 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد