طالبان کا جلسہ، نفاذِ شریعت کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات کے علاقہ کالام سے اطلاعات ہیں کہ وہاں مقامی طالبان نے ایک جلسے میں حکومت سے مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کالام کے مقامی صحافی رحمت دین صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ جلسے سے خطاب میں طالبان کمانڈروں نے سوات میں آپریشن شروع کرنے پر صدر جنرل پرویز مشرف کی سخت الفاظ میں مذمت کی سوات میں لڑائی، ہلاکتوں کا دعویٰ اس سے قبل پاکستان میں حکام نے دعویٰٰ کیا ہے کہ سوات اور شانگلہ میں توپ بردار ہیلی کاپٹروں اورسکیورٹی فورسز نے مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر تازہ حملوں میں تیرہ عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی کر دیئے ہیں۔ تاہم مقامی طالبان نے ان حملوں میں جنگجوؤں کے مارے جانے کی سختی سے تردید کی ہے۔ دوسری طرف شام کے وقت سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری شروع کی ہے جس میں کئی گولے شہری آبادی پر گرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ پاکستان میں فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو گن شپ ہیلی کاپٹروں اور سکیورٹی فورسز کی گولہ باری میں عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق تحصیل کبل میں ایک ٹھکانے پر بمباری کی گئی جبکہ شانگلہ میں بھی مسلح طالبان پر شیلنگ کی گئی جس میں ان کے مطابق نو جنگجو ہلاک ہوگئے۔ انہوں نےکہا کہ اس کے علاوہ مٹہ کے کچھ علاقوں میں کارروائی کے نتیجے میں چار شدت پسند اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے بقول کانجو کے علاقے میں چار جنگجوؤں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے ان حملوں میں عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بدھ کو پھر سیکیورٹی فورسز نے پھر شہری علاقوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں ان کے مطابق بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق شام کے وقت کانجو کیمپ اور سیدوشریف ائر پورٹ پر تعینات سکیورٹی فورسز نے کوزہ بانڈے پرگولہ باری کی جس میں کئی عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری طرف سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں بارہ گھنٹے تک کرفیو نافذ رہنے کے بعد بدھ کی دوپہر کرفیو میں نرمی دی گئی تاہم اس کے باوجود مینگورہ شہر میں زیادہ تر دکانیں بند رہیں اور سڑکوں پر گاڑیوں کا رش بھی کم دکھائی دیا۔ حکومت نے تاحال علاقے میں کرفیو کے دوبارہ نفاذ کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ ادھر سوات کے دور افتادہ پہاڑی علاقہ کالام سے اطلاعات ہیں کہ وہاں مقامی طالبان نے ایک جلسے کا اہتمام کیا ہے جس میں حکومت سے مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کالام کے مقامی صحافی رحمت دین صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ جلسے سے خطاب میں طالبان کمانڈروں نے سوات میں آپریشن شروع کرنے پرصدر جنرل پرویز مشرف کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ جلسے سے اپر سوات میں طالبان کے اہم کمانڈروں مولانا محمد عالم مجاہد، کمانڈر عبد الرحمان، کمانڈر پیر اور دیگر مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ شانگلہ سے بھی جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جس میں دونوں جانب سے کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ شانگلہ میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ توپ کے کچھ گولے شہری آبادی پر بھی گرے ہیں۔ |
اسی بارے میں جنگجوگروہوں کا مضبوط نیٹ ورک11 November, 2007 | پاکستان ’یرغمالوں کو نقصان نہ پہنچائیں‘11 November, 2007 | پاکستان سوات: میجر سمیت سات اغواء10 November, 2007 | پاکستان سوات: سکیورٹی قافلے پر بم حملے09 November, 2007 | پاکستان سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا09 November, 2007 | پاکستان سوات میں فوجی آپریشن پر سوال03 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||