BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 July, 2007, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسامہ کا کوئی پتہ نہیں: پاکستان

اسامہ بن لادن (فائل فوٹو)
پاکستان اسامہ بن لادن کی موجودگی کے دعوؤں کی تردید کرتا رہا ہے
القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کے پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہونے کے امریکی دعویٰ کے بارے میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں‘۔

ُپیر کو دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے پاس کوئی ٹھوس معلومات ہیں یا ایسی اطلاعات جن پر عملدرآمد کیا جا سکے تو پاکستان کو ایسی تمام اطلاعات فراہم کی جانی چاہیے تاکہ پاکستان ان پر خود کارروائی کرے۔

امریکی اعلیٰ عہدیداروں کے حالیہ بیانات میں ان امکانات کا اظہار کیا گیا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوسکتے ہیں۔

ان امکانات کو رد کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ کسی بھی دوسرے ملک کی طرح پاکستان کو اس امکان پر تشویش لاحق ہے کہ اس کی سرحدوں کے اندر القاعدہ یا کوئی دوسری دہشت گرد تنظیم پناہ گاہ بنا رہی ہے یا گروپ بندی میں مصروف ہے یا دوبارہ سر اُٹھا رہی ہے۔

تسنیم اسلم نے امریکی اعلیٰ عہدیداروں کے تبصروں اور صدر بش کے حالیہ بیان کے جواب میں حکومتِ پاکستان کے مؤقف پر مبنی بیان پڑھ کر سُنایا جس میں امریکہ کو یہ بارور کرایا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو اپنی ملکی حدود کے اندر کسی دوسرے ملک کا حملہ قبول نہ ہوگا۔

البتہ جب اُن سے پوچھا گیا کہ امریکی حملے کی صورت میں حکومتِ پاکستان کا ردِ عمل کیا ہوگا تو اُن کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کچھ کہنا قیاس آرائی پر مبنی ہوگا۔

 پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اکٹھے ہیں اور کوئی بھی ایسا تاثر کہ دونوں ملکوں میں کسی سوال پر اختلاف پایا جاتا ہے تو اس سے دہشت گردی پر قابو پانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے
ترجمان دفترِ خارجہ

اُنہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پُر عزم ہیں کہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو خود دہشت گردوں کی وجہ سے خطرات درپیش ہیں جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی رہنماؤں پر حملے کیے اور معصوم لوگوں کو قتل کیا لہذٰا پاکستان اپنے مفاد میں دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ لڑ رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نہیں چاہے گی کہ کسی بھی جانب سے کوئی بھی ایسا غلط قدم اُٹھایا جائے جو مروجہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہ ہو اور جس کی وجہ سے قبائلی عوام میں ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی عمل دانشمندی پر مبنی نہ ہوگا اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اکٹھے ہیں اور کوئی بھی ایسا تاثر کہ دونوں ملکوں میں کسی سوال پر اختلاف پایا جاتا ہے تو اس سے دہشت گردی پر قابو پانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں تعاون کے بنیادی اصول طے ہیں جن کے مطابق پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرکوبی کے لیے کوئی بھی کارروائی کرنے کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان کی ہے۔ اس کے تحت پاکستان ٹھوس معلومات کی بنیاد پر اپنے وسائل سے کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

osamaمشرف کا اعتراف
’اسامہ بن لادن کا سراغ کھو چکے ہیں‘
اسامہ کہاں ہے؟
پاکستان سے نہ پکڑا جائے تو بہتر ہے: صدر مشرف
شیخ رشید کا کہا
’اسامہ کی حالیہ ٹیپ کی سی ڈی وانا میں بنی تھی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد