BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 June, 2007, 17:04 GMT 22:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی میں صحافیوں کااحتجاج

قومی اسمبلی
سپیکر نےصحافیوں کے خلاف کارروائی کے لیے اسمبلی سے تجاویز مانگیں
صحافیوں پر پابندیوں اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کے خلاف قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کو ہنگامہ آرائی ہوئی۔

پاکستانی پارلیمان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صحافیوں نے پارلیمنٹ کی پریس گیلری کے اندر احتجاج کیا ہے۔

انہوں نے ’ہم آزادی چاہتے ہیں، غنڈہ گردی کی سرکار نہیں چلے گی، میڈیا پر پابندی نامنظور، کے نعرے لگائے۔ان سے اظہار یکجہتی کے لیے حزب مخالف کے اراکین بھی ایوان کے اندر اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج میں شامل ہوئے۔

اس سے قبل آج صبح اجلاس شروع ہوا تو پارلیمان کی پریس گیلری سے صحافیوں نے واک آؤٹ کیا۔ سبب معلوم کرنے کےلیے سپیکر نے تین وزرا، ڈاکٹر شیر افگن نیازی، کامل علی آغا اور شاہد اکرم بھنڈر کو صحافیوں سے بات کرنے کے لیے بھیجا۔

صحافیوں نے انہیں بتایا کہ انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ان کو لفافوں میں گولیاں بھیجی جا رہی ہیں، وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور جس انداز میں نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات بند کی گئی ہیں وہ اظہار رائے کی آزادی کے منافی ہے۔

صحافیوں نے وزراء سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ نیا پیمرا آرڈیننس واپس لیا جائے کیونکہ اس میں حال ہی میں آرڈیننس کے ذریعے جو ترمیم کرتے ہوئے نکات شامل کیے گئے ہیں وہ پارلیمان نے قانون منظور کرتے وقت نکال دیے تھے اور اب وہ نکات شامل کرنا خود پارلیمان کی توہین ہے۔

صحافیوں اور وزراء کے درمیان بات چیت جاری تھی کہ بعض سرکاری ملازمین اور کچھ اخبارات کے شعبہ اشتہارات کے نمائندے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات پر اندر آ کر پریس گیلری میں بیٹھ گئے تاکہ وہ یہ تاثر دے سکیں کہ صحافیوں نے واک آؤٹ نہیں کیا ہے بلکہ کچھ صحافی موجود ہیں۔

اس پر کچھ سینئر صحافی ان کے پاس گئے اور ان کو سمجھایا کہ آپ صحافیوں کا واک آؤٹ سبوتاژ نہ کریں۔ ان کے نہ ماننے پر تلخی اور مارکٹائی ہوئی اور اس دوران کئی صحافی وہاں پہنچ گئے اور انہیں وہاں سے نکالا۔

اس کے بعد مشتعل صحافیوں نے ایوان کی گیلری کے اندر کھڑے ہو کر نعرے لگانا شروع کیے لیکن کچھ دیر کے بعد سینیئر صحافی انہیں گیلری سے پریس لاؤنج میں لے آئے۔

اس پر سپیکر اپنی نشست چھوڑ کر چلے گئے اور اجلاس کی کارروائی نہیں چل سکی۔ بعد میں سپیکر نے دوبارہ کارروائی شروع کی اور کہا کہ ایوان میں ایسا پہلےکبھی نہیں ہوا، اس لیے وہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

ایوان کے اراکین سے جب تجاویز طلب کی گئیں تو ڈاکٹر شیر افگن نیازی سمیت کئی حکومتی اراکین نے صحافیوں پر سخت تنقید کی اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

حزب اختلاف کے رہنما اعتزاز احسن اور دیگر نے کہا کہ ایوان کی ایک کمیٹی بنائی جائے۔انہوں نے سپیکر سے کہا کہ وہ صحافیوں کے خلاف کوئی یکطرفہ کارروائی نہ کریں۔ اور یہ کمیٹی معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ آخر ایسی نوبت کیوں آئی۔

حکومتی رکن ریاض پیرزادہ اور مسلم لیگ نواز کے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ معاملہ سپیکر اور صحافیوں کے درمیاں ہے اس لیے وہ مل بیٹھ کر حل تلاش کریں۔

سپیکر نے کہا کہ وہ عجلت میں کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے لیکن یہ ایوان کے تقدس کا معاملہ ہے اور وہ سوچ سمجھ کر کارروائی کریں گے۔ انہوں نے مزید کارروائی جمعرات کی صبح تک ملتوی کردی۔

بعد میں فوزیہ شاہد کی سربراہی میں صحافیوں کا چھ رکنی وفد سپیکر چودھری امیر حسین سے ملا اور انہیں بتایا کہ جعلی صحافیوں کو حکومت نے جان بوجھ کر پاس جاری کیے تاکہ یہ جھگڑا کرایا جاسکے۔

قومی اسمبلیاسمبلی میں صلح
سپیکر نے حزب اختلاف کے اراکین میں صلح کرا دی
وزیر قانون کا پُتلہاسمبلی کی باتیں
وزیرِ قانون کے لیے قواعد سے ’صرفِ نظر‘
کابینہ اور کورم مسئلہ
کابینہ کے ارکان کی تعداد بڑھی کورم مسئلہ بن گیا
پنجاب اسمبلیغیر پارلیمانی الفاظ
’اسمبلیاں نہ توڑنے والی قوتوں کا شکریہ‘
قومی اسمبلیالزامات، وضاحتیں
اسمبلی مراعات، شراب اور ’جغادری لکھاری‘
اسی بارے میں
حسبہ بل، حکومت مخمصے میں
14 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد