طالبان حکمتِ عملی تبدیل،مٹہ فوج کے پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی عسکریت پسندوں نے کہا ہے کہ عام لوگوں کو نقصانات سے بچانے کے لیے انہوں نے اپنی جنگی حکمت عملی میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے اور زیر زمین چلے گئے ہیں تاہم ان کی تمام قیادت صحیح سلامت اور محفوظ ہے۔ دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے پیش قدمی کرتے ہوئے تقریباً ایک ماہ کے بعد سخت حفاظتی اقدامات میں مٹہ بازار اور پولیس سٹیشن کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔ بدھ کو سوات میں ذرائع ابلاغ کو عسکریت پسندوں کے ترجمان سراج الدین کی آواز میں ایک آڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ میدان جنگ سے بھاگے نہیں بلکہ ایک حکمت عملی کے تحت زیر زمین چلے گئے ہیں تاکہ عام لوگوں کو جانی و مالی نقصانات سے بچایا جا سکے۔ یہ بیان عسکریت پسندوں کے زیر زمین چلے جانے کے بعد پہلی دفعہ میڈیا کو جاری کیا گیا ہے۔ اردو زبان میں جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ہم اب بھی اپنے مطالبے پر قائم ہیں کہ مالاکنڈ ڈویژن میں عملی شریعت کا نفاذ کیا جائے اور یہ مطالبہ آئین پاکستان کے عین مطابق ہے‘۔ سراج الدین نے کہا کہ ان کے تمام اراکین اور اعلٰی قیادت مکمل محفوظ اور صحیح سلامت ہیں اور اس سلسلے میں حکومتی دعوے غیر حقیقی اور بے بنیاد ہیں۔
بیان میں لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور سرکاری املاک کے قریب نہ جائیں ورنہ نقصان کی صورت میں وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ سراج الدین نے لوگوں کو متنبہ کیا کہ طالبان کے خلاف حکومت کا ساتھ دینے سے باز رہیں ورنہ بھاری نقصان اٹھائیں گے۔ بیان میں پہلی دفعہ اس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 33 جنگجو مارے جا چکے ہیں جبکہ حکومت کا دعٰوی ہے کہ انہوں نے دو سو بیس کے قریب شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس سے قبل تقریباً ایک ماہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے پیش قدمی کرتے ہوئے سخت حفاظتی اقدامات میں مٹہ بازار اور پولیس سٹیشن کا کنٹرول دوبارہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ بدھ کی صبح گیارہ بجے کے قریب بریم پل کی طرف سے فوج ، فرنٹیرکور اور پولیس کے کا ایک بڑا قافلہ مٹہ بازار میں داخل ہوا اور عسکریت پسندوں کی طرف سے خالی کردہ مٹہ پولیس سٹیشن کا انتظام سنبھال کر وہاں باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا۔
اس موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور تمام علاقے کو فوج اور فرنیٹر کورکے اہلکاروں نےگھیرے میں لیا ہوا تھا جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹر بھی فضا میں گشت کررہے تھے۔ ادھر سوات میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سوات میڈیا سنٹر سے جاری ایک بیان کے مطابق منگل کی رات اور بدھ کو سکیورٹی فورسز نے گٹ پیوچار کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی تاہم واقعہ میں ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے ایک اہم کمانڈر لیاقت علی خان آف لنگر کو ساتھیوں سمیت چمتلئی کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا۔ واضح رہے کہ سوات میں دس دن پہلے عسکریت پسندوں کی طرف مورچے چھوڑ نامعلوم کی طرف روپوش ہونے کے بعد زیادہ تر علاقوں پر سکیورٹی فورسز کا قبضہ ہوگیا ہے تاہم علاقے میں بدستور غیر یقینی صورتحال اور خوف وہراس برقرار ہے جبکہ نقل مکانی کرنے ہزاروں لوگ تاحال دوسرے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ناجیہ ٹاپ فوجی قبضے کے بعد‘05 December, 2007 | پاکستان ’آپریشن مذاکرات ناکام ہونے پر کیا‘ 04 December, 2007 | پاکستان طالبان روپوش، حکومت بھی غائب30 November, 2007 | پاکستان بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان سوات میں ووٹنگ، ایک بڑا چیلنج27 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان کے مورچے خالی27 November, 2007 | پاکستان حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||