BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 May, 2007, 03:44 GMT 08:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چوبیس گھنٹے میں لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے

جسٹس افتخار
جسٹس افتخار سینکڑوں وکلاء کے ہمراہ جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جا رہے ہیں
غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا قافلہ اسلام آباد سے روانہ ہونے کے چوبیس گھنٹے بعد لاہور میں ہائی کورٹ کی عمارت تک پہنچا ہے جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں وکلاء نے ان کا بڑا گرمجوشی سے استقبال کیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ پہنچنے پر ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنوں اور وکلاء نے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور فضا ’گو مشرف گو‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

جسٹس افتخار چودھری پر زبردست گل پاشی کی گئی اور ان کی حمایت میں نعرے بھی لگائے گئے۔ اس موقع پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے لگائے گئے استقبالیہ کیمپوں پر لاوڈسپیکروں کے ذریعے قومی ترانے اور نغمے بجائے گئے۔

سینکٹروں گاڑیوں، ویگنوں اور بسوں پر مشتمل یہ قافلہ جن میں ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکن اور وکلاء شامل تھے سارا دن اور ساری رات سفر کرکے اتوار کی صبح چار بجے کے قریب شاہدرہ پہنچا تھا۔ شاہدرہ سے مینارِ پاکستان اور داتا دربار سے ہوتا ہوا یہ قافلہ تقریباً پانچ گھنٹے میں لاہور ہائی کورٹ پہنچا۔

لاہور میں سیاسی کارکنوں اور وکلاء کے علاوہ چیف جسٹس کے استقبال کے لیے عام آدمی بھی بہت بڑی تعداد میں سڑکوں پر موجود تھے جبکہ قافلے کے راستے کے دونوں اطراف عمارتوں پر عورتوں اور بچے بھی بڑی تعداد میں نظر آرہے تھے۔

ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود پانچ سے چھ ہزار وکلاء کا جوش و خروش سارا دن اور ساری رات کے انتظار کے باوجود کم نہیں ہوا۔

ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلاء کے علاوہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے متعدد سابق جج بھی شامل تھے جن میں پاکستان کے سابق صدر رفیق تارڑ سب سے نمایاں تھے۔ اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے کئی ججوں نے بھی رات اپنے چیمبر میں ہی گزاری۔

اسلام آباد سے لاہور تک تمام راستے میں جبری طور پر معطل کیئے گئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا جگہ جگہ پر والہانہ استقبال کیا گیا۔

اسلام آباد اور لاہور کے درمیان تمام بڑے چھوٹے شہروں میں چیف جسٹس کا زبردست استقبال کیا گیا۔ جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ میں ان کا بڑے پیمانے پر استقبال ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

جہلم اور گوجرانوالہ میں صورت حال چھوٹے چھوٹے ناخوشگوار واقعات کی وجہ سے کچھ کشیدہ بھی ہوگئی تھی لیکن مجموعی طور پر یہ قافلہ جس میں شامل لوگوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا بڑے پرامن انداز میں اپنی منزل تک پہنچ گیا۔

انیس سو اٹھاسی میں بے نظیر بھٹو کی لاہور آمد کے بعد سے اتنے بڑے پیمانے پر کسی اور سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت کے استقبال کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔

اسلام آباد سے لاہور تک اس قافلے کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے رفاقت علی کے مطابق تمام راستے صدر جنرل پرویز مشرف وکلاء، سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں کی طرف سے لگائے گئے نعروں کا نشانہ رہے۔

گجرات میں پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الہی اور حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔ چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہی کے آبادی شہر گجرات میں جس پیمانے پر چیف جسٹس کا استقبال ہوا اس کو بھی مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔

گجرات ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار نے کہا کہ وکلاء کو اب قانون کی حکمرانی کا بیڑا اٹھا لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار نے انہیں دوبارہ بلایا تو وہ خصوصی طور پر گجرات آئیں گے۔

جسٹس افتخار لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت آئے ہیں، جہاں وہ وکلاء کے ایک اجتماع سے رات دیر گئے خطاب کرینگے۔ وہ لاہور کے لیے سنیچر کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سینکڑوں وکلاء کے ہمراہ گاڑیوں کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے تھے۔

جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
احتجاجسیاسی میلے
وکلا کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں آئی
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد