BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 January, 2007, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو: دوسرے دن بھی حالات کشیدہ

فوجی
عاشورہ کے موقع پر علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا تھا (فائل فوٹو)
صوبہ سرحد کے جنوب مغربی شہر ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو کچھ افراد نے کرفیو کے دوران شہر میں جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم فوج نے ان پر ہوائی فائرنگ کرکے انہیں منتشر کردیا۔

اس طرح کی اطلاعات بھی ہے کہ علاقے میں جنگ چھڑ گئی ہے تاہم حکام اس کی تردید کر رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر میں حالات سخت کشیدہ ہیں اور مختلف علاقوں سے راکٹ اور مارٹر گولوں کی آوازیں آرہی ہیں۔

ہنگو کے ضلعی رابط افیسر فخر عالم محمد زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح کچھ افراد نے شاہو روڈ سے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم فوجی دستوں نے ان پر ہوائی فائرنگ کرکے انہیں منتشر کردیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے محلہ گنجانو کلے سے جلوس نکالنے کی کوشش کی تھی تاہم فوج نے ان پر فائرنگ کرکے منتشر کرنے کی کوشش کی جبکہ اس دوران شہر پر مختلف علاقوں سے راکٹ اور مارٹر گولے بھی نامعلوم مقامات سے داغے گئے۔

قبل ازیں کرفیو کے نفاذ اور علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کی خاطر مقامی انتظامیہ نے علاقے میں عاشورۂ محرم کے موقع پر علم اور ذوالجناح کے جلوسوں کی اجازت نہیں دی تھی۔

گزشتہ سال ہنگو میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے (فائل فوٹو)

ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امام بارگاہ پر راکٹ حملے اور فائرنگ کے واقعات کے بعد شہر کے اطراف میں رہنے والوں لوگوں نے علاقے میں ممکنہ جھڑپوں کے پیش نظر بچوں اور عورتوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ عاشورہ کی صبح ہنگو میں قومی امام بارگاہ کے سامنے راکٹ گرنے اور اس کے بعد فائرنگ کے واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ چودہ زخمی ہوگئے تھے جس کے فوری بعد شہر کو فوج کے حوالے کر کے وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

دو روز پہلے پشاور میں خود کش حملے کے بعد سے پورے ملک میں عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ پیر کو بنوں امام بارگاہ پر بھی راکٹ حملہ کیا گیا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔

گزشتہ سال فروری میں ہنگو بازار میں عاشورہ کے دن خودکش حملے اور فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ چھ سو زائد دوکانوں کو جلایا گیا تھا۔

ہنگو سے رپورٹ
جیسے یہاں گھمسان کی جنگ ہوئی ہو۔۔۔
امن کی ایک کوشش
ہنگو میں شیعہ سنی رہنما اعلامیے پر متفق
ہنگوہنگو میں زندگی بند
تاجروں کو فسادات کے بعد کئی مسائل کا سامنا
اسی بارے میں
ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ
10 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد