BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 December, 2003, 21:33 GMT 02:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بِل دو تہائی اکثریت سے منظور

ایم ایم اے قیادت
بِل کی منظوری کے لئے ایم ایم اے کی حمایت ضروری تھی(فائل فوٹو)

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ نے آئینی ترمیم کے بِل کی منظوری دے دی ہے۔ ترمیم صفر کے مقابلے میں بہتر ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اے آر ڈی نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔

سینٹ سے منظوری کے بعد صدر کے دستخطوں سے یہ بِل آئین کا حصہ بن جائے گا۔

اس سے قبل پیر کو قومی اسمبلی میں اس بِل کی حمایت میں دو سو اڑتالیس ووٹ ڈالے گئے تھے۔

قومی اسمبلی میں تین سو بیالیس ارکان کے ایوان میں آئینی ترامیم کے لئے دو تہائی اکثریت یعنی 228 ارکان کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔

ایم ایم اے کے سوا حزب اختلاف کے ارکان نے قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اس سے قبل اتوار کی رات کو حزب اقتدار متحدہ مجلس عمل کے تعاون سے آئینی ترامیم کے بل پر بحث مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے حکومت پر بِل کی منظوری میں ’عجلت‘ دکھانے کا الزام لگایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد