ہوٹلوں کی حفاظت کے لیے رینجرز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میریئٹ ہوٹل میں سنیچر کی شب ہونے والے خودکش حملے کے بعد ملک کےسب سے بڑے شہر کراچی میں واقع فائیو سٹار ہوٹلوں پر پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں جبکہ بظاہر خوف و ہراس کی وجہ سے کئی تقریبات منسوخ ہوگئی ہیں۔ دوسری طرف کراچی شہر کے پولیس سربراہ وسیم احمد کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑیوں سے خودکش حملے جرم کا ایک نیا طریقہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے پولیس اور انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی تربیت کی ضرورت ہے۔ شہر میں واقع فائیو سٹار ہوٹلوں میریٹ، پرل کانٹیننٹل، شیریٹن اور آواری ٹاورز کے علاوہ بعض فورسٹار ہوٹلوں پر بھی پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جبکہ چیکنگ تین گنا بڑھا دی گئی ہے۔ میریئٹ ہوٹل کراچی کے ایک اہلکار کے بقول ہوٹل میں داخل ہونے والے مہمانوں کی تین مرتبہ چیکنگ کی جارہی ہے جبکہ ہوٹل کی عمارت کو جانے والے راستوں پر رکاوٹیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر وسیم احمد نے بتایا کہ ’ہم نے فائیو سٹار ہوٹلوں اور دوسری ایسی عمارتوں کی سکیورٹی کے ذمہ دار لوگوں سے میٹنگ کی ہے جنہیں ممکنہ طور پر خطرہ ہوسکتا ہے جس میں ہم نے ان ایریاز کی نشاندہی کی ہے جہاں سکیورٹی کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت تھی اور اسکے مطابق ہم نے سکیورٹی کے انتظامات بہتر کئے ہیں‘۔ اس سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ پولیس کے انٹیلی جینس نیٹ ورک کو بہتر بنایا ہے سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی تعداد بڑھائی ہے اور انہیں اس بارے میں بتایا گیا ہے کہ خطرہ کس طرح کا ہے اور اس سے کیسے نمٹنا ہے۔ ’ہم سکیورٹی کے نظام میں انٹیلی جینس کے آلات بھی بروئے کار لارہے ہیں اور ہم نے سرویلنس کیمرے وغیرہ جہاں پر مناسب ہم سمجھتے تھے وہ بھی لگائے ہیں‘۔ پولیس سربراہ کے مطابق جن عمارتوں کو دہشتگردی کا ممکنہ خطرہ لاحق ہے اس کو جانے والے ذیلی راستوں پر روڈ بلاکرز اور آہنی رکاوٹیں لگائی ہیں تاکہ خودکش حملہ آور کو عمارت سے دور ہی روکنا ممکن ہو۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان تمام انتظامات کے باوجود گاڑیوں کے ذریعے ہونے والے خودکش حملوں کو روکنے کا زیادہ تر دارومدار انسانی انٹیلی جینس پر ہے۔ ’کراچی دنیا کے سو ملکوں سے بڑا شہر ہے اور اسکی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ آبادی ہے، یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے اور بڑا چیلنجگ (دشوار) کام ہے۔ اسکا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنے انٹیلی جینس نیٹ ورک کو فعال کرنا پڑے گا تاکہ اگر کوئی اس طرح ٹرک میں بارود لیکر شہر میں پھرتا ہے تو ہم اس قابل ہوں کہ ہمیں اسکی پیشگی اطلاع مل سکے‘۔ ان کے بقول اس کے لئے پولیس اور انٹیلی جینس کے اداروں کو اس خطرے کی روک تھام کے لئے ضروری تربیت اور آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے اور ’اس کے لئے ہم تمام ممکنہ کوششیں کررہے ہیں‘۔ کراچی ملک کا ساحلی اور سب سے بڑا کاروباری شہر ہے اور میرییٹ ہوٹل اسلام آباد کی تباہی کے بعد وہاں کے فائیو اور فور سٹار ہوٹلوں کے کاروبار پر براہ راست اثر پڑا ہے۔ بیشتر فائیو سٹار ہوٹلوں کے منتظمین نے بی بی سی کو بتایا کہ رمضان کے مہینے میں مہمانوں کی آمدورفت اور تقریبات کا انعقاد کم ہی ہوتا ہے اور زیادہ تر کاروبار کا انحصار افطار پارٹیوں اور دوسری چھوٹی موٹی تقریبات پر ہوتا ہے۔ ان کے بقول اسلام آباد دھماکے کے بعد بعض غیرملکی کمپنیوں کی جانب سے افطار پارٹیوں کے پروگرام منسوخ ہوئے ہیں اور کھانے پینے اور گپ شپ کی غرض سے آنے والے مہمانوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے تاہم بیشتر ہوٹلوں کے منتظمین نے اس بات کی تردید کی کہ واقعے کے بعد غیرملکی مہمان ہوٹل چھوڑ کر گئے ہیں۔ مئی 2002ء میں شیریٹن ہوٹل کراچی پر ایک خودکش حملے میں گیارہ فرانسیسی شہریوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ میریٹ ہوٹل کراچی پر مارچ 2006ء میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں امریکی سفارتی اہلکار سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘21 September, 2008 | پاکستان ’عام جنگ نہیں گوریلا وار ہے‘21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان حملہ القاعدہ کے خطرے کا مظہر:بش20 September, 2008 | پاکستان ’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘20 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||