ہنگو: دوسرے دن بھی حالات کشیدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوب مغربی شہر ہنگو میں کرفیو کے دوران فائرنگ کے ایک تازہ واقعہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ اہلِ تشیع کے ایک جلوس پر بھی فائرنگ کی گئی ہے جس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ ہنگو میں ڈسٹرکٹ خطیب اور شیعہ رہنما علامہ خورشید احمد جوادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کی دوپہر دو بجے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں اہلکاروں کی کڑی نگرانی میں اہلِ تشیع کا ایک جلوس قومی امام بارگاہ سے نکالا گیا جو روایتی راستوں سے ہوتا ہوا پاسکلی میں جاکر اختتام پزیر ہوا۔ تاہم عینی شاہدین اور دیگر ذرائع دعوی کررہے ہیں کے کچھ لوگوں نے بازار میں جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن اطراف کے علاقوں سے ان پر فائرنگ کے باعث وہ منتشر ہوگئے جبکہ جلوس میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ اس سلسلے میں ایس پی ہنگو اور ضلعی رابط افسر سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن وہ کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ خورشید احمد جوادی نے بتایا کہ بس سٹینڈ کے قریب جلوس پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی، موقع پر موجود سکیورٹی فورسزز نے بھی جوابی فائرنگ کی تاہم جلوس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ ہنگو میں ڈسٹرکٹ خطیب اور شیعہ رہنما علامہ خورشید احمد جوادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جلوس خیر وعافیت سے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اختتام پزیر ہوا۔ تاہم کچھ علاقوں سے اطلاعات ملی ہیں کہ راکٹ اور مارٹر گولوں کی فائرنگ سے ایک شخص کے ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گنجانو کلے میں کچھ لوگ گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مارٹر گولہ ان کے قریب گر کر پھٹ گیا جس سے وہاں پر موجود ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔
ایک عینی شاہد سراج علی جو جلوس میں موجود تھے انہوں نے بتایا کہ جلوس میں تقریباً پانچ سو کے قریب عزاداروں نے شرکت کی اور ان سب کا تعلق ہنگو شہر سے تھا جبکہ باہر سے کسی کو جلوس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل تشیع نے اس موقع پر خود بھی جلوس کی سیکورٹی کا انتظام کیا ہوا تھا اور عزاداروں کے علاوہ کسی کو جلوس کے قریب نہیں آنے دیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور کرفیو کا سلسلہ جاری ہے جبکہ شہر اور مضافاتی علاقوں سے وقفے وقفے سے ہلکی اور بھاری اسلحے کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہے۔ بعض علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ علاقے میں کرفیو نافذ ہوئے تیس گھنٹے سے زائد ہوگئے ہیں تاہم ابھی تک انتظامیہ کی طرف سے نرمی برتنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے جس سے شہر اور اطراف کے علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ قبل ازیں ہنگو کے ضلعی رابط افیسر فخر عالم محمد زئی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بدھ کی صبح کچھ افراد نے شاہو روڈ سے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم فوجی دستوں نے ان پر ہوائی فائرنگ کرکے انہیں منتشر کردیا۔ عاشورہ کے موقع پر کرفیو کے نفاذ اور علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کی خاطر مقامی انتظامیہ نے علاقے میں عاشورۂ محرم کے موقع پر علم اور ذوالجناح کے جلوسوں کی اجازت نہیں دی تھی۔
ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امام بارگاہ پر راکٹ حملے اور فائرنگ کے واقعات کے بعد شہر کے اطراف میں رہنے والوں لوگوں نے علاقے میں ممکنہ جھڑپوں کے پیش نظر بچوں اور عورتوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ عاشورہ کی صبح ہنگو میں قومی امام بارگاہ کے سامنے راکٹ گرنے اور اس کے بعد فائرنگ کے واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ چودہ زخمی ہوگئے تھے جس کے فوری بعد شہر کو فوج کے حوالے کر کے وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ دو روز پہلے پشاور میں خود کش حملے کے بعد سے پورے ملک میں عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ پیر کو بنوں امام بارگاہ پر بھی راکٹ حملہ کیا گیا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔ گزشتہ سال فروری میں ہنگو بازار میں عاشورہ کے دن خودکش حملے اور فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ چھ سو زائد دوکانوں کو جلایا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں ہنگو: کرفیونافذ، جلوس پر پابندی30 January, 2007 | پاکستان عاشورہ: فوج اور فرنٹیئر کور تعینات29 January, 2007 | پاکستان ’پشاور حملہ آور کا سراغ نہیں ملا‘29 January, 2007 | پاکستان ڈیرہ آئی خان میں خود کش حملہ29 January, 2007 | پاکستان پشاور میں دھماکے کے عینی شاہد28 January, 2007 | پاکستان ٹانک میں دھماکہ، ہنگو میں فائرنگ21 January, 2007 | پاکستان ہنگو:شیعہ سنی امن معاہدہ طے پا گیا11 February, 2006 | پاکستان ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ 10 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||