BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 November, 2007, 16:44 GMT 21:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: نئی کارروائی کی اطلاعات

سوات(فائل فوٹو)
سوات میں لوگ بڑے پیمانے پر نقل مکانی کر رہے ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مقامی لوگوں کے مطابق چوبیس گھنٹے کی خاموشی کے بعد سنیچر کی رات سکیورٹی فورسز نے ایک مرتبہ پھر گولہ باری کی جس میں دو بقوں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس کارروائی میں سکیورٹی فورسزنے تحصیل کھیل کے دو دیہاتوں، مانجی اور توتانو بانڈے، میں مقامی طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کی جس میں دو بچے اور ایک عورت ہلاک ہو گئی۔

اتوار کو مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے بھی الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سنیچر کی رات پھر کارروائی کی ہے۔

سنیچر کو حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ سوات میں جاری آپریشن میں اب تک ایک سو بِیس کے قریب مقامی طالبان مارے جاچکے ہیں تاہم عسکریت پسندوں نے نو جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔


دوسری طرف سوات سے ملحقہ ضلع شانگلہ میں سنیچر کو چوتھے روز بھی سکیورٹی فورسز اور مقامی عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپیں جاری رہیں جس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ جھڑپوں کی وجہ سے کئی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔

سوات میڈیا سنٹر مینگورہ میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزرات اطلاعات کے ترجمان امجد اقبال نے کہا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مقامی جنگجو بڑی تعداد میں مارے جاچکے ہیں۔

صلح کی کوشش
 حکومت کی طرف سے سوات کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرانے کے لئے مقامی سطح پر جرگوں کی کوششیں جاری ہیں جبکہ سرحد کی حکومت نے بھی علاقے میں عملی طور پرشریعت کے نفاذ کے لئے صلاح مشورے شروع کر رکھے ہیں اور اس سلسلے میں بہت جلد اہم پیش رفت متوقع ہے
حکومتی ترجمان
انہوں نے بتایا کہ ’میرے پاس ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اعداد وشمار تو نہیں البتہ جو مختلف ذرائع سے معلومات اکھٹی کی گئی ہے ان کے مطابق اب تک سوات میں ایک سو بیس کے قریب عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں‘۔

ان کے مطابق لڑائی میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد ایک دو دن میں میڈیا کو جاری کردی جائیگی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے سوات کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرانے کے لئے مقامی سطح پر جرگوں کی کوششیں جاری ہیں جبکہ سرحد کی حکومت نے بھی علاقے میں عملی طور پرشریعت کے نفاذ کے لئے صلاح مشورے شروع کر رکھے ہیں اور اس سلسلے میں بہت جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔

سوات میں کرفیو
ایک سوال کے جواب میں امجد اقبال نے بتایا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کا کم سے کم نقصان ہو۔

تاہم سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے حکومتی کاروائیوں میں عسکریت پسندوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تردید کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں ان کے اب تک نو ’ مجاہد‘ مارے جاچکے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت جن طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کررہی ہے وہ دراصل عسکریت پسند نہیں بلکہ عام شہری ہیں جو ان کے مطابق توپ بردار ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے مختلف علاقوں میں جان بحق ہوئے ہیں۔

کرفیو میں فائرنگ
 کرفیو کے دوران کئی فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ مینگورہ شہر پہنچا ہے۔اس قافلے نے مینگورہ شہر میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی جس سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ فوجی جوانوں نے فائرنگ قافلے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کی تھی

دوسری طرف سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں بارہ گھنٹوں کے کرفیو کے بعد سنیچر کی دوپہر دو بجے کرفیو اٹھالیا گیا۔ دن کے وقت کرفیو کے دوران کسی نامعلوم مقام سے کئی فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ مینگورہ شہر پہنچا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے اس قافلے نے مینگورہ شہر میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی جس سے علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ فوجی جوانوں نے فائرنگ قافلے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کی تھی۔

سوات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کرفیو کا نفاذ فوجی قافلوں کی محفوظ نقل وحرکت کو یقینی بنانے کےلئے کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سوات میں دوسرے دنوں کے مقابلے میں سنیچر کو نسبتاً خاموشی رہی اور کسی علاقے سے فائرنگ کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔

شانگلہ سے سوات پہنچے والے نجی ٹیلی ویژن کے رپورٹرسید عرفان اشرف نے بتایا کہ شانگلہ میں چار دن سے جاری جھڑپوں میں زیادہ تر شہری علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق الپوری میں بدستور طالبان کا کنٹرول ہے جبکہ دولت کلی اور پاگھوڑہ سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پرون کے علاقے میں سابق وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر پر مقامی عسکریت پسندوں نے قبضہ کرکے وہاں سے ایک گاڑی اور دیگر سامان اپنی تحویل لے لیا ہے۔

سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
سوات کے ’عسکریت پسند‘’عسکریت پسند‘
سوات: مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی چند تصاویر
اسی بارے میں
سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک
14 November, 2007 | پاکستان
سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا
09 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد