BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 September, 2004, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی میں کورم کا مسئلہ

کورم
بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے مزید ارکان اسمبلی کو کابینہ اور کمیٹیوں میں لینے کا وعدہ کیا ہے تا کہ وہ اجلاسوں میں دلچسپی لیں
پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے یوں تو ایک سو نوے سے بھی زائد اراکین ہیں لیکن جب سے باسٹھ رکنی کابینہ بنی ہے اس وقت سے آئے دن کورم پورا کرنا حکومت کے لیے مشکل مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

جمعہ کو بھی حزب اختلاف کے اراکین پہلے سے طے حکمت عملی کے مطابق ایک ایک کر کے ایوان سے باہر چلے گئے اور خواجہ آصف نے کورم کی نشاندہی کردی۔ جس کے بعد کچھ دیر کے لیے کاروائی معطل رہی لیکن حکومت نے اراکین کو لابیوں سے بلا بلا کر تعداد پوری کرلی۔

سپیکر نے گنتی کرائی تو کورم پورا نہیں تھا لیکن کچھ دیر بعد حکومت کورم کے لیے مطلوب ستاسی اراکین کی حاضری یقینی بنانے میں کامیاب ہوگئی اور یوں اجلاس کی کاروائی دوبارہ شروع ہوئی۔

کورم کا مسئلہ تو سابق وزراءاعظم ظفراللہ جمالی اور شجاعت حسین کے وقت میں بھی ہوتا تھا لیکن جب سے شوکت عزیزوزیراعظم بنے ہیں حزب اختلاف آئے دن کورم کا معاملہ اٹھاتی رہتی ہے۔

اجلاس میں بیشتر اراکین کی غیر حاضری اور عدم دلچسپی کی وجہ انہیں وزیر، پارلیمانی سیکریٹری یا ایوان کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ نہ ملنا بتائی جاتی ہے۔

پارلیمانی تاریخ میں وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ سب سے بڑی اور باسٹھ رکنی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وزیر بننے کے آرزومند اراکین کی تمنائیں پوری نہیں ہوئیں اور وہ اپنا غصہ شاید ایوان سے غیر حاضری کی صورت میں نکالتے ہیں۔

پہلے تو یہ شکایت رہتی تھی کہ وزراء ایوان میں نہیں آتے لیکن اب حکومتی بینچوں کی دو تین ابتدائی کرسیوں کی قطار میں صرف وزراء ہی وزراء ہوتے ہیں۔

سینیٹ میں تو جمعہ کی صبح ایک موقع پر یہ عالم تھا کہ حکومتی اراکین سینیٹ سے زائد وزراء بیٹھے تھے۔

حزب اختلاف کے رکن سید نوید قمر کا دعویٰ تھا کہ حکومت کے حامی کئی اراکین ان کے پاس آتے ہیں اور یقین دہانیوں کے باوجود بھی وزیر نہ بنائے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔

تین سو بیالیس اراکین کے اس ایوان میں کورم پورا کرنے کے لیے ایک چوتھائی یعنی ستاسی اراکین کا موجود رہنا لازمی ہے لیکن حکومتی بینچوں پر مطلوبہ تعداد میں اراکین کی غیر موجودگی کی وجہ سے اکثر کورم کا مسئلہ رہتا ہے۔

ایسی صورتحال کے بعد ماضی کی حکومتوں کی طرح شوکت عزیز حکومت نے بھی مزید وزراء کابینہ میں شامل کرنے کا چکر چلایا ہے تاکہ وزیر بننے کی تمنا رکھنے والے اراکین پھر سے ایوان کی کاروائی میں دلچسپی لیں اور حزب اختلاف والے انہیں کورم پورا نہ ہونے کا طعنہ نہ دے سکیں۔

پارلیمانی جمہوری روایات کے مطابق کسی بھی حکومت کے لیے اکثریت کے باوجود کورم پورا نہ رکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد