ہر ووٹر کو حق ملنا چاہیے: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیاء رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستانی ووٹروں کو آئندہ انتخابات میں صحیح معنوں میں اظہار رائے کا حق ملے اور ان کے ووٹ صحیح طور پر گنے جائیں۔ پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے امریکی نائب وزیرِخارجہ نے آئندہ عام انتخابات کے منصفانہ بنیادوں پر انعقاد پر زور یتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تا کہ ہر ووٹر کو موقع ملے کہ وہ ووٹ کا حق استعمال کرے۔ جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران رچرڈ باؤچر نے پاکستان میں عام انتخابات کے صاف اور شفاف طور پر انعقاد کے بارے میں امریکی حکومت کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ’ ہم نے ہمیشہ الیکشن کمیشن کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے اجتماعی طور پر ملاقات کرے اور انتخابات کے لیے بنیادی قواعد و ضوابط پر اتفاق پیدا کرے اور ان تمام باتوں پر ہم حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے جاری بات چیت میں امریکہ کے مبیینہ کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ کی تمام تر دلچسپی اس وقت اس بات پر ہے کہ پاکستان میں منصفانہ بنیادوں پر انتخابات منعقد کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کسی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانے کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا: ’ہماری کوشش ہے کہ تمام اہم سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق ملے اور ووٹروں کو اظہارِ رائے کا حق ملے۔‘ اسی حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ روشن خیال سیاست پر مبنی نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہو تا کہ پاکستان ایک روشن خیال ملک کے طور پر جانا پہچانا جائے، پاکستانی قوم روشن خیال لوگوں کے طور پر ابھرے اور شدت پسندی کا تدارک کیا جا سکے۔ رچرڈ باؤچر نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں شدت پسندی، پاکستان کے حوالے سے حال ہی میں بنائے گئے امریکی قانون، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کی موجودگی، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری بین الاقوامی جنگ میں کردار اور امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی دونوں ملکوں کے لیے اہمیت اور ان کے مابین جاری سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے حوالے سے بات کی۔ البتہ پریس کانفرنس میں کی گئی ان کی باتوں کے بارے میں اسلام آباد میں تعینات غیرملکی صحافیوں کا کہنا تھا کہ رچرڈ باؤچر نے پاکستان کے حوالے سے کوئی نئی بات نہیں کی ہے۔ امریکی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی پاکستان کے ساتھ مل کر ’قابلِ عمل‘ انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ البتہ، ان کے مطابق، نۓ قانون میں امریکی حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کردار کے حوالے سے رپورٹ امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا کرے۔ ان کا کہنا تھا امریکی حکومت اس کو ایک موقع کے طور پر دیکھتی ہے اور ان کی (رچرڈ باؤچر کی) وزارت کو کوئی تعمل نہیں ہوگا کہ وہ پاکستان کے بارے میں اچھی رپورٹ لکھے اور کانگریس کو پاکستان کی جانب سے کیے گۓ اچھے اقدامات سے آگاہ کرے اور جو قربانیاں پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دی گئی ہیں ان سے امریکی قانون ساز اداروں کو مطلع کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کے کردار کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ پاکستان یہ جنگ کسی دوسرے ملک کے لیے نہیں بلکہ اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے کیونکہ پاکستان کو شدت پسندی اور انتہا پسندی کی وجہ سے سخت چیلینجز کا سامنا ہے۔ |
اسی بارے میں امریکہ پاکستان میں جمہوریت کاخواہاں14 June, 2007 | پاکستان رچرڈ باؤچر کوئٹہ کے دورے پر14 June, 2007 | پاکستان باؤچر پاکستان کے’انتخابی مشن‘ پر13 June, 2007 | پاکستان ’پاکستان پر پالیسی وہی رہے گی‘07 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||