BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 May, 2007, 15:50 GMT 20:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ اسمبلی کا اجلاس شور شرابے کی نظر

سندھ اسمبلی: فائل فوٹو
اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن اراکین ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر کھڑے ہوگئے
کراچی میں بارہ مئی کو ہونے والی ہلاکتوں اور واقعات پر بحث کے لیے طلب کیا جانے والا سندھ اسمبلی کا اجلاس ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے دوران صرف بیس منٹ جاری رہنے کے بعد غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

سندھ اسمبلی کا یہ اجلاس اپوزیشن کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا اور ایک گھنٹے کی تاخیر سے جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن اراکین ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر کھڑے ہوگئے جن پر بارہ مئی کے واقعات کے بارے میں نعرے تحریر تھے۔

راہ فرار
 حکومت نے بارہ مئی کے واقعات پر بحث سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کی ہے
نثار کھوڑو

اجلاس کی صدارت کرنے والی ڈپٹی اسپیکر راحیلہ ٹوانہ نے رولنگ دی کہ جب تک پلے کارڈ نیچے نہیں کیے جائیں گے اجلاس کی کارروائی شروع نہیں ہوگی۔ اس رولنگ کے بعد اپوزیشن نے پلے کارڈ نیچے کر لیے۔

تلاوت اور نعت کے بعد جیسے ہی کارروائی شروع ہوئی تو دو اطراف سے نعرے لگائے گئے اور ایوان میں ایک مرتبہ پھر شور مچ گیا۔اس موقع پر اپوزیشن کے رکن رفیق انجنیئر نے ڈپٹی سپیکر پر جانبداری کا الزام عائد کیا۔

اس پر حکومتی اراکین نے رفیق انجنیئر سے معافی کا مطالبہ کیا اور اس شور کے دوران اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا اور بارہ مئی کے واقعات پر بحث اور نہ ہی ہلاک ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی ہو سکی۔

بات نہیں کی جا سکتی
 اسمبلی کے قوانین کے مطابق صدر اور گورنر کے خلاف بات نہیں کی جاسکتی۔ اپوزیشن اراکین پلے کارڈ لیکر آئے تھے
راحیلہ ٹوانہ

قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو نے بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بارہ مئی کے واقعات پر بحث سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کی ہے۔

نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے جو ازخود نوٹس لیا ہے اپوزیشن بھی اس میں فریق بنے گی اور تمام ثبوت فراہم کریگی۔

ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا اپوزیشن نے غلط انداز اختیار کیا تھا اور نعرے بازی کی جا رہی تھی۔ ’اسمبلی کے قوانین کے مطابق صدر اور گورنر کے خلاف بات نہیں کی جاسکتی۔ اپوزیشن اراکین پلے کارڈ لیکر آئے تھے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد