BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 July, 2007, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: سیلاب سے 126 افراد ہلاک

سیلاب سے متاثرہ افراد (فائل فوٹو)
’بحالی کے کاموں کیلیے صوبے کو فی الفور 2.7 ارب روپے درکار ہیں‘
حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے اب تک تقریباً ایک سو چھبیس افراد ہلاک اور ایک سو پینتیس زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ بات منگل کو گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں بتائی گئی ہے۔

اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے صوبہ سرحد کے چیف سکریٹری نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے صوبے میں اٹھانوے جبکہ قبائلی علاقوں میں اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان کے بقول صوبہ سرحد کے ضلع چترال میں سب سے زیادہ یعنی پچھہتر اورقبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تیئس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گیارہ سو اٹھائیس مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ چھ ہزار چھ سو کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس طرح صوبے میں پانچ سو پینتالیس ملین روپے کا انفرا سٹرکچر بھی تباہ ہوا ہے۔

ان کے بقول خیبر ایجنسی میں ایک سو چار اور شمالی وزیرستان میں ایک سو سات مکانات مکمل اور سات سو ستر اور پانچ سو ستاسی کو بالترتیب جزوی نقصان پہنچا ہے۔

News image
 صوبہ سرحد میں گیارہ سو اٹھائیس مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ چھ ہزار چھ سو کو جزوی نقصان پہنچا ہے اور اس طرح صوبے میں پانچ سو پینتالیس ملین روپے کا انفرا سٹرکچر بھی تباہ ہوا ہے
چیف سیکریٹری

وزیراعظم شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے سبق سیکھتے ہوئے حکومت سیلاب زدہ علاقوں میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب زیادہ توجہ امدادی سرگرمیوں مرکوز کر رہی ہے جبکہ صورتحال پر قابو پانے کے بعد ہی تعمیرِ نو کا کام شروع کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک بریفنگ کے ذریعے عالمی برادری کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے تاہم انہوں نے یہ بات واضح کی کہ حکومتِ پاکستان اس سلسلے میں کسی بھی ملک یا مالیاتی ادارے سے قرضہ نہیں لے گی البتہ ان کی مدد کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

اجلاس کے دوران صوبے کے چیف سیکریٹری نے مر کزی حکومت سے مستقبل میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے چھوٹے ڈیموں اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر کے لیے تقریباً چار ارب روپے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے، ریلیف اور بحالی کے کاموں کے لیے صوبے کو فی الفور دو اعشاریہ سات ارب روپے درکار ہیں۔

وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ خیبر ایجنسی اور صوبے کے دیگر علاقوں کا فضائی دورہ بھی کیا۔ اجلاس میں گورنر سرحد محمد علی جان اورکزئی، وزیراعلیٰ سرحد اکرم خان درانی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے کے سربراہ میجر جنرل فاروق احمد خان، محمد علی درانی، وفاقی وزراء اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔

طوفان اور وارننگ؟
طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی: متاثرین
 متاثرین سیلاب’ایک دم برا حال ہے‘
’بچے بھوک سے مر رہے ہیں، سمندر بند پڑا ہے ‘
تربتتربت میں افراتفری
’پینےکا پانی نہیں، ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے‘
بارش کے بعد بےگھر عورتبارش کے بعد ہیضہ
کراچی میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ
اسی بارے میں
ہلاک شدگان 200 سے زیادہ
03 July, 2007 | پاکستان
بلوچستان میں سیلاب سے 22 ہلاک
10 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد