مشترکہ پارلیمان سے صدر زرداری کا خطاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نومنتخب صدر آصف علی زرداری آج سہ پہر تین بجے پارلیمان سے خطاب کر رہے ہیں جس میں امکان ہے کہ وہ حکومت کی ترجیحات کے بارے میں پالیسی بیان دیں گے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پارلیمنٹ کے اجلاس کے لیے خصوصی پاس جاری کیے گئے ہیں۔ یہ قریباً پانچ برس بعد پہلا موقع ہے کہ کوئی پاکستانی صدر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرے گا۔ اس سے قبل سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے اپنے دورِ صدارت میں صرف ایک مرتبہ سنہ 2004 میں پارلیمان سے خطاب کیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق آصف علی زرداری کا بطور صدرِ مملکت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے یہ پہلا خطاب ہے اور یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے تعاون کے متعلق پاکستان پر حالیہ امریکی حملوں کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات پر بھی بات کریں گے۔ خطاب سے قبل صدر آصف زرداری نے جمعہ کی شب ایوانِ صدر میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی سے بھی ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بارے میں وزیراعظم پاکستان کے پریس سیکرٹری زاہد بشیر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ افطار پر ہونے والی ملاقات میں تینوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائےگی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق حکومت کی سابق اتحادی اور اب حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف بھی صدر کا خطاب سننے کے لیے پارلیمان میں موجود ہوں گے۔ انہیں خود صدر زرداری نے اجلاس کی کارروائی دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے نئے مقرر کردہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان صدر سے پہلے ہی مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ پارلیمان سے خطاب میں صدر پرویز مشرف کی متعارف کردہ سترہویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا اعلان کریں اور اختیارات ایوان صدر سے پارلیمان یعنی وزیراعظم کو منتقل کریں۔
آئین کی شق چھپن کی ذیلی شق تین کے تحت صدرِ پاکستان ہر پارلیمانی سال کے ابتدا میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے پابند ہیں۔ سنہ 1985ء میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کا مشترکہ اجلاس سے خطاب لازمی قرار دیا گیا تھا۔اس سے قبل آئین میں یہ خطاب شامل تھا تاہم لازم نہیں تھا۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں انیس سو نوے سے لے کر سنہ دو ہزار چار تک تمام صدور کے خطاب کے دوران میں حزب مخالف کی جانب سے زبردست احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی اسی احتجاج کو بنیاد بنا کر اپنے قریباً نو سالہ دورِ اقتدار میں صرف ایک مرتبہ سنہ 2004 میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا اور اس خطاب کے دوران انہیں شدید نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سے قبل صدر غلام اسحاق خان کے دورِ صدارت میں ان کے خلاف اس وقت کی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کا ’گو بابا گو‘ کا نعرہ مشہور ہوا تھا اور صدر فاروق لغاری کے زمانے میں مسلم لیگ(ن) کے احتجاج کے دوران حزب مخالف کے ارکان زخمی بھی ہوگئے تھے۔ ادھر صدر کے خطاب سے چند گھنٹے قبل سپریم کورٹ کے چار جج بھی حلف اٹھا رہے ہیں۔ حلف اٹھانے والے چار ججوں میں سے دو جسٹس رضا خان اور جسٹس ناصر المک سپریم کورٹ کے معزول جج ہیں جبکہ دیگر دو ججوں میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس سرمد جلال عثمانی شامل ہیں۔ جسٹس صبیح الدین سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس ہیں جبکہ سرمد جلال عثمانی نے بھی حال ہی میں دوبارہ حلف اٹھا کر معزولی ختم کی تھی۔ صدر کے خطاب سے قبل سپریم کورٹ کے ججوں کی حلف برداری کو بھی ممکنہ احتجاج کی اہمیت کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں ’کشمیر پر جلد خوشخبری‘09 September, 2008 | پاکستان پالیسی سازی کے لیے مشاورت شروع10 September, 2008 | پاکستان ’امید ہے اب حملے نہیں ہوں گے‘16 September, 2008 | پاکستان ’امریکہ سے معاہدے ختم کریں‘18 September, 2008 | پاکستان ’امریکی معاہدوں کا مسئلہ اٹھائیں گے‘19 September, 2008 | پاکستان سپریم کورٹ، مزید ججوں کی تعیناتی19 September, 2008 | پاکستان بش، من موہن سے ملاقاتیں متوقع19 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||