سوات اور شانگلہ میں جھڑپیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ مٹہ میں عسکریت پسندوں نے تین افراد کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔ دوسری طرف سوات اور شانگلہ میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ایک بچے اور اسکی ماں سمیت چھ افراد کی ہلاکت اور چھ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ مٹہ میں بازار ایسوسی ایشن کے صدر شاہ روان اور ان کے دو ساتھیوں عبد القیوم اور حکیم خان کو حکومت کےلیے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ سوات میں چوبیس گھنٹوں کی غیر اعلانیہ خاموشی کے بعد تازہ جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر مقامی طالبان کے ٹھکانوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے سے نشانہ بنایاہے جس میں مقامی ذرائع کے مطابق ایک خاتون اور اس کا بچہ جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ سوات میڈیا سنٹر مینگورہ سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رات اور اتوار کی صبح کوزہ بانڈہ، جٹ کوٹ اور بریام پل مٹہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر جنگی ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے سے حملے کیے گئے جس میں متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے۔ تاہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔ بیان کے مطابق لنڈکئی چیک پوسٹ پر پانچ مشتبہ شدت پسندوں کو بھی گرفتار کرکے سکیورٹی حکام کے حوالے کیا گیاہے۔ بیان میں مقامی اخبارات میں چھپنے والی ان رپورٹس کی تردید کی گئی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سوات میں کشیدگی کے باعث علاقے میں انتشار ہے اور لوگ غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ تاہم سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے گزشتہ روز ہونے والی کاروائیوں میں کئی عام شہریوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں مقامی آبادی کو نشانہ بنایا ہے جس سے کئی گھر اور ایک مسجد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ شانگلہ میں بینے بابا کے مقام پر’ مجاہدین‘ نے کچھ خالی فوجی گاڑیوں کو تحویل میں لیا ہے۔ مقامی صحافی شرین زادہ کانجو نے سوات میں گولہ باری سے متاثرہونے والے علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ شیلنگ سے کوزہ بانڈہ میں ایک خاتون اور اس کے چھ ماہ کا بچہ جاں بحق ہوا ہے جبکہ گولے گرنے سے تقریباً بارہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ادھر سوات میں امن جرگہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سوات میں جاری آپریشن کو فوری طورپر بند کرکے سکیورٹی فورسز کو علاقے سے واپس بلایا جائے۔ یہ مطالبہ مینگورہ میں رحیم آباد کے مقام پرسوات امن جرگے کے ایک اجلاس میں کیاگیا جس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شرکت کی۔ جرگے سے خطاب میں مقررین نے الزام لگایا کہ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں سوات کو اپنے مقاصد کےلیے استعمال کررہے ہیں اور علاقے میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حالات خراب کیےجارہے ہیں۔ جرگے نے علاقے میں امن وامان بحال کرنے کےلیے حکومت کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ سوات سے ملحق ضلع شانگلہ سے اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز اور مقامی عسکریت پسندوں کے مابین چوتھے روز بھی جھڑپیں جاری رہیں جس میں چار جنگجوؤں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ مقامی صحافی احسان داوڑ نے بتایا کہ پرون کے پہاڑی علاقوں تندر سر اور ریندر سر میں بدستور لڑائی جاری ہے جس میں آزاد ذرائع کے مطابق چار شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ بھی اطلاعات ہیں کہ فوجی دستے بڑی تعداد میں بشام پہنچے ہیں۔ |
اسی بارے میں سوات، مالاکنڈ میں کرفیو نافذ16 November, 2007 | پاکستان سوات: نئی کارروائی کی اطلاعات17 November, 2007 | پاکستان طالبان کا لشکر تیار کرنے کا اعلان17 November, 2007 | پاکستان ’آپ کی خدمت کے لئے، طالبان سٹیشن‘17 November, 2007 | پاکستان طالبان کا جلسہ، نفاذِ شریعت کا مطالبہ14 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان ٹھکانوں پر فائرنگ 13 November, 2007 | پاکستان ’شدت پسندوں کو دوبارہ پکڑیں گے‘13 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||