اسلام آباد میں خود کش حملہ،19ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک خود کش حملے میں کم از کم انیس افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ وفاقی حکومت کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چودہ پولیس اہلکار شامل ہیں جن میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب پولیس سے اور چھ کا اسلام آباد پولیس سے ہے۔ یہ دھماکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس ٹو میں واقع آبپارہ پولیس تھانے کے قریب ہوا۔ جائے وقوع سے ایف آئی اے کی ٹیم نے شواہد اکٹھا کیے جنہیں فورینسک لیب بھیج دیا گیا ہے۔ ماہرین کےمطابق دھماکے سے جو گڈھا ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور کی بیلٹ میں کم سے کم دس کلو بارود تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور ایک سترہ سے اٹھارہ برس کی عمر کا نوجوان تھا جس نے چائے کے سٹال پر موجود پولیس اہلکاروں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ حکام کے مطابق خودکش حملے میں مرنے والوں میں تھانہ سہالہ کے ایس ایچ او اور پنجاب پولیس کے دو اے ایس آئی بھی شامل ہیں۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ مرنے والوں کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے، قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور رہائشی عمارتوں کے مکین خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔
تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جس کی سربراہی آئی جی اسلام آباد اصغر رضا گردیزی کریں گے۔ وفاقی حکومت کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے حملہ آور کی شناخت کرنے والے کے لیے پچاس لاکھ روپیے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے لواحقین کو تین تین لاکھ روپیے دyے جائیں گے جو ان کے محکموں کی جانب سے دی جانے والی رقوم سے علیحدہ ہوں گے۔ وزیر اطلاعات شیری رحمان نے پمس ہستپال میں زخمیوں کی عیادت کی اور دعویٰ کیا کہ حملہ آور کا سر برآمد کر لیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ سیکریٹری داخلہ کمال شاہ بھی تھے۔ مسٹر کمال شاہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ حملہ باڑہ میں جاری آپریشن کا رد عمل ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کی برسی کے موقع پر علماء کنونشن کا انعقاد ہو رہا تھا اور اس حوالے سے شہر بھر میں سکیورٹی کا خصوصی بندوبست کیا گیا تھا۔ مسجد کی اردگرد کی سڑکوں اور گلیوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا اور دن بھر پولیس کے اہلکار اسلام آباد کی سڑکوں پر گشت بھی کرتے رہے۔ پیر کی صبح تھانہ آبپارہ میں اس دھماکے کے لیے نامعلوم افراد کے خلاف سیکشن 302 (قتل اور اقدام قتل)، 4/3 ایکسپلوسِو ایکٹ، ATA-7 (انسداد دہشت گردی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کی تحقیقاتی ٹیمیں پنجاب اور سرحد بھیجی گئی ہیں جہاں وہ دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں مختلف جیلوں میں قید افراد سے پوچھ گچھ کریں گیں۔ امید کی جارہی ہے کہ پولیس پیر کو مبینہ حملہ آور کا خاکہ جاری کرےگی۔ امریکہ نے اسلام آباد میں ہونے والے اس دھماکے کی مذمت کی ہے۔ جاپان کے شہر ٹویاکو میں، جہاں صدر جارج بش جی ایٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں، ان کے ترجمان نے ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں اور زخمیوں سے تعزیت کی۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ انتہا پسند انسانی زندگی کی کوئی قدر نہیں کرتے اور اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں باڑہ میں دھماکہ، سات ہلاک30 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں سخت سکیورٹی10 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد: کرنل کی بیوی، بچے قتل18 May, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ، سینکڑوں گرفتار16 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: تُرک خاتون ہلاک15 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں طالبان کے آثار17 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||