| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بِل دو تہائی اکثریت سے منظور
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ نے آئینی ترمیم کے بِل کی منظوری دے دی ہے۔ ترمیم صفر کے مقابلے میں بہتر ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اے آر ڈی نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ سینٹ سے منظوری کے بعد صدر کے دستخطوں سے یہ بِل آئین کا حصہ بن جائے گا۔ اس سے قبل پیر کو قومی اسمبلی میں اس بِل کی حمایت میں دو سو اڑتالیس ووٹ ڈالے گئے تھے۔ قومی اسمبلی میں تین سو بیالیس ارکان کے ایوان میں آئینی ترامیم کے لئے دو تہائی اکثریت یعنی 228 ارکان کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ ایم ایم اے کے سوا حزب اختلاف کے ارکان نے قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس سے قبل اتوار کی رات کو حزب اقتدار متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے آئینی ترامیم کے بل پر بحث مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے حکومت پر بِل کی منظوری میں ’عجلت‘ دکھانے کا الزام لگایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||