سوات: نئی کارروائی کی اطلاعات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی لوگوں کے مطابق چوبیس گھنٹے کی خاموشی کے بعد سنیچر کی رات سکیورٹی فورسز نے ایک مرتبہ پھر گولہ باری کی جس میں دو بقوں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس کارروائی میں سکیورٹی فورسزنے تحصیل کھیل کے دو دیہاتوں، مانجی اور توتانو بانڈے، میں مقامی طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کی جس میں دو بچے اور ایک عورت ہلاک ہو گئی۔ اتوار کو مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے بھی الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سنیچر کی رات پھر کارروائی کی ہے۔ سنیچر کو حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ سوات میں جاری آپریشن میں اب تک ایک سو بِیس کے قریب مقامی طالبان مارے جاچکے ہیں تاہم عسکریت پسندوں نے نو جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ دوسری طرف سوات سے ملحقہ ضلع شانگلہ میں سنیچر کو چوتھے روز بھی سکیورٹی فورسز اور مقامی عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپیں جاری رہیں جس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ جھڑپوں کی وجہ سے کئی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ سوات میڈیا سنٹر مینگورہ میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزرات اطلاعات کے ترجمان امجد اقبال نے کہا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مقامی جنگجو بڑی تعداد میں مارے جاچکے ہیں۔
ان کے مطابق لڑائی میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد ایک دو دن میں میڈیا کو جاری کردی جائیگی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے سوات کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرانے کے لئے مقامی سطح پر جرگوں کی کوششیں جاری ہیں جبکہ سرحد کی حکومت نے بھی علاقے میں عملی طور پرشریعت کے نفاذ کے لئے صلاح مشورے شروع کر رکھے ہیں اور اس سلسلے میں بہت جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔
تاہم سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے حکومتی کاروائیوں میں عسکریت پسندوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تردید کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں ان کے اب تک نو ’ مجاہد‘ مارے جاچکے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت جن طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کررہی ہے وہ دراصل عسکریت پسند نہیں بلکہ عام شہری ہیں جو ان کے مطابق توپ بردار ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے مختلف علاقوں میں جان بحق ہوئے ہیں۔
دوسری طرف سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں بارہ گھنٹوں کے کرفیو کے بعد سنیچر کی دوپہر دو بجے کرفیو اٹھالیا گیا۔ دن کے وقت کرفیو کے دوران کسی نامعلوم مقام سے کئی فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ مینگورہ شہر پہنچا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے اس قافلے نے مینگورہ شہر میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی جس سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ فوجی جوانوں نے فائرنگ قافلے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کی تھی۔ سوات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کرفیو کا نفاذ فوجی قافلوں کی محفوظ نقل وحرکت کو یقینی بنانے کےلئے کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سوات میں دوسرے دنوں کے مقابلے میں سنیچر کو نسبتاً خاموشی رہی اور کسی علاقے سے فائرنگ کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔ شانگلہ سے سوات پہنچے والے نجی ٹیلی ویژن کے رپورٹرسید عرفان اشرف نے بتایا کہ شانگلہ میں چار دن سے جاری جھڑپوں میں زیادہ تر شہری علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق الپوری میں بدستور طالبان کا کنٹرول ہے جبکہ دولت کلی اور پاگھوڑہ سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پرون کے علاقے میں سابق وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر پر مقامی عسکریت پسندوں نے قبضہ کرکے وہاں سے ایک گاڑی اور دیگر سامان اپنی تحویل لے لیا ہے۔ |
اسی بارے میں سوات، مالاکنڈ میں کرفیو نافذ16 November, 2007 | پاکستان سوات میں حکومتی کارروائی میں دیر کیوں؟15 November, 2007 | پاکستان سوات، شانگلہ میں لڑائی، متعدد ہلاک15 November, 2007 | پاکستان سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک14 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان ٹھکانوں پر فائرنگ 13 November, 2007 | پاکستان سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا09 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||