BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 March, 2008, 09:25 GMT 14:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چوبیس رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

طویل مشاورت کے بعد وزراتوں کی تقسیم پر اتفاق ہوا

پاکستان کی پارلیمانی اور جمہوری تاریخ میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) پر مشتمل حکمراں اتحاد کی کابینہ نے حلف اٹھایا لیا ہے۔

صدر پرویز مشرف نے ابتدائی مرحلے میں چوبیس وزراء پر مشتمل کابینہ سے ایوان صدر میں حلف لیا۔ نئی کابینہ میں پیپلز پارٹی کے گیارہ، مسلم لیگ (ن) کے نو، عوامی نیشنل پارٹی کے دو، جمعیت علماءاسلام کا ایک اور فاٹا سے ایک وزیر شامل ہیں۔

مغربی سوٹ میں ملبوس صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی دونوں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے اکٹھے ہال میں داخل ہوئے۔ حلف کے فورا بعد صدر نے نئے وزراء کو مبارک باد بھی دی۔
پیلپز پارٹی وزراء:

پیلپز پارٹی وزراء:
شاہ محمود قریشی: وزارت خارجہ
سید خورشید شاہ: محنت و افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانی
راجہ پرویز اشرف: بجلی و پانی
نوید قمر بندرگاہیں اور شپنگ (اضافی چارج نج کاری و سرمایہ کاری)،
قمر الزمان کائرہ: امور کشمیر اور شمالی علاقاجات
رحمان ملک: مشیر وزارت داخلہ
شیری رحمن: اطلاعات و نشریات
فاروق ایچ نائیک: قانون و انصاف
احمد مختار: دفاع
نذر محمد گوندل: انسداد منشیات
نجم الدین خان: ریاستیں اور سرحدی علاقہ جات
ہمایوں عزیز: بہبود آبادی

اسے سیاست کا اتار چڑھاؤ کہیں یا کچھ اور مسلم لیگ (ن) کے وزراء کی اکثریت وہی ہے جنہیں صدر پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ برطرف کر دیا تھا۔ ان سے آٹھ برس بعد انہوں نے حلف لے کر وزارت پر فائز کیا ہے۔

ان وزراء میں اکثریت ان سیاسی رہنماؤں کی بھی ہے جنہیں صدر پرویز مشرف کے دور میں بدعنوانی یا دیگر وجوہات کی بنا پر قیدیں جھیلنی پڑی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) کے وزراء نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کے برعکس اس مرتبہ ہال میں کسی نے نعرہ بازی نہیں کی۔ تقریب میں حکمراں اتحاد کی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت نہیں کی۔

حلف پڑھنے کے دوران ایک موقع پر وزراء صدر سے آگے ہوگئے جس پر انہوں نے ان کی جانب دیکھ کر مسکراہٹ دی۔ تاہم وزراء نے صدر کے آئین کے لفظ پر یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ آئین جو دو نومبر دو ہزار سات کے وقت تھا۔

بعض خبروں کے مطابق یہ امکان تھا کہ شاید وزراء حلف کے دوران یہ وضاحت کریں گے۔

شیری رحمن نے بطور وزیر اطلاعات و نشریات حلف اٹھایا
بعض وزراء کو فی الحال اضافی محکمے بھی سونپے گئے ہیں، جو کابینہ میں توسیع کی صورت میں نئے وزراء کو دے دیے جائیں گے۔

کابینہ کے پہلے مرحلے میں جن وزراء نے حلف اٹھایا ان میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری نثار علی خان کو بطور سینئر وزیر جن کے پاس مواصلات کا اضافی چارج بھی ہوگا، اسحاق ڈار کو خزانہ و اقتصادی امور و شماریات، سردار مہتاب احمد خان عباسی ریلویز، شاہد خاقان عباسی تجارت، خواجہ آصف پیٹرولیم و قدرتی وسائل، تہمینہ دولتانہ ثقافت و خواتین کی ترقی، رانا تنویر حسین دفاعی پیداوار، خواجہ سعد رفیق کو امور نوجوانان (اضافی چارج سائنس اینڈ ٹیکنالوجی)، احسن اقبال تعلیم (اضافی چارج اقلیتی امور) شامل ہیں۔
مسلم لیگ (نون) کے وزراء:

مسلم لیگ (نون) کے وزراء
چوہدری نثار علی خان: سینئر وزیر (وزارت مواصلات کا اضافی چارج)
اسحاق ڈار: خزانہ و اقتصادی امور و شماریات
سردار مہتاب احمد خان عباسی: ریلویز
شاہد خاقان عباسی: تجارت،
خواجہ آصف: پیٹرولیم و قدرتی وسائل
تہمینہ دولتانہ: ثقافت و خواتین کی ترقی
رانا تنویر حسین: دفاعی پیداوار
خواجہ سعد رفیق: امور نوجوانان (اضافی چارج سائنس اینڈ ٹیکنالوجی)،
احسن اقبال تعلیم (اقلیتی امور اضافی چارج)
:

پیپلز پارٹی کے جن گیارہ وزراء نے حلف اٹھایا ان میں شاہ محمود قریشی کو وزارت خارجہ، سید خورشید شاہ محنت و افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانی، راجہ پرویز اشرف بجلی و پانی، نوید قمر بندرگاہیں اور شپنگ (اضافی چارج نج کاری و سرمایہ کاری)، قمر الزمان کائرہ امور کشمیر اور شمالی علاقاجات، شیری رحمن اطلاعات و نشریات، فاروق ایچ نائیک قانون و انصاف، احمد مختار دفاع، نذر محمد گوندل انسداد منشیات، نجم الدین خان ریاستیں اور سرحدی علاقہ جات اور ہمایوں عزیز بہبود آبادی شامل ہیں۔

جمعیت علماءاسلام کی طرف سے رحمت اللہ کاکڑ کو ہاوسنگ و تعمیرات جبکہ قبائلی علاقے سے حمید اللہ جان آفریدی کو ماحولیات کی وزارت دی گئی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے جن دو وزراء نے حلف اٹھایا ان میں غلام احمد بلور (مقامی حکومتیں اور دیہی ترقی) اور خواجہ محمد خان ہوتی (سماجی بہبود و خوصی تعلیم) شامل تھے۔

وزراء کی حلف برداری کے بعد کابینہ کا پہلا اجلاس ہوا۔وفاقی کابینہ نے اجلاس میں ججوں کی بحالی اور قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے خاتمے کے لیئے دو کمیٹیاں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں قائم کردی ہے۔

تاہم صحت، سیاحت، ٹیکسٹائل انڈسٹری، پلاننگ کمیشن اور صعنت کی وزارتوں کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے امور پہلے ہی پیپلز پارٹی کے رحمان ملک کے حوالے کر دی گئی ہے جوکہ ہونگے تو مشیر لیکن ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔
اے این پی اور دیگر جماعتوں کے وزراء:

اے این پی وزراء
غلام احمد بلور:مقامی حکومتیں اور دیہی ترقی
خواجہ محمد خان ہوتی :سماجی بہبود و خوصی تعلیم

تقریب کے بعد نئی کابینہ کا پہلا اجلاس وزیر اعظم کی صدارت میں آج بعد میں متوقع ہے۔
صحافی احتجاج’پیمرا کو ختم کریں‘
وزیراعظم سے پیمرا کے بھی خاتمے کا مطالبہ
فضل الرحمانسو دن کا پروگرام
’وزیراعظم کے اعلانات بغیر کسی ہوم ورک کے‘
یوسف رضا گیلانیصدر کو’ کھلا پیغام‘
’جمہوریت کے جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے‘
پرویز مشرفسرد حلف برداری
’صدر کے چہرے پر کش مکش آمیز سنجیدگی‘
یوسف رضا گیلانینئے وزیر اعظم
ایوان صدر میں حلف برداری کی تقریب
حسین حقانیدو مشیر و سفیر
حقانی اور رحمان ملک کا بطور مشیر و سفیر تقرر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد