BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 December, 2003, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سترہویں آئینی ترمیم کے مضمرات

آئین میں سترہویں ترمیم کا بِل بارہ اکتوبر انیس سوننانوے کو ملک میں فوجی حکومت کے قیام اور اس کے تمام اقدامات اور فیصلوں بشمول صدارتی ریفرینڈم آرڈر اور لیگل فریم ورک آرڈر کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

تاہم لیگل فریم ورک آرڈر یا ایل ایف او کے ذریعے کی گئی کچھ ترامیم کو واپس لے لیا گیا ہے۔

ایل ایف او کی وہ شقیں جنہیں واضح طور پر تبدیل یا ختم نہیں کیا گیا آئین کا حصہ رہیں گی۔ مثال کے طور پر ایل ایف او کے تحت آئین کے آرٹیکل سترہ میں میں ہونے والی ترمیم کے تحت سیاسی جماعتوں کے لئے اپنے مالی وسائل کا حساب دینا اور اپنے عہدیداروں کو منتخب کرنا لازمی ہوگا۔

ایل ایف او کی ایک اور شق کے تحت، جو سترہویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنے گی، اکتوبر سن دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

نئی ترمیم میں ایل ایف او میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع کو شامل نہیں کیا گیا۔ لیکن اِس ترمیم میں ان ججوں کی طرف سے کئے گئے فیصلوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا گیا جو انہوں نے ایل ایف او کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے بعد کئے تھے۔

اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت تین ایسے جج ریٹائر ہو جائیں گے جنہوں نے ایل ایف او کے خلاف آئینی درخواستوں کو مسترد کیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہے کہ حکومت کو اپنے سیاسی حلیفوں کی خاطر اپنے عدالتی حلیفوں کی قربانی دینی پڑی ہے۔

حکومت نے قومی سلامتی کونسل کے بارے میں آئین کا آرٹیکل ایک سو باون اے بھی واپس لے لیا ہے اور اب یہ ادارہ ایک سادہ بِل کے ذریعے تشکیل دیا جائے گا اور اِسے آئینی تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔

آئین کے آرٹیکل اکتالیس میں ترمیم کے ذریعے صدر کو اپنے ’الیکٹورل کالج‘ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا لیکن اس سے ایل ایف او کی وہ شق متاثرنہیں ہوتی جس کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف پانچ سال کے لئے ملک کے صدر قرار پائے ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا صدارت کی پانچ سالہ مدت ایل ایف او کی شق کے تحت شروع ہو گی یا ترمیمی بِل کے آئین کا حصہ بننے کے بعد سے۔

صدر کی طرف سے اسمبلیوں کی معطلی یا حکومتوں کی برطرفی کے فیصلے کے پندرہ دن کے اندر اندر معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھا جائے گا جو تیس دن کے اندر اپنا فیصلے سنائے گی۔ اسمبلیوں کی معطلی یا حکومتوں کی برطرفی کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوگا۔

آرٹیکل (5)48 جسکے تحت صدر کو قومی اسمبلی کی برطرفی کے بعد نگران کابینہ تشکیل دینے کا اختیار اپنی جگہ قائم ہے۔

سترہویں ترمیم میں چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے قیام کے بارے آرڈیننسوں اور سن دو ہزار کے پولیس آرڈر کو چھ سال کے لئے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

اس مدت کے دوران یہ آرڈیننس صدر کی رضامندی کے بغیر تبدیل، ختم یا اس میں ترمیم نہیں کی جا سکےگی۔

سترہویں ترمیم کا بِل آئین کے آرٹیکل دو سو انتالیس کے تحت پیش کیا گیا جس میں سن انیس سو تہتر سے لے کر اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ آرٹیکل تمام فوجی حکومتوں سے بچا رہا ہے اور اب صدر جنرل پرویز مشرف بجا طور پر موجودہ پارلیمنٹ سے اپنے دورِ حکومت کی تصدیق سن انیس سو تہترکے اصل آئین کے تحت کروانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

ملک کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کو خوش کرنے کی ایک کوشش میں ایک کمیٹی کے قیام کی قرارداد پیش کی جو انیس سو تہتر کے آئین میں ہونے والی تمام ترامیم کا جائزہ لے گی۔

دونوں سیاسی جماعتوں نے جو سترہویں ترمیم کے خلاف ہیں اس قرارداد کی حمایت کی۔

آئینی ترامیم کے از سر نو جائزے کے بارے میں مذکورہ قرارداد میں انیس سو اناسی کے حدود آرڈیننس اور احمدیوں کو غیر مسلم قراد دینے کے بارے میں ترمیم شامل نہیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد