BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 May, 2007, 03:41 GMT 08:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی اہمیت مسلمہ ہے: قصوری
خورشید محمود قصوری
امریکہ اور پاکستان اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تصادم کی کیفیت کی وجہ سے امریکہ کو پاکستان کی بطور اتحادی ضرورت رہے گی، قطع نظر اس کے کہ اگلے سال امریکہ میں صدارتی انتخاب کون جیتتا ہے۔

جرمنی میں خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے خورشید قصوری کا کہنا تھا ’عراق کے حوالے سے اگر پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی بھی ہے تو میرا اپنا اندازہ ہے کہ افغانستان پھر بھی اگلی (امریکی) انتظامیہ کے لیے اہمیت کا حامل رہے گا‘۔

خورشید قصوری یورپی یونین اور ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے جرمنی کے شہر ہمبرگ پہنچے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’پاکستان کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنا ہے‘۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بش انتظامیہ پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک قیمتی اثاثہ سمجھتی ہے اور افغانستان میں جاری مغربی ممالک کے مشن کے حوالے سے اس کا تعاون اہمیت کا حامل ہے۔

عراق اور افغان پالیسی
 عراق کے حوالے سے اگر پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی بھی ہے تو میرا اپنا اندازہ ہے کہ افغانستان پھر بھی اگلی امریکی انتظامیہ کے لیے اہمیت کا حامل رہے گا
خورشید قصوری

لیکن امریکی ذرائع ابلاغ اور دانشوروں کا خیال ہے کہ واشنگٹن کو جنرل مشرف کی حمایت کے بارے میں دوبارہ سوچنا چاہیے، کیونکہ وہ پاکستان سے کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسندوں پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔

لیکن خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ ان کا تجزیہ یہ نہیں ہے۔ ’ ہمیں امریکی انتظامیہ یا قابل ذکر سینیٹرز اور اراکین کانگریس سے کبھی ایسی بات نہیں سننی پڑی۔ دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اور یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوگی‘۔

طالبان کے دوبارہ منظم ہونے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں حالات کشیدہ ہوئے ہیں اور دونوں ممالک طالبان کے ایک بار پھر متحرک ہونے کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔

اس صورتحال پر پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا ’دونوں ممالک اور باقی دنیا درپیش مشکلات کو سمجھتے ہیں اور اسی بناء پر میں نے کانفرنس کے درمیان اپنے افغان ہم منصب سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو ہر حال میں اپنے وطن واپس جانا ہوگا۔ ’سرحدی علاقوں کے ساتھ واقع پناہ گزینوں کے کیمپ ناپسندیدہ عناصر کے لیے جنت بنے ہوئے ہیں‘۔

ڈک چینیاسلام آباد پر دباؤ
ڈک چینی کا دورہ، پاکستان کی جھنجلاہٹ
پاکستان اور طالبان
امریکی کانگریس میں پاکستان پر نیا بِل
حامد کرزئیباڑ، بارودی سرنگیں
’پاک افغانستان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے‘
’تحمل سے کام لیں‘
کابل دورے کے بعد قصوری کا انٹرویر
افغان فوجپاک، افغان، امریکہ
پہلی مشترکہ فوجی مشقیں ختم ہو گئیں
ایف سولہF16 کا طویل سفر
1981 تا 2005 فورٹ ورتھ سے کیمپ ڈیوڈ تک
پاکستاننئی امریکی تحقیق
پاکستان ’ناکام ریاست‘ اور اب غیر مستحکم؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد