BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 February, 2008, 23:07 GMT 04:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امین فہیم موزوں امیدوار:اعتزاز

وکلاء کا احتجاج(فائل فوٹو)
مسلم لیگ ق کی شکست وکلاء تحریک کی کامیابی ہے:اعتزاز احسن

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ان کی ذاتی رائے میں مخدوم امین فہیم وزارت عظمیٰ کے لیے ایک موزوں امیدوار ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ مخدوم امین فہیم بینظیر بھٹو کی سرپرستی میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد صدر پرویز مشرف کے پاس مستعفیْ ہونے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ان کا کہنا ہےعدلیہ کی بحالی کے لیے نئی پارلیمان کو وقت دینا چاہتے ہیں اور اگر کوئی اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہے تو وکلاء اس کے لیے بھی تیار ہیں۔


اعتزاز احسن پاکستان میں عام انتخابات کے نتائج کے بعد اپنی نظربندی میں اچانک نرمی کے بعد بی بی سی سے بات چیت کررہے تھے۔اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ان کی نظربندی ابھی ختم نہیں ہوئی صرف یہ نرمی کی گئی ہے کہ گھر پر آنے والوں سے ملاقات کرنے پر اب پابندی نہیں ہے۔

اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ اگر نئی حکومت اور پارلیمان نے آٹھ مارچ تک عدلیہ کو بحال نہ کیا تو وکلاء معزول ججوں کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سات مارچ تک سندھ کے معزول جج ملتان پہنچیں گے جہاں یہ جج وکلاء کے ہمراہ آٹھ مارچ کو لاہور آئیں گے اور نومارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، جبکہ سرحد کے وکلاء پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز کی قیادت میں اسلام آباد پہنچیں گے۔

امین فہیم کی حمایت
 میری ذاتی رائے میں مخدوم امین فہیم ایک موز وں امیدوار ہیں اور وہ بینظیر بھٹو کی سرپرستی میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ تھے۔
اعتزاز احسن

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نےنومارچ کو اسلام آباد میں وکلاء کنونشن کی تجویز دی ہے۔

اعتزاز احسن ان وکلا رہنماؤں میں شامل ہیں جو گزشتہ برس ملک میں تین نومبر کو لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد سے نظر بند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج کے بعد ہوا کا رخ بدلتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے اپنی تمام سیاسی جمع پونجی اور صلاحیتیں مسلم لیگ ق کی انتخابی مہم پر لگادیں تھیں اور دو سال کے دوران صدر مشرف نے وردری اور بغیر وردری کے ق لیگ کے جلسوں میں شرکت کی۔

ان کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف لیگ کو قومی اسمبلی کی دو سو ستر نشستوں میں صرف چالیس نشستیں ملیں ہیں۔اعتزاز احسن کی رائے ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد صدر پرویزمشرف کے پاس مستعفیْ ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
اعتزاز احسن کا، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما بھی ہیں، کہنا ہے کہ میری ذاتی خواہش تھی کہ پیپلز پارٹی کو سادہ اکثریت مل جاتی تاکہ وہ وفاق میں اپنی خود حکومت بناتی۔

انہوں نے کہا کہ عوام صدر پرویز مشرف کے خلاف ہیں اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام اس بات کو کس طرح فراموش کر سکتے ہیں کہ چیف جسٹس کو قید میں رکھا گیا ہے۔ اعتزاز احسن کے بقول مسلم لیگ ق کی شکست وکلاء تحریک کی کامیابی ہے۔

۔

نواز شریفڈیل ویل نہیں
عہدہ نہیں لینے آئے، عدلیہ بحال کریں: نواز
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
ہیومن رائٹس واچ’عدلیہ بحال کرو‘
آئین کی نام نہاد بحالی ہوئی: ہیومن رائٹس واچ
عدلیہ کی آزادی کے لیے احتجاج’یوم افتخار‘
عدلیہ کی آزادی کے لیے احتجاج
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد