BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 December, 2007, 18:55 GMT 23:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آپریشن مذاکرات ناکام ہونے پر کیا‘

سکیورٹی فورسز کے کمانڈر میجر جنرل ناصر جنجوعہ
علاقے میں کرفیو سے لوگوں کو اگر تکلیف پہنچی ہے تو اس پر میں معذرت خواہ ہوں: آپریشن کمانڈر
سوات میں سکیورٹی فورسز کے کمانڈر اور آپریشن کے انچارج میجر جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ سوات میں آپریشن سے پہلے مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات کو حل کرانے کی کئی بار کوششیں کی گئیں تھیں تاہم بات چیت اور جرگے ناکام ہوجانے کے بعد فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کے علاوہ علاقے کے عوام کے دیرنہ مطالبات کو حل کرانے پر بھی کام ہورہا ہے اور اس سلسلے میں عوام بہت جلد اہم خوشخبری سنیں گے۔

سرکٹ ہاؤس مینگورہ میں مقامی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا کہ اگر سوات میں ہم چاہتے تو آپریشن زمینی راستے سے شروع کرسکتے تھے لیکن ہم نے عورتوں اوربچوں کو بچانے کےلیے پہاڑوں سے کارروائیوں کا آغاز کیا تاکہ عام لوگوں کا کم سے کم نقصان ہو۔

خوفزدہ لوگ
 عسکریت پسندوں کی طرف سے خالی کردہ علاقوں میں بھی لوگ بدستور شدید خوف وہراس کا شکار ہیں کیونکہ وہاں نہ تو سکیورٹی اہلکار پہنچے ہیں اور نہ پولیس اہلکار۔
ان کے مطابق سوات میں آپریشن سے پہلے ایک امن معاہدہ ہوا تھا تاہم عسکریت پسندوں نے اس معاہدے کو لال مسجد آپریشن سے جوڑ کر توڑ دیا۔ میجر جنرل جنجوعہ نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کے علاوہ علاقے کے عوام کے دیرنہ مطالبات کو حل کرانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے اور نظام عدل سے متعلق مالاکنڈ ڈویژن کے عوام بہت جلد اہم خوشخبری سنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں کرفیو کا نفاذ جنگی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ان پابندیوں سے لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچی ہے تو ان پر وہ معذرت خواہ ہیں۔

ان کے بقول اسی حکمت عملی کی وجہ سے علاقےمیں خودکش اور دیگر حملوں میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

بریفنگ کے بعد ذرائع ابلاغ کے تقریباً بائیس نمائندوں پر مشتمل ٹیم کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سوات میں قائم سکیورٹی فورسز کے مختلف مورچوں سید شریف، کبل گالف کورس اور پہاڑی مورچے ناجیہ ٹاپ کا دورہ کرایا گیا۔

دریں اثناء کورکمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل مسعود اسلم نے کہا ہے کہ حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے نظام عدل سے متعلق مطالبات پر کام شروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں بہت جلد اہم اعلانات متوقع ہے۔

منگل کو سوات میں ناجیہ ٹاپ پر قائم فو جی مورچوں کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کورکمانڈر نے بتایا کہ صوبائی حکومت سوات کے عوام کےلیے بہت جلد ایک خصوصی پیکج کا اعلان کریگی۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن سے پہلے اس بات کا خصوصی طورپر خیال رکھا گیا تھا کہ فوجی کارروائیوں میں عوام کا کم سے کم نقصان ہو اور بیگناہ لوگ نشانہ نہ بنیں۔

ادھر سوات میں دو دنوں سے کسی علاقے سے فائرنگ کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔ علاقے میں تقریباً دو ہفتوں سے بند موبائل ٹیلی فون سروس گزشتہ شام بحال کردیا گیا ہے تاہم کرفیو کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

منگل کو بھی مینگورہ اور کانجو کے علاقوں میں صبح آٹھ سے لیکر پانچ بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی۔ کرفیومیں نرمی کے دوران مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگ تیزی سے اپنے اپنے گھروں کی طرف واپس جارہے ہیں۔ تاہم اب بھی مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے علاقوں سے دور رہائش پزیر ہے۔

کرفیو میں نرمی اور لوگوں کی واپسی
منگل کو بھی مینگورہ اور کانجو کے علاقوں میں صبح آٹھ سے لیکر پانچ بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی۔ کرفیومیں نرمی کے دوران مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگ تیزی سے اپنے اپنے گھروں کی طرف واپس جارہے ہیں۔

دوسری طرف عسکریت پسندوں کی طرف سے خالی کردہ علاقوں میں بھی لوگ بدستور شدید خوف وہراس کا شکار ہیں کیونکہ وہاں نہ تو سکیورٹی اہلکار پہنچے ہیں اور نہ پولیس اہلکار۔

حکومت نے بھی تاحال شدت پسندوں کی طرف سے خالی کردہ علاقوں کو محفوظ بنانے کا اعلان نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگ تذبذب کا شکار ہیں۔

وزارت داخلہ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے خبر دی ہے کہ وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئیر جاوید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ سوات میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار وہاں پر حکومت کی عملداری قائم کرنے کے لیے سرکرداں ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران اب تک تین سو ستر شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ نوے سے زائد شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گرفتارہونے والوں میں شدت پسندوں کے لیڈر اور غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی جاں بحق ہوئے ہیں تاہم انہوں نے ہلاک ہونے والے سیکورٹی فورسز کے افراد کی تعداد نہیں بتائی۔

اس سے پہلے ہفتہ وار بریفنگ میں وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ سوات کے عوام شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز کا ساتھ دے رہے ہیں اور حکومت نے متعدد علاقے اپنے کنٹرول میں لے لیے ہیں اور ان علاقوں میں حالات معمول پر آرہے ہیں۔

سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
سوات میں عسکریت پسند(فائل فوٹو)سوات کے جنگجو
جنگجوگروپ ’نیٹ ورک‘ کی صورت سرگرم
سوات کا سفرنامہ
’آپ کی خدمت کے لئے، طالبان سٹیشن مٹہ‘
سواتی بچےلوگوں کی پریشانی
سوات: ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور
اسی بارے میں
سوات: طالبان کے مورچے خالی
27 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد