| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ووٹ کے لیے ملاقاتیں
سترہویں آئینی ترمیم کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے جمعرات کے روز اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے صوبائی اسمبلیوں کے ممبران سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں جن میں وہ عوام کے منتخب نمائندوں سے ووٹ دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے صحافی احتشام الحق نے بی بی سی ریڈیو کو بتایا کہ منگل کو صدر نے ارکان صوبائی اسمبلی سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے سرحد اور پنچاب سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کئیں۔ صوبائی اسمبلیوں سے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہے گا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے صدر کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی بھی صدر کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ تاہم حکومت کے لیے چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی طرف سے صدر کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا فیصلہ حیران کن ہے۔ اتحاد کے رہنما قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کے ارکان اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کے ارکان نہ تو حق میں اور نہ ہی مخالفت میں ووٹ ڈالیں گے۔ متحدہ مجلس عمل اور حکومت میں مفاہمت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے آئین میں کی گئی ترامیم کو پارلیمان سے منظور کرایا جا سکا ہے۔ اس ترمیم سے ہی آئین میں یہ گنجائش پیدا کی گئی تھی کے صدر باقاعدہ منتخب ہونے کے بجائے اعمتاد کا ووٹ حاصل کر سکیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||