BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2003, 18:38 GMT 23:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: مشرف کے حامی اور مخالف
ایم ایم اے
سرحد میں ایم ایم اے کو ارسٹھ اراکین کے ساتھ اکثریت حاصل ہے

ہارون رشید، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

صدر پرویز مشرف کو اعتماد کا ووٹ دلوانے کے لئے صوبہ سرحد کی اسمبلی کا خصوصی اجلاس سوموار کو صبح گیارہ بجے طلب کیا گیا ہے۔ لیکن سب کی نظریں اس پر ہیں کہ صدر کو کتنے ووٹ ملیں گے۔

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل یا ایم ایم اے کا کردار یہاں کلیدی شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس اتحاد کو ایوان میں ارسٹھ اراکین کے ساتھ اکثریت حاصل ہے لیکن کیا وہ صدر کو ووٹ دیں گے یہ ابھی واضع نہیں۔

ایم ایم اے نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس رائے شماری میں حصہ نہیں لے گی اور غیرجانبدار رہے گے۔ لیکن ایسے اشارے بھی ہیں کہ ووٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ایم ایم اے نے اپنے اراکین پر چھوڑ دیا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ارکان اجلاس میں شریک ضرور ہوں گے لیکن ووٹ نہیں دیں گے۔ ’مرکزی قائدین کا فیصلہ سب کے لئے ایک جیسا ہوتا ہے۔’

عوامی نیشنل پارٹی
عوامی نیشنل پارٹی نے جس کے اراکین کی تعداد دس ہے پہلے ہی واضع اعلان کر دیا ہے کہ وہ صدر کو ووٹ نہیں دے گی

بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ اس مسئلہ پر ایم ایم اے میں اختلافات موجود ہیں۔ سخت گیر موقف رکھنے والی جماعت اسلامی، توقع ہے کہ اس عمل سے دور رہے گی۔ لیکن جمعیت علماء اسلام (ف) کے چند اراکین ووٹ دینے کے حق میں ہیں۔ ایم ایم اے کی دیگر چھوٹی جماعتوں کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید صدر کو ووٹ دے دیں۔

سرحد اسمبلی میں دیگر جماعتوں کی صورتحال البتہ اتنی مبہم نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے جس کے اراکین کی تعداد دس ہے پہلے ہی واضع اعلان کر دیا ہے کہ وہ صدر کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی میں شامل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین اور مسلم لیگ (ن) نے بھی ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح صدر سرحد میں صدر دو جماعتوں کے پندرہ ووٹوں سے محروم ہورہیں گے۔

پی پی پی پی کے اسمبلی میں پارلیمانی رہنما عبدالاکبر خان نے پشاور میں صحافیوں سے بات چیت میں ایک اور مسئلہ اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشنر کو اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کا ہرگز اختیار نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس نکتہ پر وہ جمعرات کے اجلاس میں احتجاج کریں گے۔ سابق سپیکر کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں صدر کو اعتماد کا ووٹ دینے کی کاروائی بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔

صدر کے ووٹ
مسلم لیگ (ق) کے دس اراکین، پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے تیرا اور چھ آزاد اراکین یقینی طور پر صدر کے ووٹ ہیں

ایوان میں ایک ایک نشت رکھنے والی دو جماعتوں عمران خان کی تحریک انصاف اور صوابی قومی محاذ کی اس موقع میں حکمت عملی کیا ہوگی یہ بھی ابھی واضع نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد