سرحد: سیلاب سے 126 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے اب تک تقریباً ایک سو چھبیس افراد ہلاک اور ایک سو پینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ بات منگل کو گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں بتائی گئی ہے۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے صوبہ سرحد کے چیف سکریٹری نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے صوبے میں اٹھانوے جبکہ قبائلی علاقوں میں اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول صوبہ سرحد کے ضلع چترال میں سب سے زیادہ یعنی پچھہتر اورقبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تیئس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گیارہ سو اٹھائیس مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ چھ ہزار چھ سو کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس طرح صوبے میں پانچ سو پینتالیس ملین روپے کا انفرا سٹرکچر بھی تباہ ہوا ہے۔ ان کے بقول خیبر ایجنسی میں ایک سو چار اور شمالی وزیرستان میں ایک سو سات مکانات مکمل اور سات سو ستر اور پانچ سو ستاسی کو بالترتیب جزوی نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعظم شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے سبق سیکھتے ہوئے حکومت سیلاب زدہ علاقوں میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب زیادہ توجہ امدادی سرگرمیوں مرکوز کر رہی ہے جبکہ صورتحال پر قابو پانے کے بعد ہی تعمیرِ نو کا کام شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک بریفنگ کے ذریعے عالمی برادری کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے تاہم انہوں نے یہ بات واضح کی کہ حکومتِ پاکستان اس سلسلے میں کسی بھی ملک یا مالیاتی ادارے سے قرضہ نہیں لے گی البتہ ان کی مدد کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ اجلاس کے دوران صوبے کے چیف سیکریٹری نے مر کزی حکومت سے مستقبل میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے چھوٹے ڈیموں اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر کے لیے تقریباً چار ارب روپے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے، ریلیف اور بحالی کے کاموں کے لیے صوبے کو فی الفور دو اعشاریہ سات ارب روپے درکار ہیں۔ وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ خیبر ایجنسی اور صوبے کے دیگر علاقوں کا فضائی دورہ بھی کیا۔ اجلاس میں گورنر سرحد محمد علی جان اورکزئی، وزیراعلیٰ سرحد اکرم خان درانی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے کے سربراہ میجر جنرل فاروق احمد خان، محمد علی درانی، وفاقی وزراء اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔ |
اسی بارے میں ہلاک شدگان 200 سے زیادہ03 July, 2007 | پاکستان گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں02 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: سیلاب سے ستر ہلاکتیں11 February, 2005 | پاکستان بلوچستان میں سیلاب سے 22 ہلاک10 February, 2005 | پاکستان صوبائی کابینہ اور سیلاب سے نقصانات 16 August, 2006 | پاکستان سیلاب و آسمانی بجلی سے 16 ہلاک16 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان بلوچستان کے سیلابی ریلے کی سندھ میں تباہی02 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||