| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف نے توثیق کردی
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین میں سترھویں ترمیم کی توثیق کر دی ہے۔ اب یہ ترمیم سن تہتر کے آئین کا باقعدہ حصہ بن گئی ہے۔ جنرل مشرف دو ہزار سات تک پاکستان کے صدر رہیں گے اور اس ترمیم کے تحت وہ اب پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ کا حاصل کریں گے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اعتماد کے ووٹ کے لئے اسمبلیوں کے اجلاس یکم جنوری کو طلب کئے جائیں گے۔ اس سے قبل پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ نے ترمیم کے بِل کی منظوری دے دی تھی۔ ترمیم صفر کے مقابلے میں بہتر ووٹوں سے منظور ہوئی۔ پیر کو قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس ارکان میں سے اس بِل کی حمایت میں دو سو اڑتالیس ووٹ ڈالے گئے تھے۔ حزب اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ سترھویں ترمیم متحدہ مجلِس عمل کے ساتھ معاہدے کے بعد پیش کی گئی۔ اس بِل کے تحت صدر مشرف آئندہ سال کے آخر تک فوجی وردی اتار دیں گے۔ ترمیم کے تحت پارلیمان اور قومی اسمبلیوں کو برخاست کرنے کا اختیار صدر کے پاس بدستور رہےگا ، تاہم انہیں ایسا کرنے کے بعد پندرہ دن کے اندر سپریم کورٹ سے توثیق حاصل کرنی ہوگی۔ مبصرین کے خیال میں سترھویں ترمیم مشرف کے لئے ایک جیت ہے کیونکہ انہوں تھوڑے کے بدلے میں بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل مشرف کے اختیارات مستحکم ہوئے ہیں اور اس سے پاکستان کی پارلیمانی طرزِ حکومت صدارتی نظام جیسی ہوگئی ہے جس میں صدر کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||