BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 July, 2008, 07:50 GMT 12:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد:ہلاکتیں بیس، تحقیقات جاری

اسلام آباد دھماکہ
دھماکے بعد متاثرہ علاقہ سِیل کر دیا گیا ہے
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میلوڈی مارکیٹ کے قریب اتوار کو ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کو پیر کی صبح سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنا دیا گیا ہے۔

ادھر دھماکے کے بعد پمز ہسپتال میں داخل کیے جانے والے زخمیوں میں سے ایک سپیشل برانچ کے اہلکار حسنات کی ہلاکت سے مرنے والوں کی تعداد بیس ہوگئی ہے جبکہ اس خود کش حملے کے نتیجے میں چالیس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ انہیں مبینہ خودکش حملہ آور کے جسم کے ٹکڑے ملے ہیں جنہیں بنیاد بنا کر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔انہوں نے حملہ آور کی شناخت میں مدد دینے والوں کے لیے پچاس لاکھ روپے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔

مختلف تحقیقاتی اداروں کے درجن بھر اہلکاروں نے پیر کی صبح جائے وقوعہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور وہاں سے مزید شواہد اکٹھے کیے۔ دھماکے کے بعد سے یہ علاقہ خاردار تاروں، پیلی ٹیپ اور بیرئیرز سے سیل کیا گیا ہے۔

تاحال کسی فرد یا تنظیم نے ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جو ایک برس میں اب تک کا سب سے زیادہ جان لیوا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس کے مطابق حملہ آور ایک سترہ سے اٹھارہ برس کی عمر کا نوجوان تھا جس نے چائے کے سٹال پر موجود پولیس اہلکاروں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ امید ہے کہ پولیس آج کسی وقت مبینہ حملہ آور کا خاکہ جاری کرےگی۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق تفتیش میں لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز سے جیل میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ملاقات کرنے والوں کی فہرست کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان سے ملنے والوں میں قاری سیف اللہ بھی شامل ہے۔ قاری سیف اللہ کو حکومت نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شک میں گرفتار کیا تھا تاہم کئی ہفتوں کی تفتیش کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں نے پیر کی صبح جائے وقوعہ کا تفصیلی جائزہ لیا

پیر کی صبح تھانہ آبپارہ میں اس دھماکے کے لیے نامعلوم افراد کے خلاف سیکشن 302 (قتل اور اقدام قتل)، 4/3 ایکسپلوسیِو ایکٹ، ATA-7 (انسداد دہشت گردی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے حکم پر مختلف تحقیقاتی اداروں کے ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ تفتیشی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کی سربراہی آئی جی اسلام آباد اصغر رضا گردیزی کر رہے ہیں۔ تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں میں اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس دونوں کے اہلکار شامل تھے جن کی نماز جنازہ اسلام آباد اور پنڈی کی پولیس لائنز میں ادا کی گئیں۔ نمازِ جنازہ کے بعد میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی ملائیشیا کے تین روزہ دورے پر روانگی سے پمز ہسپتال جا کر زخمیوں کی عیادت کی ہے۔وزیراعظم نے صحافیوں سے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے اور اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

ادھر حکمراں اتحاد کی ناراض جماعت مسلم لیگ (ن) نے اسلام آباد حملے کو ’سکیورٹی لیپس’ قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ حکومت کو سکیورٹی انتظامات میں مزید بہتری لانی چاہیے۔

یاد رہے کہ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کی برسی کے موقع پر علماء کنونشن کا انعقاد ہو رہا تھا اور اس حوالے سے شہر بھر میں سکیورٹی کا خصوصی بندوبست کیا گیا تھا۔

محمد صدیقلواحقین کا غم
’ کاش میں اپنے لال کو سبزی لینے نہ بھیجتی‘
پولیس اہلکاراسلام آباد دھماکہ
دھماکے کا شکار پنجاب، اسلام آباد پولیس اہلکار
زخمی پولیس اہلکارعینی شاہد
کان بند ہوگئے، زمین ہلتی ہوئی ۔۔۔
دھماکے کے عینی شاہد
’پولیس والوں کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد