’ناجیہ ٹاپ فوجی قبضے کے بعد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات میں جنگی نقطۂ نگاہ سے اہم پہاڑی علاقے ناجیہ ٹاپ پر سکیورٹی فورسز کے قبضے کے دوسرے ہی روز مقامی عسکریت پسند مختلف علاقوں میں قائم مورچے خالی کر کے نامعلوم مقام کی جانب منتقل ہوئے اور تاحال روپوش ہیں۔ ناجیہ ٹاپ اور سیگرام کے پہاڑوں سے وہ تمام علاقے نظرآتے ہیں جو پہلے شدت پسندوں کے قبضے میں تھے۔ فوجی حکام کے مطابق ان اہم پہاڑوں پر سکیورٹی فورسز کا قبضہ ہوجانے کے بعد عسکریت پسندوں کے لیے اپنے مورچوں کی حفاظت کرنا ناممکن ہوگیا تھا اس لیے وہ علاقہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ منگل کو فوجی حکام نے سوات کے مقامی صحافیوں کو سکیورٹی فورسز کے مختلف علاقوں میں قائم مورچوں کا دورہ کروایا اور انہیں وہ تمام مورچے دکھائے جہاں سے عسکریت پسندوں کے مورچوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اخبارات اور مختلف نجی ٹی وی چینلز سے وابستہ تقریباً بائیس صحافیوں کو سرکٹ ہاؤس سوات سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سے سیدو شریف ائرپورٹ لے جایا گیا جہاں انہیں عسکریت پسندوں کے قبضے سے برآمد کیا گیا اسلحہ اور گولہ بارود دکھایا گیا۔ ائرپورٹ میں موجود فرنٹیئر کور کے ایک اعلی اہلکار کرنل خاور نے بتایا کہ نیگولئی میں گرلز سکول کی عمارت پر چھاپہ مارکر وہاں عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے سے بھاری مقدار میں روسی ساخت کا اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبضے میں لیے گئے ہتھیاروں میں خودکش دھماکوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بارود کے علاوہ دو عدد توپیں، ایک سو بیس ایم ایم کے گولے، راکٹ لانچرز، بیاسی مارٹر گولے، امریکی ساخت کے بم ، کمپیوٹرز اور تین عدد خطرناک کیمیکل ڈرم شامل ہیں۔ صحافیوں کو کبل گالف کورس بھی لے جایا گیا جہاں انہیں سکیورٹی فورسز کے وہ مورچے دکھائے گئے جہاں سے فوجی حکام کے مطابق عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر انہیں پسپائی پر مجبور کیا گیا۔ گالف کورس کے اس وسیع علاقے میں مختلف جگہوں پر مشین گن نصب نظر آئیں۔ کچھ جگہوں پر زیر زمین مورچے بھی بنائے گئے ہیں اور یہ گراؤنڈ کھیل کے میدان سے زیادہ اب جنگی تربیت گاہ نظر آتا ہے۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو پہاڑی پر قائم سب سے اہم مورچے ناجیہ ٹاپ کا دورہ کروایا گیا۔ ناجیہ ٹاپ پر صحافیوں کا استقبال کرنے والے کمانڈر کرنل سرفراز نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ناجیہ ٹاپ کو مولانا فضل اللہ نے ٹریننگ کیمپ بنایا ہوا تھا جہاں عسکریت پسندوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ ان کے بقول ’ شدت پسندوں کو تربیت دینے والے لوگ وزیرستان سے خصوصی طورپر بلائے گئے تھے اور ان میں بعض غیر ملکی بھی شامل تھے جو جنگجوؤں کو جسمانی اور جنگی تربیت دیتے تھے‘۔ ان کے مطابق’اس پہاڑی علاقے میں شدت پسندوں کو بم بنانے کی تربیت بھی دی جاتی تھی اور پھر اس کی مشتق بھی کرائی جاتی تھی، یہاں پر عسکریت پسندوں کے ایک اہم کمانڈر اس پورے علاقے کو کنٹرول کرتا تھا جس کا کوڈ نام شپونکئی تھا‘۔ کرنل سرفراز نے کہا کہ فوجی جوانوں نے ناجیہ ٹاپ پر ایک رات میں قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد تمام پہاڑی علاقہ کو عسکریت پسندوں سے خالی کرالیا گیا اور انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا گیا۔ بعد میں ذرائغ ابلاغ کے نمائندوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سے سکیورٹی فورسز کے پہاڑوں پر قائم تمام مورچوں کا فضائی دورہ بھی کرایا گیا۔ |
اسی بارے میں بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان سوات میں ووٹنگ، ایک بڑا چیلنج27 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان کے مورچے خالی27 November, 2007 | پاکستان حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||