BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 July, 2008, 01:24 GMT 06:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد میں خود کش حملہ،19ہلاک

اسلام آباد دھماکہ
دھماکے میں مرنے والے تمام افراد پولیس اہلکار تھے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خود کش حملے میں کم از کم انیس افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

وفاقی حکومت کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چودہ پولیس اہلکار شامل ہیں جن میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب پولیس سے اور چھ کا اسلام آباد پولیس سے ہے۔

یہ دھماکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس ٹو میں واقع آبپارہ پولیس تھانے کے قریب ہوا۔ جائے وقوع سے ایف آئی اے کی ٹیم نے شواہد اکٹھا کیے جنہیں فورینسک لیب بھیج دیا گیا ہے۔ ماہرین کےمطابق دھماکے سے جو گڈھا ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور کی بیلٹ میں کم سے کم دس کلو بارود تھا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور ایک سترہ سے اٹھارہ برس کی عمر کا نوجوان تھا جس نے چائے کے سٹال پر موجود پولیس اہلکاروں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ حکام کے مطابق خودکش حملے میں مرنے والوں میں تھانہ سہالہ کے ایس ایچ او اور پنجاب پولیس کے دو اے ایس آئی بھی شامل ہیں۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ مرنے والوں کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے، قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور رہائشی عمارتوں کے مکین خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔

لال مسجد پر کارروائی کی پہلی برسی کے موقع پر آج وہاں ایک کانفرنس ہو رہی تھی
اسلام آباد انتظامیہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رانا اکبر حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ ایک خود کش دھماکہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے لال مسجد میں ہونے والی کانفرنس میں داخل نہ ہو پانے پر پولیس کو نشانہ بنایا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس حملے میں فیصل آباد سے بلائے گئے پولیس کے دستے کے کم سے کم دس ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔

تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جس کی سربراہی آئی جی اسلام آباد اصغر رضا گردیزی کریں گے۔ وفاقی حکومت کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے حملہ آور کی شناخت کرنے والے کے لیے پچاس لاکھ روپیے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ مرنے والوں کے لواحقین کو تین تین لاکھ روپیے دyے جائیں گے جو ان کے محکموں کی جانب سے دی جانے والی رقوم سے علیحدہ ہوں گے۔

وزیر اطلاعات شیری رحمان نے پمس ہستپال میں زخمیوں کی عیادت کی اور دعویٰ کیا کہ حملہ آور کا سر برآمد کر لیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ سیکریٹری داخلہ کمال شاہ بھی تھے۔ مسٹر کمال شاہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ حملہ باڑہ میں جاری آپریشن کا رد عمل ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

یاد رہے کہ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کی برسی کے موقع پر علماء کنونشن کا انعقاد ہو رہا تھا اور اس حوالے سے شہر بھر میں سکیورٹی کا خصوصی بندوبست کیا گیا تھا۔ مسجد کی اردگرد کی سڑکوں اور گلیوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا اور دن بھر پولیس کے اہلکار اسلام آباد کی سڑکوں پر گشت بھی کرتے رہے۔

پیر کی صبح تھانہ آبپارہ میں اس دھماکے کے لیے نامعلوم افراد کے خلاف سیکشن 302 (قتل اور اقدام قتل)، 4/3 ایکسپلوسِو ایکٹ، ATA-7 (انسداد دہشت گردی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس کی تحقیقاتی ٹیمیں پنجاب اور سرحد بھیجی گئی ہیں جہاں وہ دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں مختلف جیلوں میں قید افراد سے پوچھ گچھ کریں گیں۔ امید کی جارہی ہے کہ پولیس پیر کو مبینہ حملہ آور کا خاکہ جاری کرےگی۔

امریکہ نے اسلام آباد میں ہونے والے اس دھماکے کی مذمت کی ہے۔ جاپان کے شہر ٹویاکو میں، جہاں صدر جارج بش جی ایٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں، ان کے ترجمان نے ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں اور زخمیوں سے تعزیت کی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ انتہا پسند انسانی زندگی کی کوئی قدر نہیں کرتے اور اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد