BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2004, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ سب طے تھا‘

جنرل پرویز مشرف
جنرل مشرف اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرحد اسمبلی میں کسی منظم سوچ کے تحت تیار کئے گئے منصوبہ سے صدر مشرف اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں آج کامیاب ہوگئے ہیں۔

اگرچہ ووٹوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جس پر فخر کیا جا سکے لیکن اصل بات تو اعتماد کی قرارداد کی کامیابی ہے جو انہیں باآسانی حاصل ہوئی۔

چاروں صوبائی اسمبلیوں میں سے اگر کہیں اس بات کا امکان تھا کہ اعتماد کی قرارداد منظور نہیں ہو سکے گی تو وہ ایک سو چوبیس اراکین والی سرحد اسمبلی ہی تھی۔

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اکثریت والے ایوان میں اس قرارداد کا نامنظور کروانا سرحد اسمبلی کے لئے کوئی بڑی بات نہیں تھی لیکن اس نے ایک ایسی پالیسی اپنائی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

مذہبی رہنما
سرحد اسمبلی میں مذہبی رہنماؤں کا زور ہے

وزیراعلیٰ سرحد اکرم خان درانی نے بعد میں صحافیوں سے بات چیت میں بتایا کہ انہوں نے وہی کیا جو کہ ان کی مرکزی قیادت نے انہیں کرنے کے لئے کہا تھا۔ ’یہ سب کچھ مرکزی قائدین کے جمالی حکومت کے ساتھ معاہدے میں طے کیا گیا تھا۔ ہم نے صرف اس پر عمل کیا ہے‘۔

اکرم خان درانی اس بات کا جواب بھی نہیں دے سکے کہ ان کے ایک رکن نے ایم ایم اے کے فیصلے کے خلاف صدر کو اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔ وہ صرف اتنا کہہ سکے کہ یہ رکن ایم ایم اے کے ٹکٹ پر عام انتخابات میں منتخب نہیں ہوا تھا بلکہ بعد میں شامل ہوا تھا اور انہیں اس کا علم نہیں۔ ’ایک بات واضع ہے کہ ہمارے تمام اراکین غریب ضرور ہیں لیکن کبھی بکے نہیں اور نہ بکیں گے۔‘

اتحاد میں شامل چھوٹی جماعت جمعیت علماء پاکستان کے ہری پور سے اختر نواز نے اسمبلی کے خصوصی اجلاس دیکھنے والے صحافیوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایم ایم اے کی جانب سے خیرسگالی کا ایک ووٹ تھا جو صدر کو ملا۔ ’جب ایم ایم اے کے تمام اراکین موجود ہیں تاکہ کورم کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو تو وہ بھی تو ایک طرح سے صدر کی مدد تھی۔‘

دوسری جانب اسمبلی میں حزب اختلاف کی تین جماعتوں مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین نے بھی کئی مبصرین کے خیال میں ایک تیر سے دو شکار کئے۔ ووٹ نہ دے کر انہوں نے اپنی مخالفت بھی ظاہر کردی جبکہ ساتھ میں صدر کے تیس ووٹوں کو کوئی چیلنج بھی درپیش نہیں ہونے دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما انور کمال خان کا کہنا تھا کہ وہ اس طریقہ کار کو ہی نہیں مانتے تو اس میں شامل ہوکر ’نہ‘ کا ووٹ کیوں دیں۔

بہرحال سیاست آج کے اجلاس میں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوا گر تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد