پاک افغان کمیشن کا اجلاس ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ جرگہ کمیشن کا دو روزہ اجلاس منگل کو اسلام آباد میں اختتام پزیر ہوگیا تاہم جرگے کی تاریخ اورطریقہ کار پر توقع کے برعکس کوئی اتفاق نہیں ہوسکا۔ افغان جرگہ کمیشن کے رکن اور افغان جرگہ سیکرٹریٹ کے سربرہ ڈاکٹر عبدالرحیم وردگ نے بی بی سی اردوڈاٹ کام کو بتایا کہ اجلاس میں اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاک افغان سرحد کے آرپار دیرپاامن کا حصول جرگے ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ جرگہ بلانے کی تاریخ اور طریقہ کار کا تعین دونوں ممالک کے جرگہ کمیشنوں کے اگلے اجلاس میں ہوگا جس کا انعقاد اپریل کے پہلے دو ہفتوں کے دوران کابل میں ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ ’حالیہ اجلاس میں تاریخ کا تعین اس لیے نہیں ہوسکا کہ پاکستانی وفد نے ان کو بتایا کہ انہوں نے اس سلسے میں زیادہ کام نہیں کیاہے لہذا انہیں مزید وقت دیاجائے۔‘ ڈاکٹر وردگ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ اس بات کا واضح طور پر اعتراف کیا کہ سرحد کے آرپار موجود مسائل کا حل جرگے کے انعقاد میں مضمر ہے۔ مذاکرات میں افغان وفد کی قیادت پیر سید احمد گیلانی جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر داخلہ اور جرگہ کمیشن کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کی۔ اجلاس کے بعد پاک افغان کمیشن کے اراکین نے پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز اور وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری سے ملاقات کی۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے اس موقع پر کہا کہ جرگے کے لیے ہونے والی کوششوں سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ افغانستان کے مسائل کا حل سیاسی طور پر تلاش کیا جارہا ہے۔ شوکت عزیز نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی اور انتہاپسندی کاسامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان جرگے کے رکن ڈاکٹر وردگ نے کہا ہے کہ انہوں نے اجلاس کے دوران پاکستان پر زور دیا کہ وہ کوشش کریں کہ جرگے کے انعقاد میں شفاف طریقہ کار اختیارکریں اور جرگے کے لیے عوام کے اصل نمائندوں کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ گزشتہ سال ستمبرمیں افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن میں صدر بش کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ پر ہونے والی بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سرحد کے آرپار شدت پسندوں کی نقل وحرکت روکنے اور قیام امن کے لیے ایک جرگہ بلایا جائے گا۔ پاکستان پہلے ہی قبائلی جرگے کے ذریعے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے کر چکا ہے جس پر بعض امریکی اہلکاروں کے علاوہ مغربی میڈیا نے شدید تنقید کی ہے۔تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کی وجہ سے علاقے میں امن لوٹ آیا ہے اور شدت پسندوں کو تنہا کردیا گیا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||