BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 16:50 GMT 21:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہر ووٹر کو حق ملنا چاہیے: امریکہ

باؤچر
باؤچر کے دورےکواہم قرار دیا جا رہا ہے
امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیاء رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستانی ووٹروں کو آئندہ انتخابات میں صحیح معنوں میں اظہار رائے کا حق ملے اور ان کے ووٹ صحیح طور پر گنے جائیں۔

پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے امریکی نائب وزیرِخارجہ نے آئندہ عام انتخابات کے منصفانہ بنیادوں پر انعقاد پر زور یتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تا کہ ہر ووٹر کو موقع ملے کہ وہ ووٹ کا حق استعمال کرے۔

جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران رچرڈ باؤچر نے پاکستان میں عام انتخابات کے صاف اور شفاف طور پر انعقاد کے بارے میں امریکی حکومت کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ’ ہم نے ہمیشہ الیکشن کمیشن کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے اجتماعی طور پر ملاقات کرے اور انتخابات کے لیے بنیادی قواعد و ضوابط پر اتفاق پیدا کرے اور ان تمام باتوں پر ہم حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔‘

ہم نے ہمیشہ الیکشن کمیشن کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے اجتماعی طور پر ملاقات کرے اور انتخابات کے لیے بنیادی قواعد و ضوابط پر اتفاق پیدا کرے اور ان تمام باتوں پر ہم حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔
رچرڈ باؤچر
اس سلسلے میں دی جانے والی امریکی امداد کے حوالے سے انہوں نے کہا: ’ہم جہاں مالی امداد دیتے ہیں اس پر نظر بھی رکھتے ہیں، مثلاُ شفاف بیلٹ بکسوں کی فراہمی، غیرجانبدار انتخابی مبصروں کی تربیت۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے جاری بات چیت میں امریکہ کے مبیینہ کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ کی تمام تر دلچسپی اس وقت اس بات پر ہے کہ پاکستان میں منصفانہ بنیادوں پر انتخابات منعقد کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کسی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا: ’ہماری کوشش ہے کہ تمام اہم سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق ملے اور ووٹروں کو اظہارِ رائے کا حق ملے۔‘

اسی حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ روشن خیال سیاست پر مبنی نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہو تا کہ پاکستان ایک روشن خیال ملک کے طور پر جانا پہچانا جائے، پاکستانی قوم روشن خیال لوگوں کے طور پر ابھرے اور شدت پسندی کا تدارک کیا جا سکے۔

رچرڈ باؤچر نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں شدت پسندی، پاکستان کے حوالے سے حال ہی میں بنائے گئے امریکی قانون، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کی موجودگی، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری بین الاقوامی جنگ میں کردار اور امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی دونوں ملکوں کے لیے اہمیت اور ان کے مابین جاری سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے حوالے سے بات کی۔

البتہ پریس کانفرنس میں کی گئی ان کی باتوں کے بارے میں اسلام آباد میں تعینات غیرملکی صحافیوں کا کہنا تھا کہ رچرڈ باؤچر نے پاکستان کے حوالے سے کوئی نئی بات نہیں کی ہے۔

امریکی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی پاکستان کے ساتھ مل کر ’قابلِ عمل‘ انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر کی جائیں گی۔

 امریکہ کی تمام تر دلچسپی اس وقت اس بات پر ہے کہ پاکستان میں منصفانہ بنیادوں پر انتخابات منعقد کیے جائیں۔ امریکی حکومت کسی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔
رچرڈ باؤچر
پاکستان سے متعلق حالیہ امریکی قانوں سازی کے حوالے سے کیے گۓ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئے قانون کی صرف ایک سطر ہی نہیں پڑھنا چاہیے کیونکہ پورا قانوں پڑھنے سے معلوم پڑتا ہے کہ اس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان سے تعلقات کو کتنی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

البتہ، ان کے مطابق، نۓ قانون میں امریکی حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کردار کے حوالے سے رپورٹ امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا کرے۔

ان کا کہنا تھا امریکی حکومت اس کو ایک موقع کے طور پر دیکھتی ہے اور ان کی (رچرڈ باؤچر کی) وزارت کو کوئی تعمل نہیں ہوگا کہ وہ پاکستان کے بارے میں اچھی رپورٹ لکھے اور کانگریس کو پاکستان کی جانب سے کیے گۓ اچھے اقدامات سے آگاہ کرے اور جو قربانیاں پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دی گئی ہیں ان سے امریکی قانون ساز اداروں کو مطلع کرے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کے کردار کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ پاکستان یہ جنگ کسی دوسرے ملک کے لیے نہیں بلکہ اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے کیونکہ پاکستان کو شدت پسندی اور انتہا پسندی کی وجہ سے سخت چیلینجز کا سامنا ہے۔

نئی حلقہ بندیاں
الیکشن کمیشن سے سابق ججوں و جرنیلوں کامطالبہ
مشرف’مشرف کا سایہ‘
مسلم لیگ میں اختلافات لیکن ٹوٹنے کا امکان کم
پاکستان الیکشنانتخابی ٹکٹ
مسلم لیگ (ق) اور خفیہ ایجنسیوں کا تعلق ؟
ووٹربینظیر بھٹو کامقدمہ
تین کروڑ ووٹروں کے مقدمے کی سماعت
انتخابی بدعنوانیاں
قومی اسمبلی میں شناختی کارڈ زیربحث
فائل فوٹوامریکی کشمکش
’دوسری بار وردی سے بہت کچھ بگڑ سکتا ہے‘
رچرڈ باؤچرباؤچر پاکستان میں
رچرڈ باؤچر کی صدر مشرف سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد